تعارفتحریریںغور و فکرسوال و جوابویڈیوزکتابیںآراءرابطہ

حکمتِ گفتگو کے پانچ "ک" (حصہ سوم | دوسرا "ک" : کب کہنا ہے؟)

حکمتِ گفتگو کے پانچ "ک" (حصہ سوم  |  دوسرا "ک" :  کب کہنا ہے؟)

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

کبھی آپ نے غور کیا ہے کہ ایک ہی جملہ۔۔۔

ایک وقت پر محبت محسوس ہوتا ہے، اور دوسرے وقت پر طعنہ۔۔۔

ایک لمحے میں نصیحت بن جاتا ہے، اور دوسرے لمحے میں توہین۔۔۔

ایک موقع پر دل میں اتر جاتا ہے، اور دوسرے موقع پر دل کا دروازہ ہی بند کر دیتا ہے۔۔۔

فرق الفاظ میں نہیں ہوتا۔۔۔

فرق وقت میں ہوتا ہے۔۔۔

اسی لیے حکمت صرف یہ نہیں کہ انسان صحیح بات کرے، بلکہ یہ بھی ہے کہ صحیح وقت پر صحیح بات کرے۔

بدقسمتی سے ہم میں سے بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جیسے ہی کوئی بات ذہن میں آئے، فوراً کہہ دینی چاہیے۔

ہم اسے صاف گوئی، بے باکی یا حق گوئی کا نام دیتے ہیں۔۔۔

حالانکہ اسلام نے ہمیں صرف حق بات کہنا نہیں سکھایا، بلکہ حکمت کے ساتھ حق بات کہنا بھی سکھایا ہے۔۔۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان مبارک ہے:

«﴿ادْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ﴾»

«"اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ دعوت دیجیے۔" (سورۃ النحل: 125)»

حکمت کا ایک اہم معنی یہ بھی ہے کہ ہر بات کو اس کے مناسب وقت پر رکھا جائے۔

ہر وقت نصیحت کا وقت نہیں ہوتا:

فرض کیجیے۔۔۔

ایک شخص ابھی ابھی اپنے کام سے تھکا ہارا گھر آیا ہے۔

ایک ماں پورا دن بچوں کی دیکھ بھال کے بعد ذہنی طور پر تھک چکی ہے۔

ایک طالب علم امتحان میں ناکامی کے بعد پہلے ہی مایوس بیٹھا ہے۔

ایسے وقت میں اگر ہم اصلاح کی نیت سے بھی گفتگو کریں تو بہت ممکن ہے کہ وہ بات دل تک پہنچنے کے بجائے بوجھ بن جائے۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ نصیحت نہ کی جائے۔

بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ دل کے دروازے کھلنے کا انتظار بھی حکمت کا حصہ ہے۔۔۔

غصے کے وقت گفتگو اکثر مسئلہ بڑھا دیتی ہے:

غصہ انسان سے وہ الفاظ بھی کہلوا دیتا ہے جن پر بعد میں برسوں پچھتاوا ہوتا ہے۔

اسی لیے جب جذبات قابو میں نہ ہوں تو گفتگو کو مؤخر کر دینا کمزوری نہیں، بلکہ پختگی کی علامت ہے۔

بعض اوقات ایک گھنٹے کی خاموشی، ایک سال کی معذرت سے زیادہ قیمتی ثابت ہوتی ہے۔۔۔

ہم اکثر کہتے ہیں:

"اس وقت نہ کہا تو تو پھر کب کہنا ہے؟"

حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ بہت سی باتیں اسی لیے ناکام ہوئیں کیونکہ اسی وقت کہہ دی گئیں۔

خوشی اور غم، دونوں کے اپنے آداب ہیں:

کسی کی خوشی کے موقع پر اس کی پرانی غلطیاں یاد دلانا مناسب نہیں۔

کسی کے غم کے وقت اس پر تنقید کرنا بھی حکمت نہیں۔

کسی کی کامیابی کے فوراً بعد اس کی خامیاں گنوانا، یا کسی کی ناکامی کے لمحے میں "میں نے پہلے ہی کہا تھا" کہنا، یہ ایسے جملے ہیں جو دل پر دیر تک نقش رہتے ہیں۔

ایک صاحبِ حکمت انسان جانتا ہے کہ بعض اوقات خاموش رہ کر ساتھ دینا، بول کر سمجھانے سے زیادہ مؤثر ہوتا ہے۔

ہر سچ فوری نہیں بولا جاتا:

یہ ایک نہایت اہم اصول ہے۔

لوگ اکثر کہتے ہیں:

"میں تو منہ پر بات کرنے والا انسان ہوں۔"

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہر سچی بات فوراً کہہ دینا بھی حکمت ہے؟

