حسنِ معاشرت کا گمشدہ سبق: سسرال، مشترکہ خاندان اور رشتے نبھانے کا اسلامی سلیقہ

بسم الله الرحمن الرحيم
"وہ گھرانے خوش نصیب ہوتے ہیں جہاں ہر فرد اپنے حقوق سے پہلے اپنے فرائض کو یاد رکھتا ہے، اور اپنی خواہش سے پہلے اللہ تعالیٰ کی رضا کو مقدم رکھتا ہے۔"
تحریر: آمنہ چاہل (Life Skills Trainer)
اللہ تعالیٰ نے انسان کو تنہا زندگی گزارنے کے لیے پیدا نہیں کیا، بلکہ اسے رشتوں کے حسین حصار میں رکھا ہے۔
کوئی کسی کا باپ ہے۔۔۔تو کوئی ماں۔۔۔
کوئی بیٹا۔۔۔ تو کوئی بیٹی۔۔۔
کوئی بھائی۔۔۔تو کوئی بہن۔۔۔
پھر انہی رشتوں میں سے بعض نئے رشتے نکاح کے ذریعے وجود میں آتے ہیں، جو صرف دو افراد ہی نہیں بلکہ دو خاندانوں کو بھی ایک دوسرے سے جوڑ دیتے ہیں۔
یوں ایک عورت صرف بیوی نہیں بنتی، بلکہ بہو، بھابھی، چچی، ممانی اور کئی نئے رشتوں کی ذمہ دار بھی بن جاتی ہے۔اسی طرح ایک مرد صرف شوہر نہیں رہتا، بلکہ داماد، بہنوئی، چچا، ماموں اور کئی دیگر رشتوں سے وابستہ ہو جاتا ہے۔
یہ تمام رشتے اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہیں، جن کا مقصد ایک دوسرے کے لیے سکون، محبت، تعاون اور رحمت کا ذریعہ بننا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان مبارک ہے:
﴿وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً﴾
"اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمہارے لیے تم ہی میں سے جوڑے پیدا کیے تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو، اور اس نے تمہارے درمیان محبت اور رحمت رکھ دی۔" (سورۃ الروم: 21)
لیکن افسوس کہ جن رشتوں کو محبت اور رحمت کا گہوارہ ہونا چاہیے، وہی اکثر حسد، انا، بدگمانی، مقابلہ بازی، طنز، حقوق کی کشمکش اور اقتدار کی جنگ کا میدان بن جاتے ہیں۔
ہم اکثر یہ سوچتے ہیں:
"میری ساس ایسی کیوں ہے؟"
"میری بہو مجھے نہیں سمجھتی۔"
"میری نند ہر بات میں مداخلت کرتی ہے۔"
"میری بھابھی نے میرے بھائی کو بدل دیا ہے۔"
مگر شاید ہم ایک سوال پوچھنا بھول جاتے ہیں۔۔۔
"میں اس رشتے کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کیسے نبھا رہا/رہی ہوں؟"
یہی سوال حسنِ معاشرت کی بنیاد ہے۔
اسلام ہمیں صرف اپنے حقوق مانگنا نہیں سکھاتا، بلکہ دوسروں کے حقوق ادا کرنا بھی سکھاتا ہے۔ اگر ہر فرد اپنے حق سے پہلے اپنے فرض کو یاد رکھے تو بہت سے گھریلو جھگڑے خود بخود ختم ہو جائیں۔
ہر گھر کی آزمائش مختلف ہوتی ہے۔۔۔
انسان کی ایک کمزوری یہ ہے کہ وہ اپنی آزمائش کو سب سے بڑی آزمائش سمجھنے لگتا ہے۔
اگر اس کی ساس سخت مزاج ہو تو اسے محسوس ہوتا ہے کہ شاید دنیا میں اس سے زیادہ مشکل ساس کسی کی نہیں۔
اگر کسی کی بہو ناشکری کرے تو وہ یہی سمجھتی ہیں کہ اس جیسی بہو کسی اور کو نصیب نہیں ہوئی۔
اگر کسی کا شوہر غصے والا ہو تو وہ اپنی زندگی کو سب سے مشکل سمجھنے لگتی ہے۔
حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر گھر کو الگ امتحان دیتے ہیں۔
