تعارفتحریریںغور و فکرسوال و جوابویڈیوزکتابیںآراءرابطہ

حکمتِ گفتگو کے پانچ "ک" : کسے، کب، کیا، کتنا، اور کیسے کہنا ہے؟ ( حصہ اول: زبان : نعمت بھی، آزمائش بھی)

حکمتِ گفتگو کے پانچ "ک" : کسے، کب، کیا، کتنا، اور کیسے کہنا ہے؟ ( حصہ اول: زبان : نعمت بھی، آزمائش بھی)

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

"میں نے تو صرف ایک بات ہی کہی تھی۔۔۔"

یہ وہ جملہ ہے جو ہم اکثر اس وقت سنتے ہیں جب کوئی رشتہ ٹوٹ چکا ہوتا ہے، کوئی دل زخمی ہو چکا ہوتا ہے، یا برسوں کی محبت چند لمحوں میں نفرت میں بدل چکی ہوتی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ بہت سے اختلافات بڑے جرائم سے نہیں، بلکہ چھوٹے جملوں سے شروع ہوتے ہیں۔

ایک بے احتیاط لفظ۔۔۔

ایک سخت لہجہ۔۔۔

ایک بے وقت نصیحت۔۔۔

ایک غیر ضروری تبصرہ۔۔۔

یا ایک ایسا راز جو غلط شخص کے سامنے بیان کر دیا گیا۔۔۔

اور پھر وہی الفاظ، جو چند لمحوں میں زبان سے نکل گئے تھے، برسوں تک دلوں میں چبھتے رہتے ہیں۔

ہم اپنے بچوں کو چلنا سکھاتے ہیں، لکھنا سکھاتے ہیں، پڑھنا سکھاتے ہیں، لیکن افسوس کہ بہت کم لوگ بولنا سکھاتے ہیں۔

ہمیں الفاظ تو آ جاتے ہیں، مگر الفاظ کی ذمہ داری نہیں آتی۔۔۔۔

ہمیں اپنی رائے بیان کرنا آ جاتا ہے، مگر یہ نہیں سکھایا جاتا کہ ہر رائے ہر جگہ بیان کرنا ضروری نہیں ہوتی۔۔۔

ہم سچ بولنے کی اہمیت تو جانتے ہیں، مگر یہ بھول جاتے ہیں کہ ہر سچ، ہر وقت، ہر شخص سے، ہر انداز میں نہیں کہا جاتا۔۔۔۔

اسی لیے بعض اوقات نیت اچھی ہوتی ہے، مگر نتیجہ برا نکلتا ہے۔

شوہر کہتا ہے: "میں تو صرف سمجھانا چاہ رہا تھا۔"

بیوی کہتی ہے: "آپ نے بات صحیح کی تھی، مگر جس انداز سے کی، اس نے دل توڑ دیا۔"

والدین کہتے ہیں: "ہم تو بچوں کی بھلائی چاہتے تھے۔"

بچے کہتے ہیں: "کاش ہماری بات بھی کبھی سکون سے سن لی جاتی۔"

دوست کہتے ہیں: "میں نے سچ کہا تھا۔"

مگر دوسرا دوست برسوں تک اسی ایک جملے کی تکلیف اپنے دل میں اٹھائے پھرتا ہے۔

یہاں مسئلہ اکثر سچ اور جھوٹ کا نہیں ہوتا، بلکہ حکمت اور بے احتیاطی کا ہوتا ہے۔

اسی لیے قرآنِ مجید نے صرف سچ بولنے کی تعلیم نہیں دی، بلکہ گفتگو کا ادب بھی سکھایا۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان مبارک ہے:

﴿وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا﴾

"اور لوگوں سے اچھی بات کہو۔" (البقرة: 83)»

ایک اور مقام پر فرمایا:

﴿وَقُلْ لِّعِبَادِىۡ يَقُوۡلُوا الَّتِىۡ هِىَ اَحۡسَنُ‌ؕ اِنَّ الشَّيۡطٰنَ يَنۡزَغُ بَيۡنَهُمۡ‌ؕ اِنَّ الشَّيۡطٰنَ كَانَ لِلۡاِنۡسَانِ عَدُوًّا مُّبِيۡنًا﴾

"اور میرے بندوں سے کہہ دے وہ بات کہیں جو سب سے اچھی ہو، بے شک شیطان ان کے درمیان جھگڑا ڈالتا ہے۔ بے شک شیطان ہمیشہ سے انسان کا کھلا دشمن ہے۔"(الإسراء: 53)۔

ذرا غور کیجیے۔۔۔

اللہ تعالیٰ نے صرف "اچھی بات" کہنے کا حکم نہیں دیا بلکہ "سب سے بہتر بات" کہنے کا حکم دیا۔