اگر کسی سچ کو چند گھنٹے، چند دن یا کسی بہتر موقع تک مؤخر کرنے سے دل بھی محفوظ رہ سکتا ہو اور اصلاح بھی ہو سکتی ہو، تو یہی زیادہ دانش مندی ہے۔

حق بات کہنا ضروری ہے، لیکن حق بات کو مؤثر انداز میں پہنچانا بھی ضروری ہے۔

رسول اللہ ﷺ کی مبارک تعلیمات :

رسول اللہ ﷺ لوگوں کے حالات، ان کی کیفیت اور ان کی استعداد کو دیکھ کر گفتگو فرمایا کرتے تھے۔

آپ ﷺ ہر شخص سے ایک ہی انداز میں، ایک ہی مقدار میں اور ایک ہی وقت پر گفتگو نہیں فرماتے تھے۔

یہی وجہ تھی کہ آپ کی نصیحت دلوں میں اترتی تھی، بوجھ نہیں بنتی تھی۔۔۔

یہ ہمارے لیے بھی ایک اہم سبق ہے کہ مخاطب کی حالت کو سمجھے بغیر گفتگو کرنا ہمیشہ مفید نہیں ہوتا۔

خود سے پوچھیے۔۔۔

جب بھی آپ کسی اہم بات کا ارادہ کریں، ایک لمحے کے لیے رک جائیں اور خود سے پوچھیں:

  1. کیا سامنے والا اس وقت سننے کی کیفیت میں ہے؟
  2. کیا اس کے جذبات اس بات کو قبول کر سکیں گے؟
  3. کیا اگر میں یہ بات کچھ دیر بعد کروں تو اس کا اثر زیادہ ہوگا؟
  4. کیا میں یہ بات غصے میں کر رہا ہوں یا خیرخواہی میں؟
  5. اگر ان سوالوں کے جواب اطمینان بخش نہ ہوں تو شاید ابھی خاموش رہنا ہی زیادہ بہتر ہو۔

یاد رکھیے۔۔۔

حکمت صرف یہ نہیں کہ آپ کے پاس کہنے کے لیے صحیح الفاظ ہوں، بلکہ یہ بھی ہے کہ آپ کو صحیح وقت کا انتظار کرنا آتا ہو۔

کبھی کبھی ایک بے وقت نصیحت، نصیحت نہیں رہتی، الزام بن جاتی ہے۔۔۔

اور کبھی صحیح وقت پر کہے گئے چند نرم الفاظ، برسوں سے بند دل کا دروازہ کھول دیتے ہیں۔۔۔

اسی لیے حکمتِ گفتگو کا دوسرا اصول ہے:

صرف یہ نہ سوچیے کہ "میں کیا کہنے جا رہا ہوں"، بلکہ یہ بھی سوچیے کہ "کیا ابھی وہ وقت ہے جب یہ بات کہی جانی چاہیے؟"

والسلام

آمنہ چاہل

(Life Skills Trainer, Islamic Life Coach)

تمام تحریریں

مزید تحریریں

ہمارے بچے، ڈیجیٹل بھیڑیوں کے چنگل میں  باب دوم: بھیڑیوں کی شناخت  قسط 3: انسان کے روپ میں شکاری

ہمارے بچے، ڈیجیٹل بھیڑیوں کے چنگل میں باب دوم: بھیڑیوں کی شناخت قسط 3: انسان کے روپ میں شکاری

بسم الله الرحمن الرحيم "ہر شکاری اپنے دانت نہیں دکھاتا، بعض شکاری صرف مسکراتے ہیں۔" اللہ تعالیٰ کا فرمان مبارک ہے: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ ۚ وَمَن يَتَّبِعْ خُطُوَاتِ…

مضمون پڑھیں
ہمارے بچے، ڈیجیٹل بھیڑیوں کے چنگل میں باب دوم: بھیڑیوں کی شناخت | قسط 2: ڈیجیٹل بھیڑیے کون ہیں؟

ہمارے بچے، ڈیجیٹل بھیڑیوں کے چنگل میں باب دوم: بھیڑیوں کی شناخت | قسط 2: ڈیجیٹل بھیڑیے کون ہیں؟

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم رسول اللہ ﷺ کا فرمان مبارک ہے: «كُلُّكُمْ رَاعٍ، وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ» "تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے، اور تم میں سے ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔" "ہر…

مضمون پڑھیں
ہمارے بچے ڈیجیٹل بھیڑیوں کے چنگل میں | جب محافظ آنکھیں بند کر لیں۔۔۔

ہمارے بچے ڈیجیٹل بھیڑیوں کے چنگل میں | جب محافظ آنکھیں بند کر لیں۔۔۔

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ڈیجیٹل دور میں مسلم والدین کے لیے ایک تربیتی سلسلہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان مبارک ہے: «كُلُّكُمْ رَاعٍ، وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ» "تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے، اور تم میں سے ہر ایک سے…

مضمون پڑھیں