قسط چہارم: ﴿وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً﴾ محبت سے آگے۔۔۔ رحمت تک

بسم الله الرحمن الرحيم
ایک کامیاب رشتے کی دو مضبوط بنیادیں:
اللہ تعالیٰ نے رشتۂ ازدواج کو صرف ایک ساتھ رہنے کا نام نہیں دیا، بلکہ اس کے درمیان دو ایسی نعمتیں رکھ دیں جو ہر کامیاب گھر کی بنیاد ہیں: مودّت اور رحمت۔
الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على نبينا محمد، وعلى آله وصحبه أجمعين.
❶ محبت کیوں کافی نہیں؟
آج کے دور میں جب ازدواجی زندگی کی بات ہوتی ہے تو زیادہ تر گفتگو محبت کے گرد گھومتی ہے۔
اگر محبت ہو تو رشتہ کامیاب سمجھا جاتا ہے، اور اگر محبت میں کمی محسوس ہونے لگے تو لوگ یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ شاید اب اس رشتے کی بنیاد ہی ختم ہو گئی۔
لیکن قرآن کریم ہمیں ازدواجی زندگی کا اس سے کہیں بلند اور متوازن تصور عطا کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان مبارک ہے:
﴿وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً﴾
"اور اس نے تمہارے درمیان محبت اور رحمت رکھ دی۔"
(سورۃ الروم: 21)
ذرا غور کیجیے۔۔۔
اللہ تعالیٰ نے صرف محبت کا ہی ذکر نہیں کیا، بلکہ اس کے ساتھ رحمت کا بھی ذکر فرمایا۔
گویا ایک کامیاب گھر صرف محبت کے جذبات پر نہیں، بلکہ محبت اور رحمت دونوں پر قائم ہوتا ہے۔
یہی وہ حقیقت ہے جسے آج کے دور میں دوبارہ سمجھنے کی ضرورت ہے۔
❷ مودّت۔۔۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ محبت
اللہ تعالیٰ فرمان مبارک ہے:
﴿وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً﴾
یعنی اللہ تعالیٰ نے خود میاں بیوی کے درمیان مودّت رکھ دی۔
مودّت صرف دل میں موجود محبت کا نام نہیں، بلکہ ایسی محبت ہے جو حسنِ سلوک، احترام، خیرخواہی اور اچھے رویّے کی صورت میں ظاہر ہو۔ یہ وہ محبت ہے جو صرف محسوس نہیں کی جاتی بلکہ روزمرہ کے الفاظ، اندازِ گفتگو، خدمت، تعاون اور ایک دوسرے کی قدر کرنے سے نمایاں ہوتی ہے۔
تفسیر القرآن الکریم میں مولانا عبد السلام بھٹوی رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ دنیا میں عشق و محبت کی بے شمار داستانیں مشہور ہیں، مگر جو حقیقی مودّت اللہ تعالیٰ نکاح کے ذریعے میاں بیوی کے درمیان پیدا فرماتا ہے، ناجائز تعلقات میں گرفتار لوگ اس کی خوشبو بھی نہیں پا سکتے۔
ذرا اس حقیقت پر غور کیجیے۔۔۔
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ دو افراد ایک دوسرے سے پہلے کبھی واقف بھی نہیں ہوتے، لیکن نکاح کے بعد آہستہ آہستہ ان کے درمیان ایسا تعلق قائم ہو جاتا ہے کہ وہ ایک دوسرے کی خوشیوں اور غموں کے ساتھی بن جاتے ہیں۔
یہ صرف انسانی کوشش کا نتیجہ نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ایک عظیم نعمت ہے۔
اسی حقیقت کو رسول اللہ ﷺ نے ان الفاظ میں بیان فرمایا:
«لَمْ نَرَ لِلْمُتَحَابَّيْنِ مِثْلَ النِّكَاحِ»
"ہم نے ایک دوسرے سے محبت کرنے والوں کے لیے نکاح جیسی کوئی چیز نہیں دیکھی۔"
(سنن ابن ماجہ: 1847)
یعنی جب مرد اور عورت کے درمیان پسندیدگی پیدا ہو جائے تو اس محبت کو پاکیزہ، محفوظ اور مضبوط بنانے کے لیے نکاح سے بہتر کوئی راستہ نہیں، کیونکہ نکاح محبت میں اضافہ کرتا ہے، جبکہ حرام تعلقات بالآخر نفرت، عداوت اور فساد کا سبب بن جاتے ہیں۔
کیونکہ نکاح صرف محبت کو جائز نہیں بناتا، بلکہ اسے تحفظ، وقار اور دوام بھی عطا کرتا ہے۔ الحمدللہ!
