میں آزاد ہوں

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
آج آزادی کے نام پر بہت سے نعرے بلند کیے جاتے ہیں۔۔۔
کسی کے نزدیک آزادی ہر حد کو توڑ دینے کا نام ہے۔۔۔
تو کسی کے نزدیک خواہشات کی بے لگام پیروی کا۔۔۔
اور کسی کے نزدیک ہر بندھن سے بے نیاز ہو جانے کا۔۔۔
مگر میں نے آزادی کو ایک اور صورت میں پہچانا ہے۔۔۔
میں آزاد ہوں۔۔۔
میرا دین مجھے ہر اس زنجیر سے آزاد کرتا ہے جو روح کو باندھ لے۔۔۔
ہر اس خواہش سے جو انسان کو انسان کا غلام بنا دے۔۔۔
اور ہر اس تعلق سے جو مجھے میرے رب سے دور کر دے۔۔۔
میں فخر و غرور کے بوجھ سے آزاد ہوں۔۔۔
تکبر کی پستیوں سے آزاد ہوں۔۔۔
غیبت کے اندھیروں اور چغلی کی آگ سے آزاد ہوں۔۔۔
اور ہر اس برائی سے آزاد ہوں جو دل کی پاکیزگی کو چھین لیتی ہے۔۔۔
میں فکرِ معاش کے اندھے خوف سے آزاد ہوں۔۔۔
کیونکہ میرا یقین اس رب پر ہے جس کے خزانوں میں کبھی کمی نہیں آتی۔۔۔
میں لوگوں کی رضا کی اسیری سے آزاد ہوں۔۔
کیونکہ میری پیشانی صرف ایک رب کے حضور جھکتی ہے۔۔۔
میرے دین نے مجھے عزت دی ہے۔۔۔
اس نے مجھے بہن بنایا تو میری کفالت کو جنت کا راستہ قرار دیا۔۔۔
بیٹی بنایا تو میرے وجود کو رحمت کہا۔۔۔
ماں بنایا تو میرے قدموں تلے جنت رکھ دی۔۔۔
اور بیوی بنایا تو مجھے سکون و مودّت کا ذریعہ ٹھہرایا اور میرے ساتھ حسنِ سلوک کو جنت کی بشارت بنا دیا۔
میرے رشتوں کو صرف نام نہیں دیے گئے۔۔۔
بلکہ ان کے ساتھ محبت، احترام اور تقدس بھی وابستہ کیا گیا۔۔۔
بہن، بیٹی، ماں، بیوی، خالہ اور پھپھو ۔۔۔ ہر نسبت میں میرے لیے عزت رکھی گئی۔
وہ زمانے بھی گزرے ہیں جب بیٹیوں کو زندہ درگور کر دیا جاتا تھا۔۔۔
مگر میرے دین نے مجھے زندگی دی۔۔۔
میرے وجود کو ذلت سے نکالا۔۔۔
میری حرمت کو محفوظ کیا۔۔۔
میرے حقوق کو قائم کیا۔۔۔
اور میرے لیے عزت کی حدیں مقرر کیں۔۔۔
اسی لیے میری آزادی بے راہ روی میں نہیں۔۔۔
میری آزادی اپنے رب کی عبادت میں ہے۔۔۔
میری آزادی خواہشات کی غلامی میں نہیں۔۔۔
بلکہ میرے نبی محمد ﷺ کی اطاعت میں ہے۔۔۔
دنیا جسے پابندی سمجھتی ہے، میں اسے رحمت سمجھتی ہوں۔۔۔
دنیا جسے Limitation کہتی ہے، میں اسے عزت کا حصار جانتی ہوں۔۔۔
اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ آزادی کیا ہے، تو میں دنیا کے نعروں سے نہیں، اپنے ایمان سے جواب دوں گی۔۔۔
آزاد وہ نہیں جو ہر خواہش کے پیچھے بھاگتا رہے۔۔۔
آزاد وہ نہیں جو لوگوں کی تعریف، ان کی رضا اور ان کی نگاہوں کا اسیر ہو۔۔۔
آزاد تو وہ ہے جو ایک اللہ کا ہو جائے، اور پھر کسی اور کا نہ رہے۔۔۔
مگر اتنا جتنا اللہ تعالیٰ چاہے۔۔۔
کہ لوگوں کے ساتھ معاملات و تعلقات بھی اس رب العالمین کی رضا کے لیے ہوں۔۔۔
پس۔۔۔
میں آزاد ہوں۔۔۔
کیونکہ میرا رب میرا مالک ہے۔۔۔
اور جو اللہ تعالیٰ کی بندگی میں آ جائے، وہ کسی اور کی غلامی میں نہیں رہتا۔۔۔
یہی میری پہچان ہے۔۔۔
یہی میری شان ہے۔۔۔
اور یہی میری آزادی ہے۔۔۔
الحمدللہ
والسلام
آمنہ چاہل
مزید تحریریں

ہمارے بچے، ڈیجیٹل بھیڑیوں کے چنگل میں باب دوم: بھیڑیوں کی شناخت | قسط 2: ڈیجیٹل بھیڑیے کون ہیں؟
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم رسول اللہ ﷺ کا فرمان مبارک ہے: «كُلُّكُمْ رَاعٍ، وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ» "تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے، اور تم میں سے ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔" "ہر…
مضمون پڑھیں →
ہمارے بچے ڈیجیٹل بھیڑیوں کے چنگل میں | جب محافظ آنکھیں بند کر لیں۔۔۔
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ڈیجیٹل دور میں مسلم والدین کے لیے ایک تربیتی سلسلہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان مبارک ہے: «كُلُّكُمْ رَاعٍ، وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ» "تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے، اور تم میں سے ہر ایک سے…
مضمون پڑھیں →
حکمتِ گفتگو کے پانچ "ک" | حصہ دوم: پہلا "ک" : کسے کہنا ہے؟
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ہم میں سے اکثر لوگ بولنے سے پہلے صرف یہ سوچتے ہیں کہ "مجھے کیا کہنا ہے؟" حالانکہ اس سے بھی پہلے ایک سوال پوچھنا چاہیے: "مجھے یہ بات کسے کہنی ہے؟" یہ سوال معمولی محسوس ہوتا ہے، مگر بہت سے…
مضمون پڑھیں →