قسط پنجم: خامیوں کے ساتھ خوبیوں کو بھی دیکھیے

بسم الله الرحمن الرحيم
ازدواجی سکون کا تعلق ایک بے عیب شریکِ حیات سے نہیں، بلکہ ایسی نگاہ سے ہے جو خامیوں کے ساتھ خوبیوں کو بھی دیکھنا جانتی ہو۔
الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على نبينا محمد، وعلى آله وصحبه أجمعين
❶ کیا کوئی انسان کامل ہو سکتا ہے؟
ہر انسان کی کچھ خوبیاں ہوتی ہیں اور کچھ کمزوریاں۔۔۔
ہم میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جس میں صرف خوبیاں ہوں اور کوئی کمی نہ ہو۔اگر ہم ہر انسان سے کامل ہونے کی توقع رکھیں گے تو مایوسی ہمارا مقدر بن جائے گی۔
یہ حقیقت صرف ازدواجی زندگی تک محدود نہیں، بلکہ ہر انسانی تعلق پر صادق آتی ہے۔
لیکن چونکہ میاں بیوی ایک دوسرے کے سب سے قریب ہوتے ہیں، اس لیے ایک دوسرے کی خوبیاں بھی سب سے زیادہ دیکھتے ہیں اور کمزوریاں بھی۔
اکثر ازدواجی زندگی میں اختلافات کی ایک وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ انسان رفتہ رفتہ اپنے شریکِ حیات کی خوبیوں کو معمولی سمجھنے لگتا ہے، جبکہ اس کی کمزوریاں اس کی پوری توجہ کا مرکز بن جاتی ہیں۔
ایسے میں محبت کمزور ہونے لگتی ہے، شکایتیں بڑھ جاتی ہیں اور دلوں کا سکون متاثر ہونے لگتا ہے۔
اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایک ایسا اصول عطا فرمایا جو ازدواجی زندگی میں انصاف، اعتدال اور حسنِ نظر پیدا کرتا ہے۔
❷ رسول اللہ ﷺ کی ایک عظیم رہنمائی
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«لَا يَفْرَكْ مُؤْمِنٌ مُؤْمِنَةً، إِنْ كَرِهَ مِنْهَا خُلُقًا رَضِيَ مِنْهَا آخَرَ»
”کوئی مومن (شوہر) کسی مومنہ (بیوی) سے بغض نہ رکھے، اگر اس کی کوئی ایک عادت اسے ناپسند ہے تو کوئی دوسری عادت پسند بھی ہے۔ “ (صحیح مسلم، حدیث: 1469)
اس حدیث میں حسنِ معاشرت کی ترغیب ہے، اور یہ کہ شوہر کو بیوی سے نفرت نہیں کرنی چاہیے، کیونکہ اگر وہ اس میں کوئی ایسی عادت دیکھے جو اسے ناپسند ہو، تو ضرور کوئی ایسی خصلت بھی پائے گا جو پسندیدہ ہوگی
اگرچہ حدیث کے الفاظ میں خطاب مردوں سے ہے، لیکن اس کی تعلیم عورتوں کے لیے بھی اتنی ہی اہم ہے۔ جس طرح شوہر کو بیوی کی خوبیوں کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے، اسی طرح بیوی کو بھی شوہر کی خوبیوں کو فراموش نہیں کرنا چاہیے۔
اسلام دونوں کو انصاف، حسنِ معاشرت اور اعتدال کی تعلیم دیتا ہے۔ پس یہی اصول عورت کے لیے بھی ہے کہ وہ اپنے شوہر کی کسی کمزوری کی وجہ سے اس کی دوسری خوبیوں کو نظر انداز نہ کرے۔
❸ حدیث ہمیں کیا سکھاتی ہے؟
رسول اللہ ﷺ کی یہ حدیث ہمیں ازدواجی زندگی کا ایک نہایت اہم اصول سکھاتی ہے۔
البتہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ انسان غلطیوں کو درست کرنے کی کوشش ہی نہ کرے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک خامی کو پوری شخصیت پر غالب نہ آنے دیا جائے۔
اگر شریکِ حیات میں کوئی ایسی عادت ہے جو ہمیں پسند نہیں، تو ہمیں اس کی دوسری اچھی صفات بھی یاد رکھنی چاہییں۔
شاید وہ صبر کرنے والا ہو۔۔۔
شاید وہ امانت دار ہو۔۔۔
شاید بچوں کے لیے بہترین والد یا والدہ ہو۔۔۔
شاید والدین کی خدمت کرنے والا ہو۔۔۔
شاید دین سے محبت رکھنے والا ہو۔۔۔
انصاف یہی ہے کہ انسان ایک کمزوری کی وجہ سے دوسرے کی تمام خوبیوں کو فراموش نہ کر ے۔
