حکمتِ گفتگو کے پانچ "ک" (حصہ چہارم | تیسرا "ک" : کیا کہنا ہے؟)

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
اگر آپ نے صحیح شخص کا انتخاب بھی کر لیا۔۔
صحیح وقت کا انتظار بھی کر لیا۔۔۔
تب بھی ایک سوال باقی رہتا ہے:
آخر کہنا کیا ہے؟
کیونکہ ہر وہ بات جو ہمارے دل میں آئے، زبان پر آنا ضروری نہیں۔۔۔
اور ہر وہ بات جو سچ ہو، اسے بیان کرنا بھی ہر وقت ضروری نہیں۔۔۔
یہ وہ مقام ہے جہاں انسان کی عقل، تقویٰ اور حکمت کا امتحان ہوتا ہے۔
بعض لوگ اپنی ہر بات کو اس جملے سے درست ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں:
"میں تو صرف سچ بولتا ہوں۔"
لیکن اسلام نے صرف سچ بولنے کی تعلیم نہیں دی، بلکہ بھلی بات بولنے کی تعلیم دی ہے۔
رسول اللہ ﷺ کا فرمان مبارک ہے:
«"جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہو، اسے چاہیے کہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے۔"»
غور کیجیے۔۔۔
حدیث میں "سچی بات" نہیں فرمایا، بلکہ "اچھی بات" فرمایا گیا ہے۔
کیونکہ بعض اوقات کوئی بات حقیقت تو ہوتی ہے، مگر نہ اس میں خیر ہوتی ہے، نہ فائدہ، نہ اصلاح۔
ہر سچ کہنا ضروری نہیں
فرض کیجیے۔۔۔
کوئی شخص اپنی کسی کمزوری پر پہلے ہی شرمندہ ہے۔
آپ کو بھی اس کی خامی معلوم ہے۔
کیا ہر بار اسے وہی خامی یاد دلانا ضروری ہے؟
یا کوئی بہن نئے نئے حجاب کی طرف آئی ہے، مگر اس میں ابھی بھی کچھ کوتاہیاں ہیں۔۔۔
کیا اس کی ہر غلطی فوراً گنوا دینا اصلاح ہے؟
یا پہلے اس کے اچھے قدم کی حوصلہ افزائی کرنا زیادہ حکمت ہے؟
سچ کا مقصد انسان کو گرانا نہیں، بلکہ اٹھانا ہونا چاہیے۔۔۔
کیا میری بات فائدہ دے گی؟
بولنے سے پہلے خود سے ایک سوال پوچھیے:
"جو میں کہنے جا رہا ہوں، اس سے کیا حاصل ہوگا؟"
اگر اس سے کسی کی اصلاح ہوگی، کسی کا حوصلہ بڑھے گا، کوئی غلطی رک جائے گی یا کوئی حق واضح ہوگا، تو یہ گفتگو اپنی جگہ درست ہو سکتی ہے۔
لیکن اگر اس کا نتیجہ صرف دل آزاری، شرمندگی، فضول بحث یا نفرت ہے، تو خاموشی زیادہ قیمتی ہو سکتی ہے۔
ہر بات جو کہی جا سکتی ہے، ضروری نہیں کہ کہی بھی جائے۔۔۔
طنز، طعنہ اور تحقیر۔۔۔ یہ بھی گفتگو ہے
بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ جھوٹ نہیں بولتے، اس لیے ان کی زبان محفوظ ہے۔
حالانکہ زبان صرف جھوٹ سے خراب نہیں ہوتی۔
طنز، تمسخر، القاب سے پکارنا، دوسروں کو نیچا دکھانا، ہر وقت تنقید کرنا، بات بات پر عیب نکالنا، یہ سب بھی گفتگو ہی کی صورتیں ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے سورۃ الحجرات میں ان تمام چیزوں سے منع فرمایا، کیونکہ یہ دلوں میں نفرت پیدا کرتی ہیں اور بھائی چارے کو نقصان پہنچاتی ہیں۔
ایک مؤمن کی زبان دوسروں کو زخمی کرنے کے لیے نہیں، بلکہ خیر پہنچانے کے لیے ہوتی ہے۔
کیا میں مسئلہ بیان کر رہا ہوں یا شخصیت پر حملہ؟
یہ فرق سمجھنا بہت ضروری ہے۔
کسی سے کہنا:
"یہ کام درست نہیں ہوا۔"
اور یہ کہنا:
"تم سے کبھی کوئی کام درست ہو ہی نہیں سکتا۔"
دونوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔
پہلے جملے میں اصلاح ہے۔
دوسرے میں تحقیر۔۔۔
اسی طرح یہ کہنا:
"مجھے اس بات سے تکلیف ہوئی۔"
اور یہ کہنا:
"تم ہمیشہ ایسے ہی ہوتے ہو۔"
یہ بھی دو مختلف انداز ہیں۔
حکمت یہ ہے کہ ہم مسئلے پر بات کریں، انسان کی شخصیت کو نشانہ نہ بنائیں۔
مثبت الفاظ بھی صدقہ ہیں
ہم اکثر سوچتے ہیں کہ اچھی گفتگو صرف نصیحت کا نام ہے۔
حالانکہ کبھی ایک تعریف، ایک دعا، ایک شکریہ، ایک حوصلہ افزا جملہ، یا ایک سچا اعتراف بھی کسی کے لیے زندگی بدل دینے والا ثابت ہو سکتا ہے۔
کتنے لوگ ایسے ہیں جنہیں صرف اس لیے آگے بڑھنے کا حوصلہ ملا کیونکہ کسی نے ان سے کہا:
"اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر دے۔"
"آپ نے بہت اچھا کام کیا ہے۔"
"مجھے آپ پر فخر ہے۔"
یہ بھی حسنِ گفتگو کا حصہ ہے۔
ہم غلطیوں کی نشاندہی میں تو جلدی کرتے ہیں، مگر خوبیوں کی تعریف میں اکثر کنجوسی کر جاتے ہیں۔
خود سے پوچھیے۔۔۔
بولنے سے پہلے صرف ایک لمحہ رک کر خود سے پوچھیں:
- کیا یہ بات حق پر مبنی ہے؟
- کیا اس میں خیر ہے؟
- کیا یہ فائدہ پہنچائے گی؟
- کیا اس سے اصلاح ہوگی یا صرف دل دکھے گا؟
- اگر یہی الفاظ مجھے کہے جائیں تو کیا مجھے اچھے لگیں گے؟
یہ چند سوال ہماری بہت سی غیر ضروری گفتگو کو روک سکتے ہیں۔
یاد رکھیے۔۔۔
ہر وہ بات جو زبان پر آ جائے، اسے کہہ دینا آزادی نہیں، بلکہ بے احتیاطی بھی ہو سکتی ہے۔
دانائی یہ نہیں کہ انسان کے پاس کہنے کے لیے بہت کچھ ہو۔
دانائی یہ ہے کہ وہ جانتا ہو کہ ان میں سے کیا کہنا ہے، اور کیا اپنے دل ہی میں رہنے دینا ہے۔
اسی لیے حکمتِ گفتگو کا تیسرا اصول ہے:
بولنے سے پہلے صرف یہ نہ سوچیے کہ "میں بول سکتا ہوں"، بلکہ یہ بھی سوچیے کہ "جو میں بولنے جا رہا ہوں، کیا واقعی وہی بات کہنی چاہیے؟"
والسلام
آمنہ چاہل
(Life Skills Trainer, Islamic Life Coach)
مزید تحریریں
رشتوں میں وسعتِ قلبی
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم چند دن پہلے ایک بہن کے سٹیٹس پر دیکھا، لکھا ہوا تھا: "اس دن کا انتظار ہے جب میرا بیٹا بڑا ہو جائے اور کہے: ماما! آپ پریشان نہ ہوں، میں ہوں نا۔۔۔" 🤍 پھر چند دن بعد ایک دوسری بہن کا میسج ملا۔…
مضمون پڑھیں →کچھ تذکرہ ان کی حیا کا بھی لکھوں۔۔۔
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم اسلاف کی زندگیوں سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ صالحیت صرف انسان تک محدود نہیں رہتی۔۔۔ بلکہ اس کے اثرات اس کی آنے والی نسلوں تک منتقل ہوتے ہیں۔۔۔ اور اسی طرح فسق و فجور بھی صرف فرد تک نہیں رہتا،…
مضمون پڑھیں →
حکمتِ گفتگو کے پانچ "ک" (حصہ سوم | دوسرا "ک" : کب کہنا ہے؟)
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کبھی آپ نے غور کیا ہے کہ ایک ہی جملہ۔۔۔ ایک وقت پر محبت محسوس ہوتا ہے، اور دوسرے وقت پر طعنہ۔۔۔ ایک لمحے میں نصیحت بن جاتا ہے، اور دوسرے لمحے میں توہین۔۔۔ ایک موقع پر دل میں اتر جاتا ہے، اور…
مضمون پڑھیں →