کسی کی آزمائش سخت مزاج ساس ہے۔۔۔
کسی کی ناشکری بہو۔۔۔
کسی کی بدزبان نند۔۔۔
کسی کا غصہ کرنے والا شوہر۔۔۔
کسی کے بے توجہ والدین۔۔۔
کسی کے نافرمان بچے۔۔۔
اور کسی کی آزمائش غربت، بیماری یا تنہائی ہے۔۔۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان مبارک ہے:
﴿وَنَبْلُوكُمْ بِالشَّرِّ وَالْخَيْرِ فِتْنَةً﴾
"اور ہم تمہیں خیر اور شر دونوں کے ذریعے آزماتے ہیں۔" (سورۃ الأنبیاء: 35)
پس اصل سوال یہ نہیں کہ ہماری آزمائش کیا ہے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ ہم اس آزمائش میں اللہ تعالیٰ کو کتنا راضی کرتے ہیں۔
کیا ہم ظلم کے جواب میں بھی عدل اختیار کرتے ہیں؟
کیا ہم سختی کے باوجود حسنِ اخلاق برقرار رکھتے ہیں؟
کیا ہم اپنے نفس کی خواہش کے بجائے اللہ تعالیٰ کے حکم کو ترجیح دیتے ہیں؟
یہی وہ امتحان ہے جس پر آخرت میں کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ ہوگا۔
ہر رشتے کی اہمیت اس تعلق سے ہے جس کی وجہ سے وہ قائم ہوا۔۔۔
اکثر گھریلو اختلافات کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم رشتے کو تو دیکھتے ہیں، مگر اس تعلق کو بھول جاتے ہیں جس نے اس رشتے کو جنم دیا۔
آپ کی ساس۔۔۔اس شخص کی ماں ہیں جس سے آپ محبت کرتی ہیں۔
آپ کے سسر۔۔۔ اس مرد کے والد ہیں جس کے ساتھ آپ نے زندگی گزارنے کا عہد کیا ہے۔
آپ کی نند۔۔۔ آپ کے شوہر کی بہن ہے۔
اور آپ کی بھابھی۔۔۔ آپ کے بھائی کی شریکِ حیات ہے۔
اگر آپ اپنے شوہر سے محبت کرتی ہیں تو اس محبت کا تقاضا یہ بھی ہے کہ اس کے والدین اور بہن بھائیوں کی عزت کریں۔
اور اگر آپ اپنے بھائی سے محبت کرتی ہیں تو اس کی بیوی کی عزت بھی اسی محبت کا حصہ ہونی چاہیے۔
رشتوں کی عزت صرف افراد کی وجہ سے نہیں ہوتی۔۔۔ بلکہ اس تعلق کی وجہ سے ہوتی ہے جسے اللہ تعالیٰ نے قائم فرمایا ہے۔
اسی لیے اسلام نے صلہ رحمی کو عظیم عبادت قرار دیا ہے، اور رشتہ داروں کے ساتھ حسنِ سلوک کو اللہ تعالیٰ کی رضا کا ذریعہ بنایا ہے۔
حسنِ معاشرت ایمان کا حصہ ہے۔۔۔
اسلام کا حسن یہ ہے کہ وہ صرف نماز، روزہ اور دیگر عبادات کی تعلیم نہیں دیتا، بلکہ انسان کو یہ بھی سکھاتا ہے کہ وہ اپنے گھر والوں کے ساتھ کیسے رہے، کیسے گفتگو کرے، اور اختلاف کی صورت میں بھی اپنے اخلاق کو کیسے قائم رکھے۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان مبارک ہے:
﴿وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا﴾
"اور لوگوں سے اچھی بات کہو۔" (سورۃ البقرة: 83)
یہ حکم صرف اجنبیوں کے لیے نہیں۔۔۔۔ سب سے پہلے ان لوگوں کے لیے ہے جن کے ساتھ ہم روزانہ رہتے ہیں۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ بعض لوگ باہر والوں سے نہایت خوش اخلاق ہوتے ہیں، لیکن گھر والوں سے گفتگو میں سختی، طنز، تلخی اور تحقیر اختیار کرتے ہیں۔
حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ، وَأَنَا خَيْرُكُمْ لِأَهْلِي»
"تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے سب سے بہتر ہو، اور میں اپنے گھر والوں کے لیے تم سب سے بہتر ہوں۔" (سنن الترمذی)
ذرا سوچیے۔۔۔
اگر ہر ساس، ہر بہو، ہر نند، ہر بھابھی، ہر شوہر اور ہر بیوی صرف اس ایک حدیث کو اپنی زندگی کا اصول بنا لیں، تو کتنے گھروں کی فضا بدل سکتی ہے۔
محبت مقابلہ نہیں کرتی۔۔۔
مشترکہ خاندانوں کی ایک خاموش بیماری یہ ہے کہ محبت کو محدود سمجھ لیا جاتا ہے۔
ساس کو لگتا ہے کہ بہو اس کا بیٹا اس سے چھین رہی ہے۔۔۔
بہو محسوس کرتی ہے کہ شوہر کی محبت والدین کی وجہ سے تقسیم ہو رہی ہے۔۔۔
نند کو خوف ہوتا ہے کہ بھابھی نے بھائی کو بدل دیا ہے۔۔۔
بھابھی سمجھتی ہے کہ نند اس کی زندگی میں مداخلت کرتی ہے۔۔۔
یوں آہستہ آہستہ ہر رشتہ دوسرے کا حریف بن جاتا ہے۔
حالانکہ محبت کا مزاج مقابلہ نہیں۔۔۔وسعت ہے۔
محبت تقسیم نہیں ہوتی۔۔۔محبت بڑھتی ہے۔
ایک بیٹا اگر اپنی ماں سے محبت کرتا ہے تو اس سے اس کی بیوی کا حق کم نہیں ہوتا۔۔۔ا ور اگر وہ اپنی بیوی سے محبت کرتا ہے تو اس سے والدین کی عزت کم نہیں ہوتی۔
اسلام محبتوں کو ایک دوسرے کے مقابل کھڑا نہیں کرتا، بلکہ ہر رشتے کو اس کا جائز حق دیتا ہے۔
جو گھر اس اصول کو سمجھ لیتے ہیں، وہاں حسد کی جگہ خیرخواہی لے لیتی ہے، مقابلے کی جگہ تعاون آ جاتا ہے، اور دلوں میں وسعت پیدا ہو جاتی ہے۔ الحمدللہ
بدگمانی۔۔۔ بہت سے گھریلو جھگڑوں کی اصل جڑ
ہر اختلاف ظلم سے شروع نہیں ہوتا۔۔۔بلکہ بہت سے اختلافات صرف گمان سے شروع ہوتے ہیں۔
اس نے مجھے سلام نہیں کیا۔ضرور ناراض ہے۔
اس نے میری طرف دیکھ کر بات نہیں کی۔۔۔شاید مجھے حقیر سمجھتی ہے۔
ساس نے میری تعریف نہیں کی۔۔۔یقینا وہ مجھ سے خوش نہیں۔
بھابھی نے دروازہ بند کر لیا۔۔۔ ضرور میری برائی کر رہی ہوگی۔
شوہر نے والدہ کی بات مان لی۔۔۔ یقیناً اب میری کوئی اہمیت نہیں رہی۔
کبھی یہ گمان درست بھی ہو سکتا ہے۔۔۔ لیکن اکثر ایسا نہیں ہوتا۔
شیطان انسان کے دل میں بدگمانی کے بیج بوتا ہے، پھر انہی گمانوں کو حقیقت بنا کر پیش کرتا ہے، یہاں تک کہ تعلقات ٹوٹنے لگتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان مبارک ہے:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ﴾
"اے ایمان والو! بہت سے گمانوں سے بچو، یقیناً بعض گمان گناہ ہوتے ہیں۔" (سورۃ الحجرات: 12)
مومن کا مزاج یہ نہیں ہوتا کہ ہر بات کا بدترین مطلب نکالے، بلکہ حتیٰ الامکان اپنے مسلمان بھائی یا بہن کے عمل کی اچھی توجیہ تلاش کرتا ہے۔
کتنے ہی گھر صرف اس لیے بکھر جاتے ہیں کہ لوگوں نے بات کرنے کے بجائے گمان کرنا شروع کر دیا۔۔۔
محبت کا معیار۔۔۔ اپنے لیے جو پسند ہو، وہی دوسروں کے لیے بھی پسند کریں
اکثر گھریلو اختلافات اس وقت جنم لیتے ہیں جب ہم اپنے لیے تو آسانی چاہتے ہیں، لیکن دوسروں کے لیے وہی آسانی پسند نہیں کرتے۔
ہم چاہتے ہیں کہ۔۔۔
ہماری عزت کی جائے۔۔۔ مگر کبھی دوسروں کی عزت کا خیال نہیں رکھتے۔
