کچھ تذکرہ ان کی حیا کا بھی لکھوں۔۔۔
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
اسلاف کی زندگیوں سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ صالحیت صرف انسان تک محدود نہیں رہتی۔۔۔ بلکہ اس کے اثرات اس کی آنے والی نسلوں تک منتقل ہوتے ہیں۔۔۔ اور اسی طرح فسق و فجور بھی صرف فرد تک نہیں رہتا، بلکہ نسلوں کو متاثر کرتا ہے۔۔۔
جب گھر میں بھائیوں کے ہاں بیٹیوں کی پیدائش ہوئی تو دل میں ایک عجیب سی احتیاط جاگی۔۔۔
کہ اب تک تو بھلائی کے راستے پر چلنے کی کوشش کرتے رہے ہیں، مگر اب اس سے بھی بڑھ کر اہتمام کرنا ہوگا۔۔۔
تاکہ ہماری نسل کو ہمارے ایسے نقوش ملیں جو واقعی پیروی کے لائق ہوں۔۔۔ ان شاءاللہ!
چنانچہ ہر معاملے میں مزید احتیاط کو لازم پکڑ لیا۔۔۔۔
واللہ الموفق!
والدہ اکثر اپنی بڑی بہن، خالہ فاطمہ کا ذکر کیا کرتی ہیں۔۔۔جو ان کی شادی سے پہلے ہی وفات پاچکی تھیں۔۔۔وہ چھ بہنوں میں سب سے بڑی تھیں۔۔۔
نانا جان کے گھر کا ماحول ایسا تھا کہ کوئی غیر محرم رشتہ دار بھی گھر میں نہیں آتا تھا۔۔۔ نانی اماں اور بیٹیاں بھی بلا ضرورت کہیں آتی جاتی نہ تھیں۔۔۔ تمام خالائیں الحمدللہ پردے کی پابند اور صاحبِ تقویٰ تھیں۔۔۔
لیکن امی جان خاص طور پر خالہ فاطمہ کا ذکر کرتی ہیں۔۔۔
وہ نہایت باحیا، باپردہ اور عبادت گزار و متقی خاتون تھیں۔۔۔
انہوں نے گھر میں ایک چھوٹی سی مسجد بنائی تھی۔۔۔ جہاں وہ اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کو قرآنِ مجید پڑھاتیں، اور دینی کتابیں پڑھ کر سنایا کرتی تھیں۔۔۔
ان کی حیا کا ایک واقعہ بڑا عجیب اور دل کو چھو لینے والا ہے۔۔۔
جب انہوں نے گھر میں مسجد بنانے کا ارادہ کیا تو خواہش تھی کہ گاؤں کی جامع مسجد کی طرح بنائیں۔۔۔ مگر چونکہ گھر سے نکلتی نہ تھیں، اس لیے یہ طے کیا کہ رات کے وقت، اندھیرے میں چھت پر جا کر مسجد کے مینار کا نقشہ دیکھیں گی۔۔۔
رات کا انتخاب اس لیے کیا کہ کہیں دن کی روشنی میں کسی غیر محرم کی نظر نہ پڑ جائے۔۔۔
پھر رات کو چھت سے مسجد کا نقشہ دیکھتیں، اور دن میں اسے ذہن میں رکھ کر اپنے ہاتھوں سے مسجد تعمیر کرتیں۔۔۔
اللہ اکبر۔۔۔
یہ وہ حیا تھی۔۔۔ جو صرف سنی نہیں جاتی۔۔۔ بلکہ محسوس بھی ہوتی ہے۔۔۔ سبحان اللہ!
امی جان ایک اور واقعہ سناتی ہیں۔۔۔ کہ خالہ فاطمہ کی منگنی اپنے تایا زاد سے ہوئی تھی۔۔۔ مگر قریبی رشتہ ہونے کے باوجود انہوں نے اپنے منگیتر کو دیکھا نہیں تھا۔۔۔
ایک دن دروازے کے قریب کھڑی تھیں کہ کسی نے دروازہ کھولا، تو تایا کے گھر کے باہر ایک شخص تعمیراتی کام کر رہا تھا۔۔۔
انہوں نے چھوٹی بہنوں سے کہا: شاید تایا اپنے گھر میں تعمیر کا کام کروا رہے ان کے گھر کے باہر کوئی مزدور کام کر رہا ہے۔۔۔
بہنیں ہنس پڑیں اور کہنے لگیں: وہ مزدور نہیں، آپ کا منگیتر ہے۔۔۔
امی جان بتاتی ہیں کہ ہم سب بہنیں ہنسنے لگیں، اور خالہ فاطمہ حیا سے سرخ ہو گئیں۔۔۔ سبحان اللہ، کیسی پاکیزہ طبیعت تھی۔۔۔
اللہ تعالیٰ خالہ فاطمہ کی قبر کو جنت کے باغات میں سے ایک وسیع و عریض باغ بنائے، اور ہمیں بھی ایسی حیا اور تقویٰ اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے… آمین!
