علم بغیر عمل۔۔۔

بسم الله الرحمن الرحيم
بارك الله فيك ✨
ایک بات سمجھیے کہ تبدیلی overnight نہیں آتی۔۔۔ البتہ ہمیں سیکھے گئے علم پر عمل کرنا ہے۔۔۔ کہ یہ علم روزِ قیامت ہمارے حق میں حجت بنے ، ہمارے خلاف حجت نہ بنے۔۔۔ اللہ تعالیٰ نے سوال تو کرنا ہے کہ جو علم سیکھا تھا اس پر عمل کتنا کیا۔۔۔
اگر عمل میں سستی آرہی ہے تو دیکھا جائے کہ زندگی میں جانے انجانے میں کوئی ایسے گناہ تو نہیں ہیں جو عمل کی توفیق میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔۔۔ ایسی صورت میں سچی توبہ کا اہتمام کرتے ہوئے کثرت سے استغفار کریں۔۔۔
کثرت سے تلاوت قرآن مجید بھی دلوں کی نرمی کا باعث بنتی ہے اور زندگی میں برکت و توفیق کے دروازے کھولتی ہے۔
اپنے آپ کو صالحین اور باعمل لوگوں کی صحبت میں رکھنا بھی عمل کرنے پر ابھارتا ہے کہ صحبت اثر رکھتی ہے۔
سب سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ سے دعا۔۔۔ جہاں بے عملی نظر آرہی ہے ، توفیق نہیں مل رہی تو دعا میں ہاتھ اٹھا دیں۔۔۔ خاص طور پر تہجد کے اوقات میں اٹھ کر دعا مانگیں ، رو رو کے سجدوں میں مانگیں۔۔۔ آپ کی تڑپ کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ نامراد نہیں رکھے گا۔
جہاں تک دوسرے سوال کی بات ہے۔۔۔
تو گھر میں رہتے ہوئے آپس میں اختلافات ہوسکتے ہیں۔ اختلافات کو نارمل سمجھ کر قبول کرنا سیکھیں کہ ہر بندے کا نقطہ نظر مختلف ہوتا ہے۔ ان کو اپنی انا کا مسئلہ بنائیں گے تو جھگڑے جنم لیں گے۔۔۔
جب یہ سمجھ لیا کہ اگلے بندے کی سوچ مجھ سے مختلف ہے ، چیزوں کو دیکھنے کا انداز مختلف ہے تو جہاں اختلاف پیدا ہوا وہاں دوسرے کی رائے کا احترام کرتے ہوئے خاموش ہو جائیں۔۔۔ ضروری نہیں کہ آپ اپنی رائے سے دستبردار ہوں لیکن دوسرے کی رائے کو بھی رد نہ کریں ( عام گھریلو معاملات میں، جب تک بات شریعت کی حدود میں رہتی ہے)۔۔۔
اور دل میں یہ گنجائش بھی رکھیں کہ ضروری نہیں گھر کا ہر معاملہ آپ کی مرضی کے مطابق ہو۔ آپس میں مل جل کر رہنا ہے تو دل میں اتنی وسعت پیدا کریں کہ گھر کے دیگر افراد کی رائے کو اہمیت دیں ، گھر کوئی جنگی محاذ نہیں ہوتے اور نہ ہی گھر والے ہمارے دشمن ہوتے ہیں ( چاہے میکہ ہو یا سسرال ) تو کبھی اگلے بندے کی بات مان لی اور کبھی منوا لی۔۔۔
جب آپ ماننے والی ہوں گی ، عاجزی و انکساری کا مظاہرہ کریں ، تکبر و نخوت سے دور رہیں گی، اپنے اقوال و افعال سے باقی گھر کے افراد کے لیے بھلائی کا اظہار کریں گی تو دوسروں کے دل خود بخود آپ کے لیے نرم ہوں گے ان شاءاللہ اور ان کو آپ کی ماننے میں دِقّت نہیں ہوگی۔
مزید یہ کہ دعا کو لازم پکڑیں۔۔۔ اللہ تعالیٰ سے دعا کیا کریں
اللهمّ ألِّفْ بَيْنَ قُلُوبِنَا وَ أصْلِحْ ذَاتَ بَينِنَا
کہ اے اللہ! ہمارے دلوں میں باہمی الفت پیدا فرمادے اور ہمارے باہمی معاملات کی اصلاح فرمادے۔۔۔
بجائے اس کے کہ گھر کے افراد کو کوسیں یا بد دعائیں دیں ، خلوص دل سے دعا کیا کریں۔۔۔ ان شاءاللہ ضرور فایدہ ہوگا۔
اللہ تعالیٰ ہمیں علم نافع کے ساتھ ساتھ عمل صالح کی توفیق سے نوازے اور ہمیں رشتوں کو خلوص و محبت سے نبھانے کا ہنر و حکمت سکھادے۔۔۔ آمین!
- آمنہ چاہل
مزید تحریریں

حکمتِ گفتگو کے پانچ "ک" (حصہ چہارم | تیسرا "ک" : کیا کہنا ہے؟)
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم اگر آپ نے صحیح شخص کا انتخاب بھی کر لیا۔۔ صحیح وقت کا انتظار بھی کر لیا۔۔۔ تب بھی ایک سوال باقی رہتا ہے: آخر کہنا کیا ہے؟ کیونکہ ہر وہ بات جو ہمارے دل میں آئے، زبان پر آنا ضروری نہیں۔۔۔ اور ہر…
مضمون پڑھیں →رشتوں میں وسعتِ قلبی
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم چند دن پہلے ایک بہن کے سٹیٹس پر دیکھا، لکھا ہوا تھا: "اس دن کا انتظار ہے جب میرا بیٹا بڑا ہو جائے اور کہے: ماما! آپ پریشان نہ ہوں، میں ہوں نا۔۔۔" 🤍 پھر چند دن بعد ایک دوسری بہن کا میسج ملا۔…
مضمون پڑھیں →کچھ تذکرہ ان کی حیا کا بھی لکھوں۔۔۔
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم اسلاف کی زندگیوں سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ صالحیت صرف انسان تک محدود نہیں رہتی۔۔۔ بلکہ اس کے اثرات اس کی آنے والی نسلوں تک منتقل ہوتے ہیں۔۔۔ اور اسی طرح فسق و فجور بھی صرف فرد تک نہیں رہتا،…
مضمون پڑھیں →