تعارفتحریریںغور و فکرسوال و جوابویڈیوزکتابیںآراءرابطہ

ہمارے بچے ڈیجیٹل بھیڑیوں کے چنگل میں | جب محافظ آنکھیں بند کر لیں۔۔۔

ہمارے بچے ڈیجیٹل بھیڑیوں کے چنگل میں | جب محافظ آنکھیں بند کر لیں۔۔۔

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

ڈیجیٹل دور میں مسلم والدین کے لیے ایک تربیتی سلسلہ

رسول اللہ ﷺ کا فرمان مبارک ہے:

«كُلُّكُمْ رَاعٍ، وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ»

"تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے، اور تم میں سے ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔"

کبھی آپ نے جنگل میں شکار کا منظر دیکھا ہے؟

بھیڑیا اپنے شکار پر اچانک حملہ نہیں کرتا۔ وہ پہلے اسے تنہا کرتا ہے، اس کی کمزوری کو پہچانتا ہے، اس کا اعتماد حاصل کرتا ہے، پھر آہستہ آہستہ اسے اپنے شکنجے میں لے لیتا ہے۔

افسوس! آج ہمارے بچوں کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہو رہا ہے۔۔۔

فرق صرف اتنا ہے کہ اب بھیڑیے جنگلوں میں نہیں، بلکہ موبائل فونز، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، گیمز، چیٹ رومز اور انٹرنیٹ کی بے شمار کھڑکیوں کے پیچھے چھپے بیٹھے ہیں۔

ہم سمجھتے ہیں کہ ہم نے بچے کو صرف ایک موبائل فون دیا ہے، لیکن حقیقت میں ہم نے اس کے ہاتھ میں پوری دنیا کا دروازہ کھول دیا ہے۔ ایک ایسی دنیا جہاں خیر بھی ہے اور شر بھی، جہاں علم بھی ہے اور گمراہی بھی، جہاں فائدہ بھی ہے اور ایسے فتنے بھی جو خاموشی سے معصوم دلوں اور ناپختہ ذہنوں کو اپنا شکار بنا لیتے ہیں۔

اصل مسئلہ موبائل نہیں۔۔۔

اصل مسئلہ انٹرنیٹ نہیں۔۔۔

اصل مسئلہ ٹیکنالوجی بھی نہیں۔۔۔

اصل مسئلہ تربیت کے بغیر آزادی، نگرانی کے بغیر رسائی، اور رہنمائی کے بغیر ڈیجیٹل دنیا میں داخل ہونا ہے۔

ایک بچہ جو ابھی صحیح اور غلط میں فرق کرنا سیکھ ہی رہا ہو، وہ ہر چمکتی ہوئی چیز کو اچھا سمجھ سکتا ہے، ہر مسکراتے ہوئے چہرے کو مخلص، اور ہر دلکش دعوت کو بے ضرر۔ یہی معصومیت اسے سب سے زیادہ کمزور بناتی ہے۔

والدین اکثر اطمینان سے کہتے ہیں:

"ہمارا بچہ تو گھر میں ہی رہتا ہے۔"

لیکن ایک لمحے کے لیے خود سے پوچھیے۔۔۔

کیا وہ واقعی گھر میں رہتا ہے؟

جس بچے کی نگاہیں ہر روز دنیا بھر کے لوگوں، نظریات، تفریحات، خواہشات اور فتنوں کے درمیان سفر کرتی ہوں، کیا وہ صرف اپنے کمرے میں ہے؟

حقیقت یہ ہے کہ آج بہت سے والدین اپنے بچوں کو گھر کے دروازے سے باہر جانے سے تو روک لیتے ہیں، مگر ان کے ہاتھ میں ایسا دروازہ تھما دیتے ہیں جس کے ذریعے پوری دنیا بلا اجازت ان کے کمرے میں داخل ہو جاتی ہے۔

یہ تحریری سلسلہ ٹیکنالوجی کے خلاف نہیں، بلکہ بے احتیاطی کے خلاف ہے۔

ہم بچوں کو ڈیجیٹل دنیا سے کاٹنے کی دعوت نہیں دے رہے، بلکہ انہیں اس دنیا میں محفوظ رہنا سکھانا چاہتے ہیں۔ کیونکہ آنے والا زمانہ انٹرنیٹ کے بغیر نہیں گزرے گا، لیکن ایمان، حیا، بصیرت اور مضبوط تربیت کے بغیر ضرور خطرناک ہو سکتا ہے۔

اسی لیے اس سلسلے میں ہم، ان شاء اللہ، ایک ایک کرکے ان تمام پہلوؤں پر گفتگو کریں گے جن سے ہر والدین کو واقف ہونا چاہیے۔