امی جان اکثر مجھ سے کہتی ہیں: آمنہ، تم اپنی خالہ فاطمہ جیسی ہو۔۔۔ شکل و صورت میں بھی اور انداز و سوچ میں بھی۔۔۔
اور میں سوچتی ہوں۔۔۔ کہ ہم جیسے لوگ تو ان کے نقشِ پا کی گرد کو بھی نہیں پہنچ سکتے۔۔۔
البتہ یہ بات سن کر دل ضرور محتاط ہو جاتا ہے۔۔۔
کہ میری بھتیجیوں اور بھانجیوں کو میرے ذریعے کیسا اثر ملے گا۔۔۔؟
نانا جان نے اپنی بیٹیوں کی ایسی تربیت کی تھی کہ وہ جس گھر بھی بیاہی گئیں، اپنے گھروں کو تھامے رکھا۔۔۔ تنگی و پریشانی میں صبر و شکر کے ساتھ زندگی گزاری۔۔۔
اللھم بارک! سب کثیر الاولاد تھیں۔۔۔
اور ان کی حیا کا عالم یہ تھا۔۔۔
کہ چند سال پہلے ایک خالہ کی وفات ہوئی (اللهم اغفر لها وارحمها)۔۔۔ تو ان کے ہمسائے گواہی دے رہے تھے کہ ہم نے نہ کبھی ان کی آواز سنی۔۔۔ اور نہ ہی ان کے پاؤں کا ناخن تک دیکھا۔۔۔
تو میری بہنو۔۔۔!
یاد رکھیے۔۔۔ نسلیں صرف نصیحتوں سے نہیں۔۔۔ بلکہ نصیحت اور عمل کے امتزاج سے بنتی ہیں۔۔۔
آپ کی حیا۔۔۔ آپ کا تقوی۔۔۔ آپ کی آنے والی نسلوں کی پہچان بنے گا۔۔۔
اللہ تعالیٰ ہمیں فہم، اخلاص ، حیا، تقوی عطا فرمائے اور اپنی نسلوں کی درست تربیت کی توفیق کے ساتھ ان کے لیے بہترین اسوہ و نمونہ چھوڑنے کی توفیق سے بھی نوازے۔۔۔ آمین!
- آمنہ چاہل
مزید تحریریں

حکمتِ گفتگو کے پانچ "ک" (حصہ سوم | دوسرا "ک" : کب کہنا ہے؟)
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کبھی آپ نے غور کیا ہے کہ ایک ہی جملہ۔۔۔ ایک وقت پر محبت محسوس ہوتا ہے، اور دوسرے وقت پر طعنہ۔۔۔ ایک لمحے میں نصیحت بن جاتا ہے، اور دوسرے لمحے میں توہین۔۔۔ ایک موقع پر دل میں اتر جاتا ہے، اور…
مضمون پڑھیں →
ہمارے بچے، ڈیجیٹل بھیڑیوں کے چنگل میں باب دوم: بھیڑیوں کی شناخت قسط 3: انسان کے روپ میں شکاری
بسم الله الرحمن الرحيم "ہر شکاری اپنے دانت نہیں دکھاتا، بعض شکاری صرف مسکراتے ہیں۔" اللہ تعالیٰ کا فرمان مبارک ہے: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ ۚ وَمَن يَتَّبِعْ خُطُوَاتِ…
مضمون پڑھیں →
ہمارے بچے، ڈیجیٹل بھیڑیوں کے چنگل میں باب دوم: بھیڑیوں کی شناخت | قسط 2: ڈیجیٹل بھیڑیے کون ہیں؟
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم رسول اللہ ﷺ کا فرمان مبارک ہے: «كُلُّكُمْ رَاعٍ، وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ» "تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے، اور تم میں سے ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔" "ہر…
مضمون پڑھیں →