❸ رحمت کا اظہار۔۔۔ جب محبت ذمہ داری بن جاتی ہے
اللہ تعالیٰ نے محبت کے ساتھ رحمت بھی رکھی۔
یہ ایک ایسا لفظ ہے جو ازدواجی زندگی کے استحکام کا راز اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔
تفسیر القرآن الکریم میں شیخ عبد السلام بھٹوی رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کی عظیم نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ میاں بیوی تندرستی اور جوانی میں بھی، اور بیماری اور بڑھاپے میں بھی ایک دوسرے پر مہربان اور رحم کرنے والے ہوتے ہیں۔
یہی رحمت ہے۔
جب جوانی باقی نہ رہے۔۔۔
جب بیماری آ جائے۔۔۔
جب معاشی حالات بدل جائیں۔۔۔
جب کمزوریاں نمایاں ہونے لگیں۔۔۔
تب بھی ایک دوسرے کا ساتھ نبھانا، خیرخواہی کرنا اور نرمی سے پیش آنا۔
یہی وہ چیز ہے جو نکاح کو محض ایک جذباتی تعلق نہیں رہنے دیتی، بلکہ اسے وفاداری، ذمہ داری اور عبادت کا رشتہ بنا دیتی ہے۔ الحمدللہ!
❹ محبت اور رحمت میں کیا فرق ہے؟
محبت دلوں کو قریب لاتی ہے۔۔۔اور رحمت انہیں قریب رکھتی ہے۔
محبت خوشیوں میں اظہار چاہتی ہے۔۔۔رحمت آزمائشوں میں کردار بن کر سامنے آتی ہے۔
محبت کسی خوبی سے متاثر ہو سکتی ہے۔۔۔رحمت کمزوری کے باوجود ساتھ نبھانا سکھاتی ہے۔
محبت مسکراہٹوں میں نظر آتی ہے۔۔۔رحمت آنسوؤں کے وقت پہچانی جاتی ہے۔
اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان دونوں نعمتوں کو ایک ساتھ ذکر فرمایا۔
جہاں محبت ہو مگر رحمت نہ ہو، وہاں معمولی آزمائشیں بھی تعلق کو کمزور کر سکتی ہیں۔
اور جہاں رحمت موجود ہو، وہاں بڑی آزمائشیں بھی رشتے کو بکھرنے نہیں دیتیں۔ الحمدلله!
❺ آج ہمارے گھروں کو کس چیز کی زیادہ ضرورت ہے؟
اگر ہم اپنے معاشرے کا جائزہ لیں تو محسوس ہوگا کہ محبت کے اظہار کے ذرائع پہلے سے کہیں زیادہ ہیں، مگر گھروں میں سکون کم ہوتا جا رہا ہے۔
ہم چاہتے ہیں کہ ہمیں سمجھا جائے۔۔۔
لیکن دوسروں کو سمجھنے کی کوشش کم کرتے ہیں۔
ہم اپنی غلطیوں پر معافی چاہتے ہیں۔۔۔
لیکن دوسروں کی لغزشوں کو یاد رکھتے ہیں۔
ہم اپنے حقوق یاد رکھتے ہیں۔۔۔
مگر اپنے فرائض بھول جاتے ہیں۔
جبکہ قرآن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ایک کامیاب گھر صرف محبت سے نہیں بنتا۔
وہ رحمت سے آباد ہوتا ہے۔۔۔
رحمت یہ ہے کہ ہم اپنے شریکِ حیات کی کمزوری کو اس کی پوری شخصیت نہ بنا دیں، بلکہ اس کی خوبیوں کو بھی دیکھیں، اس کے لیے آسانی پیدا کریں اور اختلاف کے باوجود خیرخواہی کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔
❻ رسول اللہ ﷺ کی ذات مبارکہ... مودّت اور رحمت کا کامل نمونہ
اللہ تعالیٰ نے جس مودّت اور رحمت کا ذکر فرمایا، اس کی سب سے کامل عملی تفسیر رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں نظر آتی ہے۔
آپ ﷺ نے صرف ان تعلیمات کو بیان ہی نہیں فرمایا، بلکہ اپنی گھریلو زندگی میں انہیں بہترین انداز میں اختیار بھی کیا۔
آپ ﷺ اپنی ازواجِ مطہرات کے جذبات کا خیال رکھتے، ان کے ساتھ حسنِ معاشرت سے پیش آتے، ان کی دلجوئی فرماتے اور اپنے عمل سے امت کو یہ سکھاتے کہ گھر کے اندر بہترین اخلاق ہی حقیقی کامیابی ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ، وَأَنَا خَيْرُكُمْ لِأَهْلِي»
"تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے سب سے بہتر ہو، اور میں اپنے گھر والوں کے لیے تم سب سے بہتر ہوں۔" (جامع الترمذی، حدیث: 3895)
اگرچہ حدیث کے الفاظ میں خطاب مردوں سے ہے، لیکن اس کی تربیت عورتوں کے لیے بھی اتنی ہی اہم ہے۔
ایک کامیاب مسلمان گھر اسی وقت وجود میں آتا ہے جب میاں اور بیوی دونوں ایک دوسرے کے لیے بہترین ساتھی بننے کی کوشش کریں؛ ایک دوسرے کے ساتھ حسنِ اخلاق، خیرخواہی، نرمی اور رحمت کا معاملہ کریں۔
❼ مودّت اور رحمت... روزمرہ زندگی میں اظہار
اکثر لوگ محبت کو بڑے بڑے الفاظ اور تحفوں سے جوڑتے ہیں، حالانکہ روزمرہ زندگی میں محبت کا اظہار بہت سادہ امور سے ہوتا ہے۔
مودّت کا اظہار کبھی ایک مسکراہٹ سے ہوتا ہے۔۔۔
کبھی شکریے کے ایک لفظ سے۔۔۔
کبھی توجہ سے سن لینے سے۔۔
اور کبھی تھکے ہوئے شریکِ حیات کا بوجھ بانٹ لینے سے۔۔۔
اسی طرح رحمت بھی صرف کسی بڑی آزمائش کے وقت ظاہر نہیں ہوتی۔
بعض اوقات یہ اس وقت نظر آتی ہے جب انسان غصے کے باوجود نرم لہجہ اختیار کرے۔۔۔
اختلاف کے باوجود انصاف کرے۔۔۔
اور دوسرے کی کمزوری کو اس کے خلاف ہتھیار بنانے کے بجائے اس پر پردہ ڈالے۔۔۔
یہی وہ چھوٹے چھوٹے اعمال ہیں جو اللہ تعالیٰ کے حکم سے گھروں میں محبت، سکون اور برکت کا ذریعہ بنتے ہیں۔
❽ قرآن ہمیں کیا سکھاتا ہے؟
سورۃ الروم کی اس ایک آیت میں اللہ تعالیٰ نے ازدواجی زندگی کی مضبوط بنیادیں بیان فرما دی ہیں۔
پہلے فرمایا:
﴿لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا﴾
یعنی نکاح کا مقصد ایک دوسرے کے لیے سکون بننا ہے۔
پھر فرمایا:
﴿وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً﴾
یعنی اس سکون کو باقی رکھنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے تمہارے درمیان مودّت اور رحمت رکھ دی۔
گویا ایک مسلمان گھرانہ صرف اس وقت مضبوط رہ سکتا ہے جب اس میں سکون بھی ہو، مودّت بھی ہو اور رحمت بھی۔
یہ تینوں نعمتیں ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہیں۔
❾ اپنا محاسبہ کیجیے
آئیے چند لمحوں کے لیے خود اپنا جائزہ لیں۔
- کیا میری محبت صرف الفاظ تک محدود ہے، یا میرے اعمال بھی اس کی گواہی دیتے ہیں؟
- کیا میں اپنے شریکِ حیات کی خوبیوں کو بھی اتنی ہی توجہ سے دیکھتا/دیکھتی ہوں جتنی اس کی کمزوریوں کو؟
- کیا میرے گھر میں میری زبان سکون کا سبب بنتی ہے یا بے چینی کا؟
- کیا اختلاف کے وقت بھی میں انصاف اور حسنِ اخلاق کا دامن تھامے رکھتا/رکھتی ہوں؟
- اگر آج میرا شریکِ حیات کسی آزمائش سے گزر رہا ہو، تو کیا اسے میرے اندر رحمت نظر آئے گی؟
ان سوالات کے جواب صرف ہمارے رشتے ہی نہیں، ہمارے اپنے کردار کی بھی عکاسی کرتے ہیں۔
❿ عمل سے زندگی بنتی ہے
آج اپنے شریکِ حیات کے لیے کوئی ایک ایسا عمل ضرور کیجیے جس میں مودّت کا اظہار بھی ہو اور رحمت بھی کا بھی۔۔۔
شاید ایک مخلصانہ شکریہ۔۔۔
ایک معذرت۔۔۔
ایک دعا۔۔۔
یا خاموشی سے اس کا کوئی کام آسان کر دینا۔۔۔
یاد رکھیے، گھروں کی مضبوطی ہمیشہ بڑے بڑے کارناموں سے نہیں ہوتی، بلکہ روزمرہ کی چھوٹی چھوٹی نیکیوں، مہربانیوں اور حسنِ اخلاق سے ہوتی ہے۔
سکون، مودّت اور رحمت: یہ تینوں نعمتیں انسان خود پیدا نہیں کرتا، بلکہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے عطا فرماتا ہے۔ اسی لیے ہر مسلمان گھرانے کو ان نعمتوں کے حصول کے لیے صرف ظاہری اسباب ہی نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ سے دعا اور اس کی اطاعت کا بھی اہتمام کرنا چاہیے۔