ہم چاہتے ہیں کہ۔۔۔
ہماری بات سمجھی جائے۔۔۔ مگر خود دوسروں کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے۔
ہم چاہتے ہیں۔۔۔
کوئی ہمیں طعنے نہ دے۔۔۔ لیکن کبھی اپنی زبان کا محاسبہ نہیں کرتے۔
ہم چاہتے ہیں۔۔۔
کوئی ہماری بیٹی کے ساتھ اچھا سلوک کرے۔۔۔ مگر اپنی بہو کے لیے وہی معیار قائم نہیں کرتے۔
ہم چاہتے ہیں۔۔۔
ہماری ماں کی عزت ہو۔۔۔ مگر اپنے شوہر کی ماں کو وہی مقام دینے میں تنگی محسوس کرتے ہیں۔
رسول اللہ ﷺ کا فرمان مبارک ہے:
«لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى يُحِبَّ لِأَخِيهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ»
"تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل ایمان والا نہیں ہو سکتا جب تک اپنے بھائی کے لیے وہی پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔" (صحیح البخاری، صحیح مسلم)
ذرا رک کر سوچیے۔۔۔
اگر ہر ساس اپنی بہو کے لیے وہی چاہے جو اپنی بیٹی کے لیے چاہتی ہے۔۔۔
اگر ہر بہو اپنی ساس کے لیے وہی احترام رکھے جو اپنی ماں کے لیے چاہتی ہے۔۔۔
اگر ہر نند اپنی بھابھی کے لیے وہی خیرخواہی رکھے جو اپنی بہن کے لیے رکھتی ہے۔۔۔
اور ہر بھابھی اپنی نند کے لیے وہی محبت رکھے جو اپنی بہن کے لیے پسند کرتی ہے۔۔۔
تو شاید گھروں کے آدھے جھگڑے وہیں ختم ہو جائیں۔
حسد نہیں۔۔۔ خیرخواہی
شیطان کو خاندان توڑنے کا ایک آسان طریقہ معلوم ہے۔۔۔وہ دلوں میں حسد پیدا کر دیتا ہے۔
کبھی محبت پر حسد۔۔۔
کبھی توجہ پر۔۔۔
کبھی تعریف پر۔۔۔
کبھی مال پر۔۔۔
اور کبھی صرف اس بات پر کہ دوسرے کو وہ مقام کیوں ملا جو مجھے نہیں ملا۔۔۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان مبارک ہے:
﴿وَلَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللَّهُ بِهِ بَعْضَكُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ﴾
"اور اس چیز کی تمنا نہ کرو جس میں اللہ نے تم میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے۔" (سورۃ النساء: 32)
مومن کا دل دوسروں کی نعمت دیکھ کر تنگ نہیں ہوتا۔۔۔
بلکہ وہ ان کے لیے برکت کی دعا کرتا ہے اور اپنے لیے اللہ سے خیر مانگتا ہے۔
ظلم کسی کے لیے جائز نہیں۔۔۔
ہمارے معاشرے میں بعض اوقات ظلم کو رشتوں کے نام پر جائز سمجھ لیا جاتا ہے۔
ساس ہے، اس لیے جو چاہے کرے۔۔۔
بہو ہے، اسے سب برداشت کرنا چاہیے۔۔۔
نند ہے، اس کا حق ہے کہ مداخلت کرے۔۔۔
بھابھی ہے، اسے گھر پر حکومت کرنی چاہیے۔۔۔
یہ سب تصورات اسلام سے نہیں، معاشرتی رویوں سے پیدا ہوئے ہیں۔
اسلام نے کسی کو ظلم کی اجازت نہیں دی۔
نہ ساس کو۔۔۔
نہ بہو کو۔۔۔
نہ شوہر کو۔۔۔
نہ بیوی کو۔۔۔
نہ نند کو۔۔۔
نہ بھابھی کو۔۔۔
قیامت کے دن کسی سے یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ وہ کس رشتے میں تھا۔۔ بلکہ یہ پوچھا جائے گا کہ اس نے عدل کیا یا ظلم۔
گھر۔۔۔ نوکر رکھنے کی جگہ نہیں
