تعارفتحریریںغور و فکرسوال و جوابویڈیوزکتابیںآراءرابطہ

قسط ہفتم: ﴿وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ﴾ | حق بھی۔۔۔ذمہ داری بھی

قسط ہفتم: ﴿وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ﴾ | حق بھی۔۔۔ذمہ داری بھی

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دنیا کے خوبصورت ترین رشتے

﴿وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ ۖ وَلِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ﴾

"اور معروف کے مطابق ان (عورتوں) کے لیے اسی طرح حق ہے جیسے ان کے اوپر حق ہے اور مردوں کو ان پر ایک درجہ حاصل ہے" (سورۃ البقرۃ: 228)

الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على نبينا محمد، وعلى آله وصحبه أجمعين.

❶ ایک ایسا اصول جو ہر گھر کے لیے ہے

پچھلی قسط میں ہم نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم پر گفتگو کی تھی:

﴿وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ﴾

کہ ازدواجی زندگی کی بنیاد حسنِ معاشرت، نرمی اور بھلائی پر ہونی چاہیے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ

  • حسنِ معاشرت کی بنیاد کیا ہے؟
  • کیا ایک کامیاب رشتہ صرف محبت سے قائم رہتا ہے؟
  • یا صرف اپنے حقوق حاصل کر لینے سے؟

قرآن کریم ہمیں ایک ایسا اصول عطا کرتا ہے جو ہر دور، ہر معاشرے اور ہر گھر کے لیے رہنمائی کا سرچشمہ ہے۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان مبارک ہے:

﴿وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ﴾

یعنی: عورتوں کے لیے بھی معروف کے مطابق ویسے ہی حقوق ہیں جیسے ان پر ذمہ داریاں ہیں۔

اگرچہ یہ آیت طلاق اور عدت کے احکام کے ضمن میں نازل ہوئی، لیکن اس میں بیان کیا گیا یہ اصول صرف اس موقع تک محدود نہیں، بلکہ میاں بیوی کے تعلق میں عدل، توازن اور حسنِ معاشرت کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔

❷ حق صرف میرا نہیں۔۔۔ دوسرے کا بھی

شیخ عبد السلام بھٹوی رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

"عورتوں کا بھی معروف طریقے کے مطابق مردوں پر ویسا ہی حق ہے جیسا کہ مردوں کا عورتوں پر ہے۔"

کتنا متوازن اصول ہے!

اسلام نے نہ صرف شوہر کے حقوق بیان کیے۔۔۔

اور نہ صرف بیوی کے حقوق۔۔۔

بلکہ دونوں کو یہ احساس دلایا کہ جس طرح تم اپنے لیے کچھ حقوق چاہتے ہو، اسی طرح دوسرے فریق کے بھی تم پر حقوق ہیں۔

یہی احساس گھروں میں انصاف پیدا کرتا ہے۔

بدقسمتی سے اکثر اختلافات اس وقت جنم لیتے ہیں جب ہر شخص اپنے حقوق تو یاد رکھتا ہے، مگر اپنی ذمہ داریوں کو بھول جاتا ہے۔

قرآن کا انداز اس کے برعکس ہے۔

وہ ہمیں سب سے پہلے اپنی ذمہ داری یاد دلاتا ہے، تاکہ دوسروں کے حقوق خود بخود ادا ہونے لگیں۔

❸ قرآن کی تفسیر سنت سے

قرآن کریم نے یہ اصول بیان فرمایا:

﴿وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ﴾

اور رسول اللہ ﷺ نے اپنے عمل اور ارشادات سے اس کی بہترین تشریح فرمائی۔

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا:

"۔۔۔سنو! جس طرح تمہارا تمہاری بیویوں پر حق ہے اسی طرح تم پر تمہاری بیویوں کا بھی حق ہے۔ تمہارا حق تمہاری بیویوں پر یہ ہے کہ وہ تمہارے بستر پر ایسے لوگوں کو نہ روندنے دیں جنہیں تم ناپسند کرتے ہو، اور تمہارے گھر میں ایسے لوگوں کو آنے کی اجازت نہ دیں جنہیں تم اچھا نہیں سمجھتے۔ سنو! اور تم پر ان کا حق یہ ہے کہ تم ان کے لباس اور پہنے میں اچھا سلوک کرو۔" (صحیح مسلم: 1218)

غور کیجیے، رسول اللہ ﷺ نے صرف شوہر کے حقوق کا ذکر نہیں فرمایا، بلکہ اسی گفتگو میں بیوی کے حقوق بھی بیان فرما دیے۔

یہی اسلام کا حسن ہے۔

وہ کسی ایک فریق کو نہیں، بلکہ دونوں کو انصاف، ذمہ داری اور حسنِ معاشرت کی تعلیم دیتا ہے۔