خلاصہ کلام
اللہ تعالیٰ نے رشتۂ ازدواج کو اپنی نشانیوں میں شمار فرمایا اور اس کے استحکام کے لیے دو عظیم نعمتیں عطا فرمائیں: مودّت اور رحمت۔
مودّت دلوں کو ایک دوسرے سے جوڑتی ہے۔۔۔
اور رحمت اس تعلق کو وقت، حالات اور آزمائشوں کے باوجود قائم رکھتی ہے۔۔۔
جس گھر میں محبت کے ساتھ رحمت بھی موجود ہو، وہاں اختلاف دشمنی میں تبدیل نہیں ہوتا، کمزوریاں نفرت کا سبب نہیں بنتیں، اور آزمائشیں رشتے کو توڑنے کے بجائے مزید مضبوط کر دیتی ہیں۔ الحمدللہ!
آج جب بہت سے گھر معمولی باتوں پر بکھر رہے ہیں، ہمیں نئے نظریات تلاش کرنے کے بجائے قرآن کی اسی ابدی رہنمائی کی طرف لوٹنے کی ضرورت ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمارے گھروں کو بھی اسی مودّت، رحمت اور سکون سے بھر دے جس کا ذکر اس نے اپنی کتاب میں فرمایا ہے۔ آمین!
﴿رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا﴾
"اے ہمارے رب! ہمیں ہماری بیویوں اور ہماری اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما، اور ہمیں متقیوں کا پیشوا بنا دے۔" (سورۃ الفرقان: 74)
اے اللہ! ہمارے درمیان مودّت اور رحمت قائم فرما، ہمارے گھروں کو ایمان، سکون اور برکت سے آباد فرما، اور ہمیں ایک دوسرے کے حقوق تیری رضا کے مطابق ادا کرنے کی توفیق عطا فرما۔ آمین۔
مراجع:
- القرآن الكريم: سورۃ الروم، آیت 21۔
- القرآن الكريم: سورۃ الفرقان، آیت 74۔
- تفسیر القرآن الکریم، مولانا عبد السلام بھٹوی، سورۃ الروم، آیت 21۔
- سنن ابن ماجہ، حدیث: 1847 — «لَمْ نَرَ لِلْمُتَحَابَّيْنِ مِثْلَ النِّكَاحِ»۔
- جامع الترمذی، حدیث: 3895 — «خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ، وَأَنَا خَيْرُكُمْ لِأَهْلِي»۔
والسلام
آمنہ چاہل
( Life Skills Trainer, Islamic Life Coach)
مزید تحریریں

ہمارے بچے، ڈیجیٹل بھیڑیوں کے چنگل میں باب دوم: بھیڑیوں کی شناخت | قسط 2: ڈیجیٹل بھیڑیے کون ہیں؟
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم رسول اللہ ﷺ کا فرمان مبارک ہے: «كُلُّكُمْ رَاعٍ، وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ» "تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے، اور تم میں سے ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔" "ہر…
مضمون پڑھیں →
ہمارے بچے ڈیجیٹل بھیڑیوں کے چنگل میں | جب محافظ آنکھیں بند کر لیں۔۔۔
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ڈیجیٹل دور میں مسلم والدین کے لیے ایک تربیتی سلسلہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان مبارک ہے: «كُلُّكُمْ رَاعٍ، وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ» "تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے، اور تم میں سے ہر ایک سے…
مضمون پڑھیں →
حکمتِ گفتگو کے پانچ "ک" | حصہ دوم: پہلا "ک" : کسے کہنا ہے؟
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ہم میں سے اکثر لوگ بولنے سے پہلے صرف یہ سوچتے ہیں کہ "مجھے کیا کہنا ہے؟" حالانکہ اس سے بھی پہلے ایک سوال پوچھنا چاہیے: "مجھے یہ بات کسے کہنی ہے؟" یہ سوال معمولی محسوس ہوتا ہے، مگر بہت سے…
مضمون پڑھیں →