البتہ اس حدیث کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ شریعت کے خلاف کام، ظلم، بدزبانی، خیانت یا حقوق کی پامالی کو نظر انداز کر دیا جائے۔ ایسے معاملات میں اصلاح، نصیحت اور حکمت کے ساتھ مسئلے کا حل تلاش کرنا ضروری ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی یہ تعلیم روزمرہ کی انسانی کمزوریوں میں انصاف، حسنِ نظر اور اعتدال اختیار کرنے کی ہے، نہ کہ ناانصافی یا گناہ پر خاموش رہنے کی۔
بہت سے ایسے معاملات جن کی اصلاح نصیحت، صبر، دعا اور حسنِ معاشرت سے ممکن ہو، انہیں جلد بازی میں رشتے کو توڑنے کی وجہ بنانے کے بجائے اصلاح کی کوشش کرنی چاہیے۔ اگر اصلاح کی کوششوں کے باوجود مسئلہ برقرار رہے، تو پھر شریعت کی رہنمائی، عدل اور تقویٰ کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلہ کرنا چاہیے۔
❹ رسول اللہ ﷺ کا مبارک اسوہ
رسول اللہ ﷺ نے اپنی گھریلو زندگی میں حسنِ اخلاق، صبر اور درگزر کا بہترین نمونہ پیش فرمایا۔
آپ ﷺ نے صرف اپنے حقوق کا مطالبہ نہیں سکھایا، بلکہ اپنے عمل سے یہ سکھایا کہ ایک کامیاب گھر محبت، احترام، نرمی اور خیرخواہی سے آباد ہوتا ہے۔
آپ ﷺ نے فرمایا:
«خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ، وَأَنَا خَيْرُكُمْ لِأَهْلِي»
"تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے سب سے بہتر ہو، اور میں اپنے گھر والوں کے لیے تم سب سے بہتر ہوں۔" (جامع الترمذی، حدیث: 3895)
اگرچہ حدیث کے الفاظ میں خطاب مردوں سے ہے، لیکن اس کی تعلیم عورتوں کے لیے بھی اتنی ہی اہم ہے۔
ایک مسلمان گھر اس وقت مضبوط ہوتا ہے جب میاں اور بیوی دونوں ایک دوسرے کے لیے بہترین ساتھی بننے کی کوشش کریں۔ وہ ایک دوسرے کے حقوق ادا کریں، نرمی سے بات کریں، ایک دوسرے کی عزت کریں اور اختلاف کے باوجود حسنِ اخلاق کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔
یہی وہ طرزِ عمل ہے جو مودّت کو بڑھاتا اور رحمت کو قائم رکھتا ہے
❺ خامیوں کے ساتھ خوبیوں کو بھی دیکھیے
انسانی فطرت یہ ہے کہ جس چیز پر وہ بار بار توجہ دیتا ہے، وہی اس کی نظر میں بڑی ہونے لگتی ہے۔
اگر انسان ہر روز صرف اپنے شریکِ حیات کی کمزوریاں ہی دیکھتا رہے، تو آہستہ آہستہ اس کی نگاہ خوبیوں سے ہٹ جاتی ہے۔
پھر شکایات بڑھنے لگتی ہیں۔۔۔
قدردانی کم ہونے لگتی ہے۔۔۔
اور وہ نعمتیں بھی معمولی محسوس ہونے لگتی ہیں جن پر کبھی انسان اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا تھا۔
اس کے برعکس، جب انسان شعوری طور پر اپنے شریکِ حیات کی اچھی صفات کو بھی یاد رکھتا ہے، تو دل میں شکر پیدا ہوتا ہے، احترام باقی رہتا ہے اور محبت مضبوط ہوتی ہے۔
یہی وہ توازن ہے جس کی تعلیم رسول اللہ ﷺ نے دی۔
❻ قرآن اور سنت کا متوازن راستہ
اسلام ہمیں نہ تو غیر حقیقی توقعات رکھنے کی تعلیم دیتا ہے، اور نہ ہی ہر کمزوری پر مایوس ہو جانے کی۔ بلکہ اسلام انسان کو انصاف، صبر اور اصلاح کا راستہ دکھاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے میاں بیوی کے درمیان مودّت اور رحمت رکھی ہے، اور یہی دونوں نعمتیں انسان کو یہ سکھاتی ہیں کہ وہ اپنے شریکِ حیات کی کمزوریوں کے باوجود خیرخواہی اور حسنِ سلوک کا رویہ اختیار کرے۔
ہر انسان میں کچھ کمزوریاں ہوتی ہیں، لیکن ہر انسان میں اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ بہت سی خوبیاں بھی ہوتی ہیں۔اور ایک کامیاب ازدواجی زندگی وہ ہے جس میں اصلاح کی کوشش بھی ہو، اور انصاف بھی۔۔۔
نصیحت بھی ہو، اور نرمی بھی۔۔۔
اختلاف بھی ہو سکتا ہے، مگر احترام ختم نہ ہو۔۔۔
یہی قرآن اور سنت کا متوازن راستہ ہے۔ الحمدللہ!