کیوں؟

کیونکہ شیطان بہت مرتبہ ہمارے اعمال سے پہلے ہماری زبان کو اپنا ہتھیار بناتا ہے۔

کتنے ہی گھر ایک تلخ جملے سے اجڑ جاتے ہیں۔۔۔

کتنی ہی دوستیاں ایک طنزیہ فقرے سے ختم ہو جاتی ہیں۔۔۔

کتنے ہی والدین اور اولاد کے درمیان دیواریں صرف اس لیے کھڑی ہو جاتی ہیں کہ بات تو کی گئی، مگر صحیح انداز سے نہیں کی گئی۔۔۔

یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے زبان کے بارے میں غیر معمولی تاکید فرمائی۔۔۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«"جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہو، وہ بھلی بات کہے یا خاموش رہے۔"»

یہ حدیث صرف خاموش رہنے کی دعوت نہیں دیتی، بلکہ بولنے سے پہلے سوچنے کی دعوت دیتی ہے۔

  • کیا میری بات فائدہ دے گی؟
  • کیا یہ اصلاح کرے گی یا فساد؟
  • کیا یہ دل جوڑے گی یا توڑے گی؟
  • کیا یہ اللہ کی رضا کے قریب لے جائے گی یا شیطان کو خوش کرے گی؟

شاید ہم میں سے ہر ایک نے کبھی نہ کبھی یہ تجربہ کیا ہوگا کہ ایک لمحے کی بے احتیاط گفتگو نے ایسی دوریاں پیدا کر دیں جنہیں ختم کرنے میں مہینے یا سال لگ گئے۔

اور کبھی ایک نرم جملہ، ایک معذرت، ایک محبت بھرا لہجہ، کسی ٹوٹتے ہوئے رشتے کو دوبارہ جوڑ گیا۔

اس لیے گفتگو صرف الفاظ کا نام نہیں۔

گفتگو ایک امانت ہے۔۔۔

زبان ایک نعمت بھی ہے اور آزمائش بھی۔۔۔

اسی زبان سے ذکر بھی ہوتا ہے، دعا بھی، قرآن بھی، اور اسی زبان سے غیبت، جھوٹ، طعنہ، تحقیر اور دل آزاری بھی۔

سوال یہ نہیں کہ ہم بولتے ہیں یا نہیں۔

اصل سوال یہ ہے کہ:

  • ہم کس سے بولتے ہیں؟
  • کب بولتے ہیں؟
  • کیا بولتے ہیں؟
  • کتنا بولتے ہیں؟
  • اور کیسے بولتے ہیں؟

اگر ایک مسلمان ان پانچ سوالوں کے جواب سیکھ لے، تو اس کی گفتگو میں بھی حکمت آ جاتی ہے، اس کے رشتوں میں بھی سکون آ جاتا ہے، اور اس کی شخصیت میں بھی وقار پیدا ہو جاتا ہے۔

جاری ہے۔۔۔

والسلام

آمنہ چاہل

(Life Skills Trainer, Islamic Life Coach)

تمام تحریریں

مزید تحریریں

ہمارے بچے، ڈیجیٹل بھیڑیوں کے چنگل میں باب دوم: بھیڑیوں کی شناخت | قسط 2: ڈیجیٹل بھیڑیے کون ہیں؟

ہمارے بچے، ڈیجیٹل بھیڑیوں کے چنگل میں باب دوم: بھیڑیوں کی شناخت | قسط 2: ڈیجیٹل بھیڑیے کون ہیں؟

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم رسول اللہ ﷺ کا فرمان مبارک ہے: «كُلُّكُمْ رَاعٍ، وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ» "تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے، اور تم میں سے ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔" "ہر…

مضمون پڑھیں
ہمارے بچے ڈیجیٹل بھیڑیوں کے چنگل میں | جب محافظ آنکھیں بند کر لیں۔۔۔

ہمارے بچے ڈیجیٹل بھیڑیوں کے چنگل میں | جب محافظ آنکھیں بند کر لیں۔۔۔

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ڈیجیٹل دور میں مسلم والدین کے لیے ایک تربیتی سلسلہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان مبارک ہے: «كُلُّكُمْ رَاعٍ، وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ» "تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے، اور تم میں سے ہر ایک سے…

مضمون پڑھیں
حکمتِ گفتگو کے پانچ "ک" | حصہ دوم: پہلا "ک" :  کسے کہنا ہے؟

حکمتِ گفتگو کے پانچ "ک" | حصہ دوم: پہلا "ک" : کسے کہنا ہے؟

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ہم میں سے اکثر لوگ بولنے سے پہلے صرف یہ سوچتے ہیں کہ "مجھے کیا کہنا ہے؟" حالانکہ اس سے بھی پہلے ایک سوال پوچھنا چاہیے: "مجھے یہ بات کسے کہنی ہے؟" یہ سوال معمولی محسوس ہوتا ہے، مگر بہت سے…

مضمون پڑھیں