تعارفتحریریںغور و فکرسوال و جوابویڈیوزکتابیںآراءرابطہ

رشتوں میں وسعتِ قلبی

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

چند دن پہلے ایک بہن کے سٹیٹس پر دیکھا، لکھا ہوا تھا:

"اس دن کا انتظار ہے جب میرا بیٹا بڑا ہو جائے اور کہے: ماما! آپ پریشان نہ ہوں، میں ہوں نا۔۔۔" 🤍

پھر چند دن بعد ایک دوسری بہن کا میسج ملا۔ کہنے لگیں:

"ہم الگ رہتے ہیں، پھر بھی میرے خاوند گھر کے اخراجات کے لیے اپنی والدہ کو رقم بھیجتے ہیں۔۔۔ اور میری ساس یہ بھی چاہتی ہیں کہ میرے خاوند اپنی بہن کی شادی کے سلسلے میں بھی کچھ نہ کچھ خرچ کریں۔ مجھے یہ بات تکلیف دیتی ہے، جبکہ ہماری اپنی بھی ضروریات ہیں، اور میرے سسر میری ساس اور اپنی بیٹی کی ضروریات پوری کرنے پر قادر بھی ہیں۔"

اب ذرا واپس پہلی مثال کی طرف چلیے۔۔۔

ماں کی آنکھوں کے خواب اور اپنے بیٹے سے وابستہ امیدوں کو محسوس کیجیے۔

ایک ماں جس بیٹے کے بارے میں سوچتی ہے کہ ایک دن وہ بڑا ہوگا، اس کا سہارا بنے گا، اس کے لیے کھڑا ہوگا۔۔۔

اب واپس دوسری مثال پر آئیے۔۔۔

بیٹا بڑا ہوچکا ہے، شادی شدہ ہے، اور بیوی نہیں چاہتی کہ وہ اپنی فیملی یعنی میاں بیوی کے علاوہ کسی اور پر خرچ کرے۔

بہنو! 🌸

رزق کی تنگی اور فراخی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ اگر آپ کے خاوند اپنے والدین اور بہن بھائیوں پر خرچ کرتے ہیں تو اس پر جلنے کڑھنے کے بجائے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا کریں کہ اس نے ان کی کمائی کو ایک اچھا مصرف عطا کیا ہے۔

والدین کی ضروریات پوری کرنے کا، ان کی خدمت میں خرچ کرنے کا، ان کی دعائیں سمیٹنے کا اور صلہ رحمی کا اس سے بہتر مصرف اور کیا ہوسکتا ہے؟

ہمارے معاشرے میں یہ سوچ آہستہ آہستہ رواج پکڑتی جارہی ہے کہ:

"سب کچھ میرا ہو۔۔۔"

"میرے علاوہ کسی کا حق نہ ہو۔۔۔"

"جو کچھ خاوند کمائے، وہ صرف میری اور میرے بچوں کی ملکیت ہو۔۔۔"

یہ سوچ ہرگز خیر والی نہیں ہے۔۔۔

نعمتیں صرف اپنے لیے جمع کرلینا ہی کامیابی نہیں؛ مل بانٹ کر کھانے سے برکت بھی آتی ہے، اور دوسروں کے حقوق ادا کرنے سے دلوں میں محبت پیدا ہوتی ہے

اور یاد رکھیے، جب ہم اپنے مال میں دوسروں کا حق تسلیم کرتے ہیں تو شیطان کو دلوں میں حسد، بدگمانی اور دوریاں پیدا کرنے کے مواقع بھی کم ہوجاتے ہیں۔

ہم تو خود اپنی جان و مال کے مطلق مالک نہیں ہیں، پھر خاوند کی کمائی اور اس کی تمام چیزوں پر اس طرح ملکیت جتانے کی کوشش کیوں کی جائے کہ اس کے دوسرے جائز رشتے دار محروم ہوجائیں؟

ہاں، یہ بالکل درست ہے کہ خاوند اپنی استطاعت کے مطابق معروف کے مطابق بیوی کی ضروریات پوری کرنے کا ذمہ دار ہے۔ لیکن اس حق کا مطلب یہ نہیں کہ بیوی خاوند کی پوری کمائی پر قبضہ کرلے اور اس کے والدین، بہن بھائیوں یا دیگر جائز مستحق رشتہ داروں کے حقوق کو نظر انداز کرنے لگے

اپنا حق لینا درست ہے، لیکن دوسروں کا حق روک لینا خیر نہیں ہے۔

ذرا اپنے کل کو بھی یاد رکھیے۔۔۔

آج آپ کا بیٹا آپ کے لیے سہارا بننے کا خواب ہے، کل وہ کسی اور کا شوہر بھی ہوگا۔

جس محبت، وسعتِ قلب اور تعاون کی آپ کل اپنے بیٹے سے امید رکھتی ہیں، آج انہی رشتوں کے ساتھ معاملہ کرتے ہوئے اپنے دل میں بھی وہی وسعت پیدا کیجیے۔

اللہ تعالیٰ ہمارے احوال پر رحم فرمائے، ہمارے دلوں میں کشادگی پیدا فرمائے، ہمیں حسد اور حرص سے محفوظ رکھے، اور ہمیں اپنے مال کو صحیح جگہ خرچ کرنے اور انفاق فی سبیل اللہ و صلہ رحمی کی توفیق عطا فرمائے۔

آمین 🤲🏻

  • آمنہ چاہل
تمام تحریریں

مزید تحریریں

حکمتِ گفتگو کے پانچ "ک" (حصہ چہارم |  تیسرا "ک" : کیا کہنا ہے؟)

حکمتِ گفتگو کے پانچ "ک" (حصہ چہارم | تیسرا "ک" : کیا کہنا ہے؟)

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم اگر آپ نے صحیح شخص کا انتخاب بھی کر لیا۔۔ صحیح وقت کا انتظار بھی کر لیا۔۔۔ تب بھی ایک سوال باقی رہتا ہے: آخر کہنا کیا ہے؟ کیونکہ ہر وہ بات جو ہمارے دل میں آئے، زبان پر آنا ضروری نہیں۔۔۔ اور ہر…

مضمون پڑھیں

کچھ تذکرہ ان کی حیا کا بھی لکھوں۔۔۔

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم اسلاف کی زندگیوں سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ صالحیت صرف انسان تک محدود نہیں رہتی۔۔۔ بلکہ اس کے اثرات اس کی آنے والی نسلوں تک منتقل ہوتے ہیں۔۔۔ اور اسی طرح فسق و فجور بھی صرف فرد تک نہیں رہتا،…

مضمون پڑھیں
حکمتِ گفتگو کے پانچ "ک" (حصہ سوم  |  دوسرا "ک" :  کب کہنا ہے؟)

حکمتِ گفتگو کے پانچ "ک" (حصہ سوم | دوسرا "ک" : کب کہنا ہے؟)

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کبھی آپ نے غور کیا ہے کہ ایک ہی جملہ۔۔۔ ایک وقت پر محبت محسوس ہوتا ہے، اور دوسرے وقت پر طعنہ۔۔۔ ایک لمحے میں نصیحت بن جاتا ہے، اور دوسرے لمحے میں توہین۔۔۔ ایک موقع پر دل میں اتر جاتا ہے، اور…

مضمون پڑھیں