بعض گھروں میں ایک شخص آہستہ آہستہ خود کو گھر کا حکمران سمجھنے لگتا ہے۔
وہ خود آرام کرتا ہے۔۔۔ اور باقی سب اس کی خدمت میں لگے رہتے ہیں۔
کہیں یہ کردار ساس ادا کرتی ہے۔۔۔
کہیں بہو۔۔۔
کہیں نند۔۔۔
کہیں بھابھی۔۔۔
حالانکہ رسول اللہ ﷺ کا طرزِ عمل اس کے بالکل برعکس تھا۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا گیا کہ رسول اللہ ﷺ گھر میں کیا کرتے تھے؟
انہوں نے فرمایا:
"آپ ﷺ اپنے گھر والوں کے کاموں میں ہاتھ بٹاتے تھے، پھر جب نماز کا وقت ہوتا تو نماز کے لیے تشریف لے جاتے۔" (صحیح البخاری)
اگر رسول اللہ ﷺ، جو پوری امت کے قائد تھے، اپنے گھر میں خدمت کو باعثِ عزت سمجھتے تھے، تو ہمیں کس چیز نے یہ احساس دلا دیا کہ خدمت کرنا ہماری شان کے خلاف ہے؟
گھر حکم چلانے سے نہیں۔۔۔ بلکہ تعاون سے آباد ہوتے ہیں۔
ایک دوسرے کو Space دینا بھی حسنِ معاشرت ہے۔۔۔
محبت کا مطلب یہ نہیں کہ ہر وقت دوسروں کی زندگی میں مداخلت کی جائے۔
ہر شخص کی اپنی شخصیت، اپنی پسند، اپنی عادات اور اپنی نجی زندگی ہوتی ہے۔
ہر بات پوچھنا۔۔۔
ہر فیصلے میں رائے دینا۔۔۔
ہر گفتگو سننے کی کوشش کرنا۔۔۔
اور ہر معاملے میں مداخلت کرنا۔۔۔
یہ محبت نہیں، بلکہ دوسروں کی حدود کو نظر انداز کرنا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«مِنْ حُسْنِ إِسْلَامِ الْمَرْءِ تَرْكُهُ مَا لَا يَعْنِيهِ»
"آدمی کے اسلام کی خوبی یہ ہے کہ وہ ان باتوں کو چھوڑ دے جو اس سے متعلق نہ ہوں۔" (جامع الترمذی)
یہ حدیث ہمیں بے تعلقی نہیں سکھاتی۔۔۔بلکہ یہ سکھاتی ہے کہ ہر بات میں مداخلت کرنا حسنِ اسلام نہیں۔
حدود (Boundaries) محبت کو ختم نہیں کرتیں۔۔۔ بلکہ محبت کو محفوظ کرتی ہیں۔
رزق میں فراخی۔۔۔ مگر دل کی وسعت؟
گھر صرف دیواروں سے نہیں بنتے۔۔۔ وہ دلوں سے آباد ہوتے ہیں۔
افسوس کہ بعض گھروں میں کھانے پینے کی معمولی چیزیں بھی تنازع کا سبب بن جاتی ہیں۔
کہیں ساس چیزیں چھپا کر رکھتی ہے۔۔۔
کہیں بہو۔۔۔
کہیں نند۔۔۔۔
کہیں بھابھی۔۔۔
کبھی دودھ ناپ کر دیا جاتا ہے۔۔۔
کبھی پھل چھپا دیے جاتے ہیں۔۔۔
کبھی بچوں کو بھی یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ یہ چیز "صرف ہماری" ہے۔۔۔
یہ طرزِ فکر دل کی تنگی کی علامت ہے، حالانکہ مومن کا دل فراخ ہوتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"جب تم سالن پکاؤ تو اس کا شوربہ زیادہ کر لیا کرو اور اپنے پڑوسی کو بھی اس میں شریک کرو۔" (صحیح مسلم)
جب اسلام ہمیں پڑوسی کے ساتھ بھی فراخ دلی سکھاتا ہے تو اپنے ہی گھر والوں کے ساتھ بخل کیوں؟
یاد رکھیے۔۔۔
رزق تقسیم کرنے سے کم نہیں ہوتا۔۔۔بلکہ اس میں برکت بڑھتی ہے۔ الحمدللہ
تحفے دلوں کو جوڑتے ہیں
کئی مرتبہ وہ کام، جو لمبی بحثیں اور نصیحتیں نہیں کر سکتیں، ایک چھوٹا سا تحفہ کر دیتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ کا فرمان مبارک ہے:
«تَهَادَوْا تَحَابُّوا»
"آپس میں تحفے دیا کرو، محبت بڑھے گی۔" (الأدب المفرد للبخاری، حسن)