❹ حق مانگنے سے پہلے۔۔۔ حق ادا کرنا

ازدواجی زندگی اس وقت خوبصورت بنتی ہے جب دونوں میاں بیوی ایک دوسرے سے یہ سوال کرنے کے بجائے کہ:

"مجھے کیا ملا؟"

یہ سوچنا شروع کر دیں کہ:

"میں نے دوسرے کا حق کس حد تک ادا کیا؟"

اگر شوہر صرف اپنی اطاعت چاہے، مگر اپنی ذمہ داریاں بھول جائے۔۔۔

یا بیوی صرف اپنے حقوق کا مطالبہ کرے، مگر اپنی ذمہ داریوں سے غفلت برتے۔۔۔

تو رشتہ توازن کھو دیتا ہے۔

قرآن ہمیں لینے سے پہلے دینے، اور مطالبہ کرنے سے پہلے اپنا فرض ادا کرنے کی تربیت دیتا ہے۔

❺ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا خوبصورت طرزِ فکر

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک نہایت خوبصورت قول منقول ہے:

"میں پسند کرتا ہوں کہ اپنی بیوی کے لیے خود کو سنواروں، جیسے میں پسند کرتا ہوں کہ وہ میرے لیے زینت اختیار کرے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:

﴿وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ﴾"

یہ اثر ہمیں ایک اہم سبق دیتا ہے۔ اکثر انسان چاہتا ہے کہ دوسرا اس کے لیے بہترین بنے، مگر وہ خود ویسا بننے کی کوشش کم کرتا ہے۔ حالانکہ ایک خوشگوار ازدواجی زندگی کی ابتدا ہمیشہ اپنی اصلاح سے ہوتی ہے، دوسرے کی اصلاح سے نہیں۔

❻ ﴿وَلِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ﴾ کا کیا مطلب ہے؟

اسی آیت کے آخر اللہ تعالیٰ کا فرمان مبارک ہے:

﴿وَلِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ﴾

"اور مردوں کو ان پر ایک درجہ حاصل ہے۔"

اس جملے کو اس کے پورے قرآنی سیاق میں سمجھنا ضروری ہے۔ شیخ عبد السلام بھٹوی رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ اس "درجہ" سے مراد مردوں کی وہ ذمہ داریاں اور خصوصیات ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ان کے سپرد کی ہیں، جیسے گھر کی ذمہ داری اٹھانا، نان و نفقہ مہیا کرنا، بعض معاملات میں قیادت کی ذمہ داری، اور طلاق و رجوع جیسے بعض شرعی احکام۔

پس یہ درجہ ذمہ داری اور جواب دہی کا ہے، نہ کہ ظلم، تکبر یا عورت کی تحقیر کا۔ اس موضوع کی مزید تفصیل ہم ان شاء اللہ اگلی قسط میں سورۃ النساء کی آیت:﴿الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ﴾کی روشنی میں بیان کریں گے۔

❼ حقوق سے آگے۔۔۔ احسان تک

اگر ہر شخص صرف اتنا کرے جتنا اس پر فرض ہے، تو انصاف قائم ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر دونوں ایک دوسرے کے ساتھ احسان کا معاملہ کریں، تو محبت پروان چڑھتی ہے۔

کبھی شوہر اپنی بیوی کی کسی کوتاہی سے درگزر کر لیتا ہے۔۔۔

کبھی بیوی شوہر کی تھکن اور پریشانی کو سمجھ کر اس کا ساتھ دیتی ہے۔۔۔

کبھی دونوں اپنی انا سے زیادہ رشتے کی حفاظت کو اہمیت دیتے ہیں۔۔۔

یہی وہ لمحات ہیں جہاں رشتہ صرف حقوق کے دائرے سے نکل کر احسان کے درجے تک پہنچ جاتا ہے۔

اور یہی وہ اخلاق ہے جس کی تعلیم قرآن اور سنت بار بار دیتے ہیں۔

❽ اپنا محاسبہ کیجیے۔۔۔

آئیے آج اپنے دل سے چند سوال کریں:

  1. کیا میں اپنے حقوق سے زیادہ اپنی ذمہ داریوں پر غور کرتا/کرتی ہوں؟
  2. کیا میں اپنے شریکِ حیات کے حقوق ادا کرنے میں کوشاں ہوں؟
  3. کیا میں صرف لینے کی توقع رکھتا/رکھتی ہوں، یا دینے کی بھی فکر کرتا/کرتی ہوں۔
  4. کیا میں اپنے گھر میں عدل کے ساتھ ساتھ احسان کو بھی جگہ دیتا/دیتی ہوں؟

