قسط ششم | ﴿وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ﴾حسنِ معاشرت۔۔۔محبت کا عملی اظہار

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
﴿وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ ۚ فَإِن كَرِهْتُمُوهُنَّ فَعَسَىٰ أَن تَكْرَهُوا شَيْـًٔا وَيَجْعَلَ اللَّهُ فِيهِ خَيْرًا كَثِيرًا﴾
"اور ان کے ساتھ اچھے طریقے سے زندگی بسر کرو، پھر اگر تم انہیں ناپسند کرو تو ممکن ہے تم ایک چیز کو ناپسند کرو اور اللہ اس میں بہت بھلائی رکھ دے۔" (سورۃ النساء: 19)
الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على نبينا محمد، وعلى آله وصحبه أجمعين.
❶ حسنِ معاشرت۔۔۔اللہ تعالیٰ کا حکم
پچھلی قسط میں ہم نے رسول اللہ ﷺ کی اس عظیم تعلیم پر گفتگو کی تھی کہ شریکِ حیات کی خامیوں کے ساتھ اس کی خوبیوں کو بھی دیکھا جائے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ اگر ازدواجی زندگی میں اختلافِ مزاج پیدا ہو جائے، بعض عادات ناگوار محسوس ہونے لگیں، یا دل میں ناپسندیدگی جنم لینے لگے، تو ایسے وقت میں ایک مسلمان کا طرزِ عمل کیا ہونا چاہیے؟
قرآن کریم اس سوال کا نہایت حکمت بھرا جواب دیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ﴾
یعنی "ان کے ساتھ بھلے طریقے سے زندگی بسر کرو۔"
یہ ایک مختصر حکم ہے، مگر اپنے اندر ازدواجی زندگی کے بے شمار آداب سموئے ہوئے ہے۔
شیخ عبد السلام بھٹوی رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے شوہروں کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنی بیویوں کے ساتھ اچھے طریقے سے رہیں۔
"معروف" سے مراد وہ طرزِ زندگی اور وہ حسنِ سلوک ہے جسے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے پسند فرمایا ہو، اور جسے سلیم فطرت بھی بھلائی شمار کرتی ہو۔
اس میں حسنِ اخلاق، نرم گفتگو، عزت و احترام، عدل، خیرخواہی، حقوق کی ادائیگی اور خوش اخلاقی، سب شامل ہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے اسی حقیقت کو یوں بیان فرمایا:
«خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ، وَأَنَا خَيْرُكُمْ لِأَهْلِي»
"تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے سب سے بہتر ہو، اور میں تم میں سے اپنے گھر والوں کے لیے سب سے بہتر ہوں۔"
(جامع الترمذی، حدیث: 3895، سنن ابن ماجہ: 1977)
اگرچہ آیت اور حدیث میں خطاب شوہروں سے ہے، لیکن قرآن و سنت کے عمومی احکام کی روشنی میں حسنِ معاشرت صرف ایک فریق کی ذمہ داری نہیں۔ ایک کامیاب مسلمان گھر وہ ہے جہاں میاں اور بیوی دونوں ایک دوسرے کے ساتھ نرمی، احترام، خیرخواہی اور حسنِ اخلاق کا معاملہ کریں۔
❷ ناپسندیدگی کے باوجود حسنِ معاشرت
ازدواجی زندگی میں ہمیشہ ایسا نہیں ہوتا کہ دونوں ایک دوسرے کی ہر بات پسند کریں۔
اختلافِ مزاج بھی ہوتا ہے۔۔۔
کچھ عادتیں ناگوار بھی محسوس ہوتی ہیں۔۔۔
اور بعض اوقات وقتی حالات کی وجہ سے دلوں میں دوری بھی پیدا ہونے لگتی ہے۔
لیکن ایسے موقع پر قرآن ہمیں جذبات کے بجائے حکمت، صبر اور حسنِ معاشرت کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿فَإِن كَرِهْتُمُوهُنَّ﴾