تحفہ ہمیشہ مہنگا ہونا ضروری نہیں۔
اپنے ہاتھ سے بنایا ہوا کھانا۔۔۔
پسندیدہ کتاب۔۔۔
ایک پھول۔۔۔
ایک دعا۔۔۔
یا کسی کی پسند کی معمولی سی چیز۔۔۔
یہ سب دلوں کے درمیان موجود فاصلے کم کر سکتے ہیں۔
محبت اکثر بڑی قربانیوں سے نہیں۔۔۔ چھوٹے چھوٹے حسنِ سلوک سے پروان چڑھتی ہے۔
شوہر۔۔۔ خاندان کا پل
مشترکہ خاندان میں شوہر کا کردار سب سے زیادہ حساس اور اہم ہوتا ہے۔
وہ اپنی بیوی اور اپنے والدین کے درمیان ایک پل ہے، دیوار نہیں۔
اگر وہ ایک کی بات سن کر دوسرے پر فیصلہ کر دے۔۔۔
یا انصاف کے بجائے جانبداری اختیار کرے۔۔۔ تو اختلافات بڑھتے جاتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے شوہر کو قوام بنایا ہے۔
قوام ہونے کا مطلب حاکم بن جانا نہیں۔۔۔ بلکہ ذمہ داری اٹھانا ہے۔
اس کا فرض ہے کہ:
اپنی بیوی کے حقوق ادا کرے۔۔۔
اپنے والدین کے حقوق بھی پورے کرے۔۔۔
کسی ایک کی ہر بات پر اندھا اعتماد نہ کرے۔۔۔
اور حکمت، عدل اور تقویٰ کے ساتھ معاملات کو سنبھالے۔۔۔
ایک منصف شوہر بہت سے گھریلو جھگڑوں کو جنم لینے سے پہلے ہی ختم کر دیتا ہے۔
شوہر کا اپنے والدین پر خرچ کرنا
بعض خواتین کو یہ بات ناگوار گزرتی ہے کہ ان کا شوہر اپنے والدین یا بہن بھائیوں پر خرچ کیوں کرتا ہے۔
اگر شوہر اپنی بیوی اور بچوں کے واجب حقوق ادا کر رہا ہے اور والدین کی کفالت بھی اس کے ذمے ہے، تو والدین پر خرچ کرنا بھی اس کے لیے ضروری ہے۔ مزید یہ کہ استطاعت کے مطابق بہن بھائیوں یا دیگر رشتہ داروں پر خرچ کرنا نیکی، صلہ رحمی اور باعثِ اجر عمل ہے۔
یہ سوچنا کہ:
"سارا مال صرف میرے اور میرے بچوں پر خرچ ہونا چاہیے۔"
اسلامی مزاج نہیں۔۔۔
جس مرد نے بچپن میں اپنے والدین کی محبت اور قربانیاں پائیں، اس کا ان کے ساتھ حسنِ سلوک اور ان پر خرچ کرنا احسان نہیں، بلکہ ایک عظیم ذمہ داری ہے۔
البتہ اسی طرح شوہر پر یہ بھی لازم ہے کہ وہ اپنی بیوی اور بچوں کے حقوق میں کوتاہی نہ کرے۔
اسلام ہمیں توازن سکھاتا ہے۔۔۔
بچوں کو ان کی جڑوں سے مت کاٹیں۔۔۔
بعض اوقات الگ رہنا حالات کی وجہ سے بہتر فیصلہ ہوتا ہے۔
اسلام اس کی اجازت دیتا ہے۔
لیکن الگ رہنا اور رشتے ختم کر دینا دو مختلف چیزیں ہیں۔
بچوں کو ان کے دادا، دادی، چچا، پھوپھی، نانا، نانی، ماموں اور خالہ سے محروم کر دینا ان کی شخصیت کے ایک اہم حصے کو کمزور کر دیتا ہے۔
جتنی کسی درخت کی جڑیں مضبوط ہوتی ہیں۔۔۔ اتنا ہی وہ درخت بھی مضبوط ہوتا ہے۔
اسی طرح بچے اپنی شناخت، اپنی روایات، اپنی خاندانی اقدار اور محبت کا بڑا حصہ اپنے خاندان سے سیکھتے ہیں۔
اگر واقعی کسی رشتے میں ظلم یا نقصان کا اندیشہ نہ ہو، تو بچوں کو ان کے خاندان سے جوڑے رکھنا ان کی تربیت میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
حسنِ معاشرت ظلم برداشت کرنے کا نام نہیں
اس تحریر کا ہرگز یہ مقصد نہیں ہے کہ ہر حال میں خاموش رہا جائے۔
