تعارفتحریریںغور و فکرسوال و جوابویڈیوزکتابیںآراءرابطہ

🌸 بچوں کے سوالات۔۔۔ ان کے دلوں اور ذہنوں کی کھڑکیاں ہوتے ہیں 🌸

🌸 بچوں کے سوالات۔۔۔ ان کے دلوں اور ذہنوں کی کھڑکیاں ہوتے ہیں 🌸

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

کل بچوں کی تربیتی کلاس میں تقریباً پانچ، چھ سال کی ایک ننھی بچی نے ماشاء اللہ، اللهم بارك لها، بہت خوبصورت سوال کیا۔ 🤍

سوال تھا: "ٹیچر! اگر ہم سے غلطی سے کوئی گناہ ہو جائے تو کیا اللہ تعالیٰ ہمیں معاف کر دیتا ہے؟"

اس سوال کے تناظر میں چند باتیں عرض کرنا چاہوں گی۔

💠 بچوں کے سوالات ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ ان کے ذہنوں میں کس قسم کی سوچ پروان چڑھ رہی ہے، اور ان کی شخصیت کس نہج پر تربیت پا رہی ہے۔

لہٰذا جب ہم ان کے ذہنوں میں قرآن و سنت کی صحیح تعلیمات کی Input دیں گے، تو ان کی سوچ، فکر اور زندگی کی Output بھی، ان شاء اللہ، قرآن و سنت سے وابستہ ہوگی۔ 🤍

💠 جب بچہ اس طرح کا سوال کرے تو کوشش کریں کہ اس کا جواب ایسے انداز میں دیں جس سے اس کی حوصلہ افزائی ہو اور اس کا تعلق اللہ تعالیٰ اور قرآن و سنت کے ساتھ مزید مضبوط ہو۔

رسول اللہ ﷺ کی سنت مبارکہ پر عمل کرتے ہوئے بچوں کو بامعنی دعائیں دینا بھی نہایت مؤثر تربیتی طریقہ ہے۔ یہ دعائیں بچے کے دل پر گہرا اثر چھوڑتی ہیں۔

مثلاً: "اللہ تعالیٰ آپ کو متقی بنائے، قرآن و سنت کا عالم اور حافظ بنائے، اور آپ کو اس پر عمل کرنے والا بھی بنائے۔ آمین۔

اس طرح کی دعائیں دراصل بچے کے ذہن میں ایک مثبت سمت متعین کرتی ہیں کہ مجھے ایسا ہی بننا ہے، ان شاء اللہ۔

💠 اس بچی کے سوال کا جواب کیسے دیا؟

جیسا کہ اوپر عرض کیا، کوشش یہی ہونی چاہیے کہ جواب بچے کا تعلق اللہ تعالیٰ سے مزید مضبوط کرے، اور وہ اپنے رب کے ساتھ ایک ذاتی تعلق محسوس کرے۔

پس لہجے میں بلا کی نرمی لا کر بچی سے کہا:

"آپ کو معلوم ہے مریم! آپ کے سوال کا جواب تو اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں پہلے ہی دے دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو پہلے ہی معلوم تھا کہ میری ننھی بندی ایک دن یہ سوال کرے گی، اس لیے اس نے اس کا جواب پہلے ہی نازل فرما دیا۔"

پھر اس کے سامنے یہ آیت تلاوت کی، ترجمہ پڑھا، اور اس کی عمر کے مطابق مختصر سی گفتگو کی:

﴿قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَىٰ أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا ۚ إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ﴾

ترجمہ: "کہہ دیجیے: اے میرے بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے! اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو جاؤ، بے شک اللہ تمام گناہ بخش دیتا ہے۔ یقیناً وہی بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔" (سورۃ الزمر: 53)

🌸 پھر بچوں کو آسان انداز میں توبہ کا مفہوم سمجھایا کہ اگر کبھی غلطی ہو جائے تو فوراً اللہ تعالیٰ سے معافی مانگ لینی چاہیے، دل سے ندامت ہونی چاہیے، اور یہ پکا ارادہ کرنا چاہیے کہ ان شاء اللہ، میں دوبارہ یہ غلطی نہیں کروں گا / کروں گی۔

💠 آخر میں ایک بات کا خاص خیال رکھیں۔

یہ ضرور یقینی بنائیں کہ بچہ آپ کی بات سمجھ گیا ہے۔ اس سے دوبارہ محبت بھرے انداز میں سوال کریں، تاکہ اسے محسوس ہو کہ اس کے سوال کو اہمیت دی گئی ہے، اس کی بات سنی گئی ہے، اور وہ آپ کے لیے اہم ہے۔

ایسے ہی لمحے بچوں کے دلوں میں ایمان، اعتماد اور اللہ تعالیٰ سے محبت کے بیج بوتے ہیں۔ 🤍

و بالله تعالیٰ التوفيق✨

والحمدلله رب العالمين۔۔۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے بچوں کی بہترین تربیت کی حکمت عطا فرمائے، ہمیں قرآن و سنت کی روشنی میں ان کی صحیح رہنمائی کرنے کی توفیق دے، اور ہمیں اور ہماری نسلوں کو ہر دور کے فتنوں سے اپنی حفاظت میں رکھے۔ آمین۔ 🤲🏻🌷

آمنہ چاہل

سمر کورس 2026

أطفال حول القرآن

كلية القرآن للأطفال

تمام تحریریں

مزید تحریریں

ہمارے بچے، ڈیجیٹل بھیڑیوں کے چنگل میں باب دوم: بھیڑیوں کی شناخت | قسط 2: ڈیجیٹل بھیڑیے کون ہیں؟

ہمارے بچے، ڈیجیٹل بھیڑیوں کے چنگل میں باب دوم: بھیڑیوں کی شناخت | قسط 2: ڈیجیٹل بھیڑیے کون ہیں؟

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم رسول اللہ ﷺ کا فرمان مبارک ہے: «كُلُّكُمْ رَاعٍ، وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ» "تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے، اور تم میں سے ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔" "ہر…

مضمون پڑھیں
ہمارے بچے ڈیجیٹل بھیڑیوں کے چنگل میں | جب محافظ آنکھیں بند کر لیں۔۔۔

ہمارے بچے ڈیجیٹل بھیڑیوں کے چنگل میں | جب محافظ آنکھیں بند کر لیں۔۔۔

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ڈیجیٹل دور میں مسلم والدین کے لیے ایک تربیتی سلسلہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان مبارک ہے: «كُلُّكُمْ رَاعٍ، وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ» "تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے، اور تم میں سے ہر ایک سے…

مضمون پڑھیں
حکمتِ گفتگو کے پانچ "ک" | حصہ دوم: پہلا "ک" :  کسے کہنا ہے؟

حکمتِ گفتگو کے پانچ "ک" | حصہ دوم: پہلا "ک" : کسے کہنا ہے؟

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ہم میں سے اکثر لوگ بولنے سے پہلے صرف یہ سوچتے ہیں کہ "مجھے کیا کہنا ہے؟" حالانکہ اس سے بھی پہلے ایک سوال پوچھنا چاہیے: "مجھے یہ بات کسے کہنی ہے؟" یہ سوال معمولی محسوس ہوتا ہے، مگر بہت سے…

مضمون پڑھیں