ہم جانیں گے کہ:

  1. ڈیجیٹل بھیڑیے کون ہیں؟
  2. وہ بچوں تک کیسے پہنچتے ہیں؟
  3. وہ کن کمزوریوں کو نشانہ بناتے ہیں؟
  4. کون سی علامات بتاتی ہیں کہ بچہ خطرے میں ہے؟
  5. والدین اپنی اولاد کی دینی، اخلاقی، فکری اور نفسیاتی حفاظت کیسے کر سکتے ہیں؟
  6. اور ایسا گھر کیسے بنایا جائے جہاں بھیڑیوں کے لیے داخل ہونا آسان نہ ہو۔

یہ سلسلہ خوف پیدا کرنے کے لیے نہیں۔۔۔

بلکہ شعور بیدار کرنے کے لیے ہے۔

مایوسی پھیلانے کے لیے نہیں۔۔۔

بلکہ امید، تربیت اور ذمہ داری کا احساس جگانے کے لیے ہے۔

کیونکہ اولاد صرف ہماری ذمہ داری نہیں۔۔۔

بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے سونپی گئی امانت بھی ہے۔

لمحۂ فکریہ

"جب محافظ آنکھیں بند کر لیں، تو بھیڑیے راستہ ڈھونڈ لیتے ہیں۔"

آج ایک لمحے کے لیے خود سے پوچھیے۔۔۔

کیا ہم اپنے بچوں کے محافظ بن کر جاگ رہے ہیں، یا صرف ان کے لیے سہولتیں مہیا کر رہے ہیں؟

اگلی قسط میں ہم جانیں گے:

"ڈیجیٹل بھیڑیے کون ہیں؟"

ہم ان شاء اللہ ان چہروں سے پردہ اٹھائیں گے جو کبھی دوستی، کبھی تفریح، کبھی علم، اور کبھی آزادی کے نام پر ہماری نسلوں کو اپنا شکار بناتے ہیں۔

یا رب العالمین! ہمارے بیٹوں اور بیٹیوں کی اصلاح فرما، انہیں ہر ظاہر و پوشیدہ فتنے سے محفوظ رکھ، انہیں اپنے نیک بندوں میں شامل فرما، اور ہمیں ان کی بہترین تربیت کرنے اور اس امانت کا حق ادا کرنے کی توفیق عطا فرما، جس طرح تو پسند کرتا ہے۔ آمین۔

والسلام

آمنہ چاہل

(Life Skills Trainer, Islamic Life Coach)

تمام تحریریں

مزید تحریریں

ہمارے بچے، ڈیجیٹل بھیڑیوں کے چنگل میں باب دوم: بھیڑیوں کی شناخت | قسط 2: ڈیجیٹل بھیڑیے کون ہیں؟

ہمارے بچے، ڈیجیٹل بھیڑیوں کے چنگل میں باب دوم: بھیڑیوں کی شناخت | قسط 2: ڈیجیٹل بھیڑیے کون ہیں؟

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم رسول اللہ ﷺ کا فرمان مبارک ہے: «كُلُّكُمْ رَاعٍ، وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ» "تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے، اور تم میں سے ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔" "ہر…

مضمون پڑھیں
حکمتِ گفتگو کے پانچ "ک" | حصہ دوم: پہلا "ک" :  کسے کہنا ہے؟

حکمتِ گفتگو کے پانچ "ک" | حصہ دوم: پہلا "ک" : کسے کہنا ہے؟

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ہم میں سے اکثر لوگ بولنے سے پہلے صرف یہ سوچتے ہیں کہ "مجھے کیا کہنا ہے؟" حالانکہ اس سے بھی پہلے ایک سوال پوچھنا چاہیے: "مجھے یہ بات کسے کہنی ہے؟" یہ سوال معمولی محسوس ہوتا ہے، مگر بہت سے…

مضمون پڑھیں
حکمتِ گفتگو کے پانچ "ک" : کسے، کب، کیا، کتنا، اور کیسے کہنا ہے؟ ( حصہ اول: زبان : نعمت بھی، آزمائش بھی)

حکمتِ گفتگو کے پانچ "ک" : کسے، کب، کیا، کتنا، اور کیسے کہنا ہے؟ ( حصہ اول: زبان : نعمت بھی، آزمائش بھی)

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم "میں نے تو صرف ایک بات ہی کہی تھی۔۔۔" یہ وہ جملہ ہے جو ہم اکثر اس وقت سنتے ہیں جب کوئی رشتہ ٹوٹ چکا ہوتا ہے، کوئی دل زخمی ہو چکا ہوتا ہے، یا برسوں کی محبت چند لمحوں میں نفرت میں بدل چکی ہوتی…

مضمون پڑھیں