اسلام ہمیں حسنِ سلوک، صبر، درگزر اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے، لیکن ظلم کو قبول کرنے یا اسے جاری رہنے دینے کی تعلیم نہیں دیتا۔۔۔
رسول اللہ ﷺ کس فرمان مبارک ہے:
«لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ»
"نہ خود نقصان پہنچاؤ اور نہ نقصان کا بدلہ نقصان پہنچا کر دو۔" (سنن ابن ماجہ، موطأ امام مالک؛ حدیث صحیح)
یہ عظیم اصول ہمیں سکھاتا ہے کہ مسلمان نہ خود کسی پر ظلم کرے، نہ کسی کو نقصان پہنچائے، اور نہ ہی ایسے ظلم کو معمول بننے دے جس سے لوگوں کے حقوق پامال ہوں۔
لہٰذا اگر کسی عورت یا مرد پر جسمانی، مالی، جذباتی یا نفسیاتی ظلم ہو رہا ہو، یا اس کے شرعی حقوق مسلسل پامال کیے جا رہے ہوں، تو اسلام حکمت کے ساتھ اس ظلم کو روکنے، اہلِ علم یا خاندان کے ذمہ دار افراد سے مدد لینے، اور ضرورت کے مطابق مناسب شرعی حل اختیار کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ بعض حالات میں علیحدہ رہائش بھی ایک جائز اور مناسب حل ہو سکتی ہے، اگر اس سے ظلم ختم ہوتا ہو اور حقوق محفوظ رہتے ہوں۔
حسنِ معاشرت کا مطلب یہ نہیں کہ انسان اپنی عزت، اپنی جان یا اپنے شرعی حقوق قربان کر دے۔۔۔
بلکہ حسنِ معاشرت کا مطلب یہ ہے کہ نہ خود ظلم کرے، نہ کسی پر ظلم ہونے دے، اور نہ ہی اپنی جان پر ظلم برداشت کرے۔۔۔ ہر معاملے میں عدل، حکمت اور اللہ تعالیٰ کی رضا کو مقدم رکھے۔
معافی مانگنا کمزوری نہیں۔۔۔
بعض گھروں میں برسوں کی ناراضی صرف اس لیے باقی رہتی ہے کہ کوئی ایک شخص "مجھ سے غلطی ہوئی" کہنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔
حالانکہ اصل طاقت اپنے نفس کو جھکانے میں ہے۔
رسول اللہ ﷺ کا فرمان مبارک ہے:
"طاقتور وہ نہیں جو کشتی میں دوسرے کو گرا دے، بلکہ طاقتور وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے نفس پر قابو رکھے۔" ( صحیح البخاری، صحیح مسلم)
کبھی ایک سچی معذرت۔۔۔
ایک نرم جملہ۔۔۔
یا ایک مخلصانہ معافی۔۔۔
برسوں کی دوریوں کو ختم کر دیتی ہے۔
حقوق سے پہلے فرائض یاد کریں
آج ہر شخص ایک ہی سوال پوچھتا ہے:
"میرا حق کہاں ہے؟"
لیکن بندہ مومن پہلے یہ پوچھتا ہے:
"میرا فرض کیا ہے؟"
اگر ہر ساس یہ سوچے کہ وہ اچھی ساس کیسے بن سکتی ہے۔۔۔
ہر بہو یہ سوچے کہ وہ اچھی بہو کیسے بن سکتی ہے۔۔۔
ہر شوہر یہ سوچے کہ وہ انصاف کیسے قائم کر سکتا ہے۔۔۔
اور ہر بیوی یہ سوچے کہ وہ اپنے گھر کو سکون کا گہوارہ کیسے بنا سکتی ہے۔۔۔
تو بہت سے حقوق خود بخود ادا ہونے لگیں گے۔
حسنِ معاشرت کا اصل راز
ہر اختلاف کے وقت خود سے صرف تین سوال پوچھ لیجیے:
- کیا میں یہ کام اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کر رہا/رہی ہوں؟
- کیا میرے اس رویے میں کسی پر ظلم تو نہیں ہو رہا؟
- اگر میرے ساتھ یہی سلوک کیا جائے تو کیا مجھے پسند آئے گا؟
اگر ان تین سوالوں کے جواب درست ہو جائیں۔۔۔
تو اکثر گھریلو اختلافات بھی درست ہو جائیں گے۔ ان شاءاللہ!