واللہ الموفق۔۔۔
❼ اپنا احتساب کیجیے
آئیے چند لمحوں کے لیے خود اپنا جائزہ لیں۔
- کیا میں اپنے شریکِ حیات کی خوبیوں کو بھی اتنی ہی توجہ سے دیکھتا/دیکھتی ہوں جتنی اس کی کمزوریوں کو؟
- میری گفتگو میں شکایت زیادہ ہوتی ہے یا شکر؟
- کیا میں اصلاح کے لیے نرمی اختیار کرتا/کرتی ہوں یا صرف تنقید؟
- کیا میرے شریکِ حیات کو میری موجودگی سے سکون ملتا ہے؟
- کیا میں اپنے شریکِ حیات کی کسی ایک خوبی پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا/کرتی ہوں؟
بعض اوقات اپنے آپ سے پوچھے گئے یہی سوالات ہمارے رویّوں میں بڑی تبدیلی کا آغاز بن جاتے ہیں۔ الحمدللہ!
❽ عمل سے زندگی بنتی ہے
آج چند منٹ نکالیے۔۔۔
- اپنے شریکِ حیات کی کم از کم تین خوبیاں لکھیے۔
- پھر ان میں سے کسی ایک خوبی پر آج ہی ان کا شکریہ ادا کیجیے۔
ممکن ہے وہ صرف ایک دعا ہو۔۔۔
ایک مسکراہٹ۔۔۔
یا ایک مخلصانہ "شکریہ و جزاك الله خيرًا"۔
بعض اوقات یہی چھوٹے چھوٹے اچھے الفاظ بھی دلوں میں بڑی محبت پیدا کرنے کا باعث بن جاتے ہیں۔
خلاصہ کلام
رسول اللہ ﷺ کی یہ مختصر سی حدیث ازدواجی زندگی کا ایک نہایت اہم اصول ہمارے سامنے رکھتی ہے۔
انسانوں کے درمیان تعلقات اس لیے خوبصورت نہیں ہوتے کہ ان میں کبھی کوئی کمی یا اختلاف نہیں آتا، بلکہ اس لیے مضبوط رہتے ہیں کہ ان میں انصاف، صبر، درگزر اور خیرخواہی باقی رہتی ہے۔
ایک مسلمان جانتا ہے کہ اس کا شریکِ حیات بھی اسی کی طرح ایک انسان ہے؛ اس میں خوبیاں بھی ہیں اور کمزوریاں بھی۔
اگر وہ صرف خامیوں کو دیکھے گا تو دل میں شکایت بڑھتی جائے گی، لیکن اگر وہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ خوبیوں کو بھی یاد رکھے گا تو شکر، محبت اور احترام باقی رہیں گے۔
شاید اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایک عیب کے مقابلے میں دوسری خوبی کو یاد رکھنے کی تعلیم دی۔ یہ تعلیم ہمیں غیر حقیقی توقعات سے نکال کر انصاف، اعتدال اور حسنِ معاشرت کی طرف لے جاتی ہے۔
رشتۂ ازدواج کا حسن اس میں نہیں کہ دونوں میں کبھی کوئی اختلاف نہ ہو، بلکہ اس میں ہے کہ اختلاف کے باوجود دونوں ایک دوسرے کے ساتھ عدل، احترام اور خیرخواہی کا معاملہ کریں۔ جب میاں اور بیوی ایک دوسرے کی خوبیوں کو دیکھنا سیکھ لیتے ہیں، تو بہت سی شکایتیں خود بخود کم ہونے لگتی ہیں، اور یہی رویہ گھر کے سکون، مودّت اور رحمت کو مضبوط کرتا ہے۔
اسی حقیقت کو واضح کرتے ہوئے سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ سے ایک مشہور قول منقول ہے کہ:
"ہر گھر محبت پر قائم نہیں رہتا، بلکہ لوگ اسلام، حسنِ اخلاق اور خاندانی اقدار کی بنیاد پر بھی ایک دوسرے کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں۔"