یعنی اگر کسی وجہ سے ناپسندیدگی پیدا ہو جائے، تو یہی احساس فوری فیصلوں یا بدسلوکی کا سبب نہ بن جائے۔
بلکہ اللہ تعالیٰ اس کے فوراً بعد امید سے بھرپور ایک حقیقت بیان فرماتے ہیں:
﴿فَعَسَىٰ أَن تَكْرَهُوا شَيْـًٔا وَيَجْعَلَ اللَّهُ فِيهِ خَيْرًا كَثِيرًا﴾
"ممکن ہے تم ایک چیز کو ناپسند کرو، اور اللہ اسی میں بہت سی بھلائی رکھ دے۔"
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ انسان کی نظر محدود ہوتی ہے، جبکہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کے انجام کو جانتے ہیں۔
اسی لیے ایک مومن وقتی جذبات کی بنیاد پر فیصلہ کرنے کے بجائے اللہ تعالیٰ کی حکمت پر اعتماد کرتا ہے۔
❸ ﴿وَيَجْعَلَ اللَّهُ فِيهِ خَيْرًا كَثِيرًا﴾
یہ آیت امید کا دروازہ کھولتی ہے۔
شیخ عبد السلام بھٹوی رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ اگر کسی اخلاقی کمزوری یا ظاہری ناپسندیدگی کی وجہ سے شوہر اپنی بیوی سے علیحدگی کا ارادہ کرے، تو اسے جلد بازی نہیں کرنی چاہیے، بلکہ حسنِ معاشرت کے ساتھ زندگی گزارنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
ممکن ہے اللہ تعالیٰ اسی رشتے میں ایسی بھلائی رکھ دے جس کا انسان اس وقت تصور بھی نہ کر سکتا ہو۔
مثلاً:
اللہ تعالیٰ صالح اولاد عطا فرما دے۔
گھر میں خیر و برکت پیدا ہو جائے۔
وقت گزرنے کے ساتھ دلوں کی ناپسندیدگی محبت میں بدل جائے۔
انسان صرف اپنے آج کو دیکھتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ مستقبل اور انجام کو جانتے ہیں۔
اسی لیے قرآن ہمیں جلد بازی کے بجائے صبر، حکمت اور حسنِ معاشرت کی تعلیم دیتا ہے۔
❹ رسول اللہ ﷺ کی عملی رہنمائی
قرآن کریم نے حسنِ معاشرت کا حکم دیا، اور رسول اللہ ﷺ نے اپنے قول اور عمل سے اس کی بہترین مثال پیش فرمائی۔
آپ ﷺ نے فرمایا:
«خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ، وَأَنَا خَيْرُكُمْ لِأَهْلِي»
"تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے سب سے بہتر ہو، اور میں تم میں سے اپنے گھر والوں کے لیے سب سے بہتر ہوں۔"
(جامع الترمذی: 3895، سنن ابن ماجہ: 1977)
یہ حدیث ہمیں یاد دلاتی ہے کہ انسان کی حقیقی عظمت کا معیار صرف لوگوں کے سامنے اچھا نظر آنا نہیں، بلکہ اپنے گھر والوں کے ساتھ بہترین اخلاق اختیار کرنا بھی ہے۔
رسول اللہ ﷺ کی سیرت اس کی روشن مثال ہے۔ آپ ﷺ اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ نہایت خوش اخلاق، نرم مزاج، صبر کرنے والے اور خیرخواہ تھے۔ آپ ﷺ نے حسنِ معاشرت کو محض ایک نصیحت کے طور پر نہیں، بلکہ اپنی عملی زندگی میں بھی مکمل طور پر اختیار فرمایا۔
اگرچہ اس حدیث میں خطاب مردوں سے ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ حسنِ معاشرت صرف شوہر کی ذمہ داری ہے۔ قرآن و سنت کے عمومی احکام کی روشنی میں میاں اور بیوی دونوں ایک دوسرے کے ساتھ حسنِ اخلاق، عزت، نرمی اور خیرخواہی کا معاملہ کرنے کے مکلف ہیں۔
❺ قرآن اور سنت کا خوبصورت ربط
پچھلی قسط میں ہم نے رسول اللہ ﷺ کی یہ حدیث پڑھی تھی:
«لَا يَفْرَكْ مُؤْمِنٌ مُؤْمِنَةً، إِنْ كَرِهَ مِنْهَا خُلُقًا رَضِيَ مِنْهَا آخَرَ»
"کوئی مومن اپنی مومنہ بیوی سے نفرت نہ کرے، اگر اس کی ایک عادت اسے ناپسند ہو تو دوسری پسند بھی ہوگی۔"
(صحیح مسلم: 1469)
غور کیجیے کہ سورۃ النساء کی یہ آیت اور یہ حدیث ایک دوسرے کی بہترین وضاحت کرتی ہیں۔
قرآن ہمیں سکھاتا ہے کہ اگر کوئی بات ناگوار محسوس ہو، تو ممکن ہے اللہ تعالیٰ اسی میں خیرِ کثیر رکھ دے۔
اور رسول اللہ ﷺ ہمیں سکھاتے ہیں کہ اگر ایک عادت ناپسند ہو، تو دوسری خوبی کو بھی دیکھا جائے۔
یوں قرآن امید پیدا کرتا ہے، اور سنت انصاف اور حسنِ نظر کی تربیت کرتی ہے۔
ایک مسلمان وقتی جذبات کی بنیاد پر اپنے شریکِ حیات کے بارے میں فیصلہ نہیں کرتا، بلکہ اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کی روشنی میں اپنا رویہ درست کرتا ہے۔
❻ حسنِ معاشرت کی چند عملی صورتیں
حسنِ معاشرت صرف ایک احساس یا جذبے کا نام نہیں، بلکہ یہ روزمرہ زندگی کے چھوٹے چھوٹے اعمال میں ظاہر ہوتا ہے۔
مثلاً:
ایک دوسرے سے احترام سے گفتگو کرنا۔۔۔
سلام اور مسکراہٹ کے ساتھ ایک دوسرے کا استقبال کرنا۔۔۔
اچھے کام پر شکریہ ادا کرنا۔۔۔
غلطی کی صورت میں تحقیر کے بجائے حکمت اور نرمی سے اصلاح کرنا۔۔۔
ایک دوسرے کی عزت اور رازوں کی حفاظت کرنا۔۔۔
خوشی اور آزمائش، دونوں میں ساتھ دینا۔۔ ۔
ایک دوسرے کے لیے دعا کرنا۔۔۔
گھر کے معاملات میں تعاون اور خیرخواہی کا رویہ اختیار کرنا۔۔۔
یہ اعمال بظاہر معمولی محسوس ہوتے ہیں، لیکن یہی وہ چیزیں ہیں جو گھر کے ماحول کو سکون، مودّت اور رحمت سے بھر دیتی ہیں۔ الحمدللہ!
❼ اپنا محاسبہ کیجیے۔۔۔
ہر تحریر کا مقصد صرف معلومات دینا نہیں، بلکہ اپنے دل کا محاسبہ کرنا بھی ہے۔
آئیے چند لمحوں کے لیے خود سے یہ سوال کریں:
- کیا میرے شریکِ حیات کو میری موجودگی سے سکون ملتا ہے؟
- کیا میرے لہجے میں نرمی، احترام اور خیرخواہی ہے؟
- کیا اختلاف کے وقت بھی میں حسنِ معاشرت کا دامن تھامے رکھتا/رکھتی ہوں؟
- کیا میں اپنے شریکِ حیات کی خوبیوں کو بھی اتنی ہی توجہ سے دیکھتا/دیکھتی ہوں جتنی خامیوں کو؟
- کیا میں وقتی ناراضی میں ایسے فیصلے یا الفاظ اختیار کر لیتا/لیتی ہوں جن پر بعد میں ندامت ہو؟
اگر ان سوالات میں کہیں کمی محسوس ہو، تو یہی اس تحریر کا سب سے بڑا فائدہ ہے کہ ہم اپنی اصلاح کی طرف قدم بڑھائیں۔
❽ عمل سے زندگی بنتی ہے۔۔۔
آج اپنے شریکِ حیات کے ساتھ "معروف" کا ایک عمل ضرور کیجیے۔
شاید ایک مسکراہٹ۔۔۔
ایک شکریہ۔۔۔
حوصلہ افزائی کا ایک جملہ۔۔۔
دل سے کی گئی ایک دعا۔۔۔
یا کسی ایسی بات سے گریز، جو دل آزاری کا سبب بن سکتی ہو۔۔۔
یاد رکھیے! حسنِ معاشرت بڑے کارناموں سے نہیں، بلکہ انہی چھوٹے چھوٹے اعمال سے پروان چڑھتا ہے جو مسلسل اختیار کیے جائیں۔
خلاصہ کلام
اللہ تعالیٰ نے رشتۂ ازدواج کو صرف ایک سماجی یا قانونی بندھن نہیں بنایا، بلکہ اسے سکون، مودّت، رحمت اور حسنِ معاشرت کی بنیادوں پر قائم کیا ہے۔
اسی لیے قرآن ہمیں حکم دیتا ہے:
﴿وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ﴾
اور جب کبھی زندگی میں کوئی ایسی بات پیش آ جائے جو ناگوار محسوس ہو، تو اللہ تعالیٰ ہمیں یہ امید بھی دلاتے ہیں:
﴿فَعَسَىٰ أَن تَكْرَهُوا شَيْـًٔا وَيَجْعَلَ اللَّهُ فِيهِ خَيْرًا كَثِيرًا﴾
ایک مومن جانتا ہے کہ ہر ناپسندیدہ چیز نقصان نہیں ہوتی۔ بعض اوقات جس چیز کو انسان اپنے لیے آزمائش سمجھ رہا ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ اسی میں اس کے لیے خیرِ کثیر رکھ دیتا ہے۔
اسی لیے اسلام ہمیں وقتی جذبات کی بنیاد پر فیصلے کرنے کے بجائے صبر، حسنِ معاشرت، عدل اور اللہ تعالیٰ کی حکمت پر اعتماد کی تعلیم دیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے گھروں کو حسنِ اخلاق، خیرخواہی، مودّت اور رحمت کا گہوارہ بنانے کی توفیق عطا فرمائے، اور ہمارے درمیان ایسی محبت پیدا فرمائے جو اس کی رضا کا ذریعہ بنے۔ آمین۔
﴿رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا﴾
"اے ہمارے رب! ہمیں ہماری بیویوں اور ہماری اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما، اور ہمیں متقیوں کا پیشوا بنا دے۔"
(سورۃ الفرقان: 74)
اے اللہ! ہمارے گھروں کو ایمان، سکون، مودّت اور رحمت سے بھر دے۔ ہمیں ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے، حسنِ معاشرت اختیار کرنے، ایک دوسرے کی خوبیوں کی قدر کرنے اور کمزوریوں پر صبر و درگزر سے کام لینے کی توفیق عطا فرما۔ ہمارے درمیان محبت کو اپنی رضا کا ذریعہ بنا، اور ہمارے گھروں کو دنیا و آخرت کی بھلائی کا سبب بنا دے۔ آمین۔
مراجع
- القرآن الكريم: سورۃ النساء، آیت 19۔
- جامع الترمذی: حدیث 3895۔
- سنن ابن ماجہ: حدیث 1977۔
- صحیح مسلم: حدیث 1469۔
- تفسیر القرآن الکریم، مولانا عبد السلام بھٹوی، سورۃ النساء، آیت 19۔
والسلام
آمنہ چاہل
(Life Skills Trainer, Islamic Life Coach)
مزید تحریریں

ہمارے بچے، ڈیجیٹل بھیڑیوں کے چنگل میں باب دوم: بھیڑیوں کی شناخت | قسط 2: ڈیجیٹل بھیڑیے کون ہیں؟
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم رسول اللہ ﷺ کا فرمان مبارک ہے: «كُلُّكُمْ رَاعٍ، وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ» "تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے، اور تم میں سے ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔" "ہر…
مضمون پڑھیں →
ہمارے بچے ڈیجیٹل بھیڑیوں کے چنگل میں | جب محافظ آنکھیں بند کر لیں۔۔۔
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ڈیجیٹل دور میں مسلم والدین کے لیے ایک تربیتی سلسلہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان مبارک ہے: «كُلُّكُمْ رَاعٍ، وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ» "تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے، اور تم میں سے ہر ایک سے…
مضمون پڑھیں →
حکمتِ گفتگو کے پانچ "ک" | حصہ دوم: پہلا "ک" : کسے کہنا ہے؟
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ہم میں سے اکثر لوگ بولنے سے پہلے صرف یہ سوچتے ہیں کہ "مجھے کیا کہنا ہے؟" حالانکہ اس سے بھی پہلے ایک سوال پوچھنا چاہیے: "مجھے یہ بات کسے کہنی ہے؟" یہ سوال معمولی محسوس ہوتا ہے، مگر بہت سے…
مضمون پڑھیں →