خلاصہ کلام
کامیاب گھر وہ نہیں جہاں کبھی اختلاف نہ ہو۔
بلکہ کامیاب گھر وہ ہے جہاں اختلاف کے باوجود۔۔۔
احترام باقی رہے۔۔۔
عدل باقی رہے۔۔۔
رحمت باقی رہے۔۔۔
اور سب سے بڑھ کر۔۔۔
اللہ تعالیٰ کی رضا سب سے بڑی ترجیح رہے۔
اللہ تعالیٰ کا ایسے ہی لوگوں کی تعریف میں فرمان مبارک ہے:
﴿وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ ۗ وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ﴾
"جو غصہ پی جاتے ہیں، لوگوں کو معاف کر دیتے ہیں، اور اللہ احسان کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔" (آل عمران: 134)
رشتے ہمیشہ کامل نہیں ہوتے۔۔۔
لیکن ہمارا کردار کامل ہونے کی کوشش ضرور کر سکتا ہے۔
جب ہم لوگوں سے حسنِ سلوک اس لیے نہیں کرتے کہ وہ اس کے مستحق ہیں، بلکہ اس لیے کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس سے راضی ہوتا ہے، تو ہمارے گھروں میں صرف محبت ہی نہیں آتی۔۔۔ بلکہ رحمت، سکون اور برکت بھی اترتی ہے۔
یا رب العالمین! ہمارے گھروں کو محبت، رحمت اور سکون کا گہوارہ بنا دے۔ ہمارے دلوں سے حسد، کینہ، بدگمانی، تکبر اور خود غرضی کو دور فرما۔ ہمیں ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے، معاف کرنے، عدل کرنے اور صرف تیری رضا کے لیے حسنِ معاشرت اختیار کرنے کی توفیق عطا فرما۔
یا اللہ! ہمارے رشتوں میں برکت عطا فرما، ہمارے دلوں کو جوڑ دے، اور ہمارے گھروں کو دنیا میں سکون اور آخرت میں جنت کا ذریعہ بنا دے۔ آمین۔
اپنا محاسبہ کیجیے۔۔۔
تحریر ختم کرنے سے پہلے چند لمحے اپنے لیے نکالیے، اور خود سے یہ سوالات پوچھیے:
- کیا میں اپنے گھر میں کسی کے ساتھ ناانصافی تو نہیں کر رہا/رہی؟
- کیا میں دوسروں کے حقوق اتنی ہی سنجیدگی سے سوچتا/سوچتی ہوں جتنے اپنے؟
- کیا میری گفتگو گھر میں سکون پیدا کرتی ہے یا کشیدگی؟
- کیا میں دوسروں کی غلطیوں کو بڑھا چڑھا کر دیکھتا/دیکھتی ہوں، مگر اپنی کو نظر انداز کر دیتا/دیتی ہوں؟
- اگر آج میرے اعمال ہی میرے ساتھ کیے جائیں، تو کیا میں ان سے خوش ہوں گا/گی؟
- اور سب سے اہم۔۔۔اگر آج اللہ تعالیٰ مجھ سے پوچھے کہ میں نے ان رشتوں کو کیسے نبھایا، تو کیا میرے پاس کوئی قابلِ اطمینان جواب ہوگا؟
یاد رکھیے! گھروں کی اصلاح کا آغاز دوسروں کو بدلنے سے نہیں، بلکہ اپنے نفس کی اصلاح سے ہوتا ہے۔ یہی انبیاء علیہم السلام کی دعوت کا طریقہ تھا، اور یہی ایک پُرسکون، باوقار اور اللہ کی رضا والا گھر بنانے کی بنیاد ہے۔
والله الموفق۔۔۔
مزید تحریریں

ہمارے بچے، ڈیجیٹل بھیڑیوں کے چنگل میں باب دوم: بھیڑیوں کی شناخت | قسط 2: ڈیجیٹل بھیڑیے کون ہیں؟
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم رسول اللہ ﷺ کا فرمان مبارک ہے: «كُلُّكُمْ رَاعٍ، وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ» "تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے، اور تم میں سے ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔" "ہر…
مضمون پڑھیں →
ہمارے بچے ڈیجیٹل بھیڑیوں کے چنگل میں | جب محافظ آنکھیں بند کر لیں۔۔۔
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ڈیجیٹل دور میں مسلم والدین کے لیے ایک تربیتی سلسلہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان مبارک ہے: «كُلُّكُمْ رَاعٍ، وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ» "تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے، اور تم میں سے ہر ایک سے…
مضمون پڑھیں →
حکمتِ گفتگو کے پانچ "ک" | حصہ دوم: پہلا "ک" : کسے کہنا ہے؟
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ہم میں سے اکثر لوگ بولنے سے پہلے صرف یہ سوچتے ہیں کہ "مجھے کیا کہنا ہے؟" حالانکہ اس سے بھی پہلے ایک سوال پوچھنا چاہیے: "مجھے یہ بات کسے کہنی ہے؟" یہ سوال معمولی محسوس ہوتا ہے، مگر بہت سے…
مضمون پڑھیں →