یعنی ایک مضبوط گھر صرف جذبات سے نہیں، بلکہ ایمان، ذمہ داری، صبر، عدل اور حسنِ معاشرت سے بھی قائم رہتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے گھروں میں اسی حسنِ نظر، حسنِ اخلاق اور حسنِ معاشرت کو اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
﴿رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا﴾
"اے ہمارے رب! ہمیں ہماری بیویوں اور ہماری اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما، اور ہمیں متقیوں کا پیشوا بنا دے۔" (سورۃ الفرقان: 74)
اے اللہ! ہمارے دلوں کو ایمان، صبر اور حسنِ اخلاق سے آراستہ فرما۔ ہمارے درمیان مودّت، رحمت اور باہمی احترام قائم رکھ۔ ہمیں اپنے شریکِ حیات کی خوبیوں کی قدر کرنے، اس کی کمزوریوں میں انصاف سے کام لینے، اور ہر معاملے میں تیری رضا کو مقدم رکھنے کی توفیق عطا فرما۔ آمین۔
مراجع:
- القرآن الكريم: سورۃ الروم، آیت 21۔
- القرآن الكريم: سورۃ الفرقان، آیت 74۔
- صحیح مسلم: حدیث 1469 — «لَا يَفْرَكْ مُؤْمِنٌ مُؤْمِنَةً، إِنْ كَرِهَ مِنْهَا خُلُقًا رَضِيَ مِنْهَا آخَرَ»
- شرح صحیح مسلم، امام نووی، حدیث 1469۔
- جامع الترمذی: حدیث 3895 — «خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ، وَأَنَا خَيْرُكُمْ لِأَهْلِي»
- تفسیر القرآن الکریم، مولانا عبد السلام بھٹوی، سورۃ الروم، آیت 21۔
"سکون، مودّت اور رحمت صرف اللہ تعالیٰ کی عطا سے قائم رہتے ہیں، اور ان کی حفاظت حسنِ معاشرت، عدل، صبر اور تقویٰ کے ذریعے ہوتی ہے۔"
والسلام
آمنہ چاہل
(Life Skills Trainer, Islamic Life Coach)
مزید تحریریں

ہمارے بچے، ڈیجیٹل بھیڑیوں کے چنگل میں باب دوم: بھیڑیوں کی شناخت | قسط 2: ڈیجیٹل بھیڑیے کون ہیں؟
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم رسول اللہ ﷺ کا فرمان مبارک ہے: «كُلُّكُمْ رَاعٍ، وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ» "تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے، اور تم میں سے ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔" "ہر…
مضمون پڑھیں →
ہمارے بچے ڈیجیٹل بھیڑیوں کے چنگل میں | جب محافظ آنکھیں بند کر لیں۔۔۔
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ڈیجیٹل دور میں مسلم والدین کے لیے ایک تربیتی سلسلہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان مبارک ہے: «كُلُّكُمْ رَاعٍ، وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ» "تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے، اور تم میں سے ہر ایک سے…
مضمون پڑھیں →
حکمتِ گفتگو کے پانچ "ک" | حصہ دوم: پہلا "ک" : کسے کہنا ہے؟
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ہم میں سے اکثر لوگ بولنے سے پہلے صرف یہ سوچتے ہیں کہ "مجھے کیا کہنا ہے؟" حالانکہ اس سے بھی پہلے ایک سوال پوچھنا چاہیے: "مجھے یہ بات کسے کہنی ہے؟" یہ سوال معمولی محسوس ہوتا ہے، مگر بہت سے…
مضمون پڑھیں →