تعارفتحریریںغور و فکرسوال و جوابویڈیوزکتابیںآراءرابطہ

حکمتِ گفتگو کے پانچ "ک" | حصہ دوم: پہلا "ک" : کسے کہنا ہے؟

حکمتِ گفتگو کے پانچ "ک" | حصہ دوم: پہلا "ک" :  کسے کہنا ہے؟

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

ہم میں سے اکثر لوگ بولنے سے پہلے صرف یہ سوچتے ہیں کہ "مجھے کیا کہنا ہے؟"

حالانکہ اس سے بھی پہلے ایک سوال پوچھنا چاہیے:

"مجھے یہ بات کسے کہنی ہے؟"

یہ سوال معمولی محسوس ہوتا ہے، مگر بہت سے اختلافات، غلط فہمیاں اور پچھتاوے اسی ایک سوال کو نظر انداز کرنے کی وجہ سے جنم لیتے ہیں۔

ہر بات کا ایک مناسب مخاطب ہوتا ہے۔۔۔

ہر انسان ہر بات سننے کا اہل نہیں ہوتا۔۔۔

اور ہر شخص کو ہر بات بتانا دانائی نہیں، بلکہ بعض اوقات بے احتیاطی ہوتی ہے۔۔۔

آج ہم ایسے دور میں رہ رہے ہیں جہاں لوگ اپنے دکھ بھی ہر ایک سے بیان کر دیتے ہیں، اپنے گھریلو مسائل بھی ہر محفل میں زیرِ بحث لے آتے ہیں، اپنے راز بھی معمولی واقف کاروں کے سپرد کر دیتے ہیں، اور پھر شکوہ کرتے ہیں کہ لوگوں نے ہماری بات کو غلط استعمال کیا۔

حقیقت یہ ہے کہ راز کی حفاظت صرف سننے والے کی ذمہ داری نہیں، بتانے والے کی ذمہ داری بھی ہے۔

ہر دل امانت دار نہیں ہوتا۔۔۔

ہر کان نصیحت سننے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔۔۔

اور ہر زبان خیرخواہی کے جذبے سے جواب نہیں دیتی۔۔۔

اسی لیے حکمت کا تقاضا ہے کہ انسان پہلے اپنے مخاطب کو پہچانے، پھر گفتگو کرے۔

ہر شخص ہر بات کا مخاطب نہیں ہوتا:

اگر آپ کو دینی مسئلہ درپیش ہے تو اس کا حل ایسے شخص سے طلب کیجیے جو علم رکھتا ہو۔

اگر آپ کو طبی مسئلہ ہے تو اس کے لیے کسی معالج سے رجوع کیجیے۔

اگر ازدواجی زندگی میں مشکل پیش آ رہی ہے تو اسے ہر دوست کی مجلس کا موضوع بنانے کے بجائے کسی دانا، مخلص اور قابلِ اعتماد شخص سے مشورہ کیجیے۔

اکثر ہم مسئلہ حل کرنے کے لیے نہیں، بلکہ دل ہلکا کرنے کے لیے غلط لوگوں کا انتخاب کر لیتے ہیں، اور پھر مسئلہ پہلے سے زیادہ پیچیدہ ہو جاتا ہے۔

ہر نصیحت ہر شخص قبول نہیں کرتا:

بعض اوقات ہم کسی کی اصلاح چاہتے ہیں، لیکن یہ نہیں دیکھتے کہ کیا وہ اس وقت سننے کے لیے تیار بھی ہے؟

اگر دل بند ہو تو بہترین نصیحت بھی اثر نہیں کرتی۔۔۔

اگر انسان ضد میں ہو تو نرم ترین الفاظ بھی اس تک نہیں پہنچتے۔۔۔

حکمت یہ ہے کہ صرف الفاظ ہی نہ چنے جائیں، بلکہ مخاطب کی کیفیت بھی سمجھی جائے۔

ہر راز بیان کرنا اخلاص نہیں:

بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ صاف گوئی کا مطلب یہ ہے کہ دل کی ہر بات ہر شخص سے کہہ دی جائے۔

حالانکہ اسلام ہمیں امانت داری بھی سکھاتا ہے اور پردہ پوشی بھی۔۔۔

اپنی کمزوریاں، اپنے گھر کے معاملات، میاں بیوی کے اختلافات، دوست کی نجی باتیں یا کسی کی امانت، یہ سب ایسی چیزیں ہیں جنہیں ہر مجلس میں بیان کرنا درست نہیں۔

بعض اوقات ایک بے احتیاط گفتگو صرف آپ کی نہیں، کسی اور کی عزت کو بھی نقصان پہنچا دیتی ہے۔

بعض باتیں صرف اللہ سے کہنی چاہییں:

یہ بھی حکمتِ گفتگو کا ایک اہم پہلو ہے۔

ہر دکھ انسانوں سے بیان کرنا ضروری نہیں۔۔۔

ہر شکایت لوگوں کے سامنے رکھنا بھی ضروری نہیں۔۔۔

کبھی کبھی سب سے خوبصورت گفتگو وہ ہوتی ہے جو بندہ رات کی تنہائی میں اپنے رب سے کرتا ہے۔

وہ رب جو بغیر الفاظ کے دلوں کی کیفیت جانتا ہے۔۔۔

وہ رب جس کے سامنے نہ اپنی بات ثابت کرنی پڑتی ہے، نہ اپنے جذبات کی وضاحت۔۔۔

اللہ تعالیٰ نے سیدنا یعقوب علیہ السلام کے الفاظ نقل فرمائے:

«﴿إِنَّمَا أَشْكُو بَثِّي وَحُزْنِي إِلَى اللَّهِ﴾»

«"میں تو اپنی پریشانی اور اپنے غم کی فریاد صرف اللہ سے کرتا ہوں۔" (سورۃ یوسف: 86)»

یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ ہر غم کا پہلا دروازہ لوگوں کے گھر نہیں، بلکہ اللہ کی بارگاہ ہونی چاہیے۔

خود سے پوچھیے۔۔۔

بولنے سے پہلے ایک لمحہ رک کر سوچیں:

  1. کیا یہ شخص اس بات کا صحیح مخاطب ہے؟
  2. کیا یہ میری امانت کی حفاظت کرے گا؟
  3. کیا یہ میری اصلاح کرے گا یا صرف میری بات دوسروں تک پہنچائے گا؟
  4. کیا اس سے بات کرنے سے مسئلہ حل ہوگا یا مزید بڑھے گا؟

اگر ان سوالوں کے جواب اطمینان بخش نہ ہوں تو خاموشی اکثر گفتگو سے زیادہ محفوظ ہوتی ہے۔

حکمتِ گفتگو کا پہلا اصول یہی ہے کہ ہر بات ہر شخص سے نہیں کہی جاتی۔

صحیح بات بھی اگر غلط شخص سے کہی جائے تو کبھی راز افشا ہو جاتا ہے، کبھی عزت مجروح ہوتی ہے، اور کبھی وہی الفاظ فتنہ بن کر واپس لوٹ آتے ہیں۔

اس لیے بولنے سے پہلے صرف یہ نہ سوچیے کہ "میں کیا کہنے والا ہوں؟"

پہلے یہ سوچیے کہ:

"میں یہ بات کسے کہنے والا ہوں؟"

(جاری ہے)

والسلام

آمنہ چاہل

(Life Skills Trainer, Islamic Life Coach)

تمام تحریریں

مزید تحریریں

ہمارے بچے، ڈیجیٹل بھیڑیوں کے چنگل میں باب دوم: بھیڑیوں کی شناخت | قسط 2: ڈیجیٹل بھیڑیے کون ہیں؟

ہمارے بچے، ڈیجیٹل بھیڑیوں کے چنگل میں باب دوم: بھیڑیوں کی شناخت | قسط 2: ڈیجیٹل بھیڑیے کون ہیں؟

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم رسول اللہ ﷺ کا فرمان مبارک ہے: «كُلُّكُمْ رَاعٍ، وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ» "تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے، اور تم میں سے ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔" "ہر…

مضمون پڑھیں
ہمارے بچے ڈیجیٹل بھیڑیوں کے چنگل میں | جب محافظ آنکھیں بند کر لیں۔۔۔

ہمارے بچے ڈیجیٹل بھیڑیوں کے چنگل میں | جب محافظ آنکھیں بند کر لیں۔۔۔

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ڈیجیٹل دور میں مسلم والدین کے لیے ایک تربیتی سلسلہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان مبارک ہے: «كُلُّكُمْ رَاعٍ، وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ» "تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے، اور تم میں سے ہر ایک سے…

مضمون پڑھیں
حکمتِ گفتگو کے پانچ "ک" : کسے، کب، کیا، کتنا، اور کیسے کہنا ہے؟ ( حصہ اول: زبان : نعمت بھی، آزمائش بھی)

حکمتِ گفتگو کے پانچ "ک" : کسے، کب، کیا، کتنا، اور کیسے کہنا ہے؟ ( حصہ اول: زبان : نعمت بھی، آزمائش بھی)

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم "میں نے تو صرف ایک بات ہی کہی تھی۔۔۔" یہ وہ جملہ ہے جو ہم اکثر اس وقت سنتے ہیں جب کوئی رشتہ ٹوٹ چکا ہوتا ہے، کوئی دل زخمی ہو چکا ہوتا ہے، یا برسوں کی محبت چند لمحوں میں نفرت میں بدل چکی ہوتی…

مضمون پڑھیں