❾ عمل سے زندگی بنتی ہے

آج اپنے شریکِ حیات کے لیے کوئی ایسا کام کیجیے جو صرف "فرض" نہ ہو، بلکہ احسان ہو۔ مثلاً:

ایک اچھا جملہ۔۔۔

دل سے کیا گیا شکریہ۔۔۔

ایک مسکراہٹ۔۔۔

یا کوئی ایسی خدمت جس سے دوسرے کے دل میں خوشی پیدا ہو۔ بسا اوقات رشتوں کو بڑی قربانیوں سے زیادہ، انہی چھوٹے مگر مخلصانہ اعمال کی ضرورت ہوتی ہے۔

خلاصہ کلام

اسلام نے ازدواجی تعلق کو حقوق کی کشمکش نہیں بنایا، بلکہ ذمہ داریوں، عدل اور باہمی احترام پر قائم کیا ہے۔

اسی لیے قرآن پہلے یہ یاد دلاتا ہے:

﴿وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ﴾

عورتوں کے بھی حقوق ہیں، جیسے ان پر ذمہ داریاں ہیں۔ اور پھر مردوں کی اضافی ذمہ داریوں کا ذکر کرتا ہے، تاکہ گھر کا نظام ذمہ داری اور حکمت کے ساتھ چل سکے۔

جب میاں اور بیوی دونوں یہ سوچنے لگیں کہ "میں دوسرے کا حق کیسے ادا کروں؟" تو بہت سے اختلافات خود بخود ختم ہونے لگتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے گھروں میں عدل، احسان، حسنِ معاشرت اور باہمی احترام کو زندہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

﴿رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا﴾

"اے ہمارے رب! ہمیں ہماری بیویوں، ہماری اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما، اور ہمیں متقیوں کا پیشوا بنا دے۔"

(سورۃ الفرقان: 74)

اے اللہ! ہمیں اپنے حقوق ادا کرنے سے پہلے اپنی ذمہ داریوں کو پہچاننے کی توفیق عطا فرما۔ ہمارے گھروں میں انصاف کے ساتھ احسان، محبت کے ساتھ احترام، اور تعلقات میں اخلاص پیدا فرما۔ ہمارے دلوں کو اپنی رضا کے لیے جوڑ دے اور ہمارے گھروں کو سکون اور رحمت کا گہوارہ بنا دے۔ آمین۔

مراجع

  • القرآن الكريم: سورۃ البقرۃ، آیت 228۔
  • صحیح مسلم: حدیث 1218۔
  • تفسیر القرآن الکریم، مولانا عبد السلام بھٹوی، سورۃ البقرۃ، آیت 228۔
  • اثرِ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما

والسلام

آمنہ چاہل

(Life Skills Trainer, Islamic Life Coach)

تمام تحریریں

مزید تحریریں

ہمارے بچے، ڈیجیٹل بھیڑیوں کے چنگل میں باب دوم: بھیڑیوں کی شناخت | قسط 2: ڈیجیٹل بھیڑیے کون ہیں؟

ہمارے بچے، ڈیجیٹل بھیڑیوں کے چنگل میں باب دوم: بھیڑیوں کی شناخت | قسط 2: ڈیجیٹل بھیڑیے کون ہیں؟

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم رسول اللہ ﷺ کا فرمان مبارک ہے: «كُلُّكُمْ رَاعٍ، وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ» "تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے، اور تم میں سے ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔" "ہر…

مضمون پڑھیں
ہمارے بچے ڈیجیٹل بھیڑیوں کے چنگل میں | جب محافظ آنکھیں بند کر لیں۔۔۔

ہمارے بچے ڈیجیٹل بھیڑیوں کے چنگل میں | جب محافظ آنکھیں بند کر لیں۔۔۔

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ڈیجیٹل دور میں مسلم والدین کے لیے ایک تربیتی سلسلہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان مبارک ہے: «كُلُّكُمْ رَاعٍ، وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ» "تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے، اور تم میں سے ہر ایک سے…

مضمون پڑھیں
حکمتِ گفتگو کے پانچ "ک" | حصہ دوم: پہلا "ک" :  کسے کہنا ہے؟

حکمتِ گفتگو کے پانچ "ک" | حصہ دوم: پہلا "ک" : کسے کہنا ہے؟

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ہم میں سے اکثر لوگ بولنے سے پہلے صرف یہ سوچتے ہیں کہ "مجھے کیا کہنا ہے؟" حالانکہ اس سے بھی پہلے ایک سوال پوچھنا چاہیے: "مجھے یہ بات کسے کہنی ہے؟" یہ سوال معمولی محسوس ہوتا ہے، مگر بہت سے…

مضمون پڑھیں