قسط سوم : ﴿لِتَسْكُنُوا إِلَيْهَا﴾ رشتۂ ازدواج: اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ سکون

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
"انسان ساری زندگی سکون کی تلاش میں رہتا ہے۔ کوئی اسے دولت میں ڈھونڈتا ہے، کوئی شہرت میں، کوئی کامیابی میں، اور کوئی نئے نئے تعلقات میں۔ مگر خالقِ کائنات نے میاں بیوی کے رشتے کا پہلا مقصد ہی یہ بیان فرمایا کہ وہ ایک دوسرے کے لیے سکون کا ذریعہ بنیں۔"
الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على نبينا محمد، وعلى آله وصحبه أجمعين.
❶ سکون۔۔۔ ہر انسان کی فطری ضرورت
دنیا کا ہر انسان سکون چاہتا ہے۔
دن بھر کی تھکن۔۔۔
ذمہ داریوں کا بوجھ۔۔۔
زندگی کی آزمائشیں۔۔۔
اور لوگوں کے رویے۔۔۔
ان سب کے بعد انسان ایک ایسی جگہ چاہتا ہے جہاں اس کا دل مطمئن ہو جائے۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان مبارک ہے:
﴿وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا﴾
"اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمھارے لیے تمھی میں سے بیویاں پیدا کیں، تاکہ تم ان کی طرف جا کر سکون پاؤ۔" (سورۃ الروم: 21)
غور کیجیے۔۔۔
اللہ تعالیٰ نے نکاح کا پہلا مقصد اولاد، مال یا معاشرتی ضرورت کو نہیں، بلکہ سکون کو بیان فرمایا۔
یہی اس رشتے کی اصل روح ہے۔
❷ سکون صرف ایک چھت کے نیچے رہنے کا نام نہیں
اس آیت کی تفسیر میں وضاحت کی گئی ہے کہ عربی زبان میں "سَكَنَ عِنْدَهُ" کسی کے پاس رہنے کے لیے آتا ہے، جبکہ "سَكَنَ إِلَيْهِ" سے مراد دل کا کسی کی طرف مائل ہونا اور اس کے پاس قلبی و روحانی راحت پانا ہے۔
اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ﴿لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا﴾ فرمایا۔
یعنی ازدواجی زندگی صرف ساتھ رہنے کا نام نہیں، بلکہ ایسا تعلق ہے جہاں انسان کے دل کو اطمینان، روح کو راحت اور زندگی کو سہارا ملے۔
اسی حقیقت کو سمجھانے کے لیے حضرت آدم علیہ السلام کا واقعہ بھی بیان کیا گیا ہے۔ جنت جیسی نعمتوں کے باوجود ان کے سکون کی تکمیل اس وقت ہوئی جب اللہ تعالیٰ نے حضرت حواء علیہا السلام کو ان کے لیے پیدا فرمایا۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مرد اور عورت کو ایک دوسرے کے لیے سکون کا ذریعہ بنایا ہے۔
❸ سکون محبت سے پہلے کیوں؟
اسی آیت میں آگے مودت اور رحمت کا بھی ذکر ہے، لیکن اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے سکون کا ذکر فرمایا۔
یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ایک مضبوط ازدواجی زندگی کی بنیاد صرف جذباتی محبت نہیں، بلکہ ایسا اطمینان ہے جس میں انسان اپنے شریکِ حیات کے ساتھ خود کو محفوظ محسوس کرے۔
جس گھر میں ہر وقت تحقیر ہو۔۔۔
بدگمانی ہو۔۔۔
تلخ لہجہ ہو۔۔۔
اور مسلسل تنقید ہو۔۔۔
وہاں محبت کے محض دعوے تو کیے جا سکتے ہیں، مگر سکون کا پیدا ہونا محال ہے۔
❹ سکون کا مطلب اختلاف کا نہ ہونا نہیں
ہر گھر میں اختلاف ہوتا ہے۔۔۔
ہر گھر آزمائشوں سے گزرتا ہے۔۔۔
مالی تنگی بھی آ سکتی ہے۔۔۔
بیماری بھی آ سکتی ہے۔۔۔
تو سکون کا مطلب یہ ہے کہ آزمائشیں دونوں کو ایک دوسرے کا مخالف نہیں، بلکہ ایک دوسرے کا سہارا بنا دیں۔
اسی لیے بعض چھوٹے گھروں میں بھی دل مطمئن ہوتے ہیں، اور بعض بڑے گھروں میں بھی بے سکونی راج کرتی ہے۔
پس سکون کا تعلق بڑے مکان و مادی اشیاء کی فروانی سے نہیں بلکہ اس رشتے سے ہے جو اللہ تعالیٰ نے زوجین کے مابین قائم فرمایا ہے۔
❺ ہمارے گھروں سے سکون کیوں رخصت ہو رہا ہے؟
اگر اللہ تعالیٰ نے نکاح کو سکون کا ذریعہ بنایا ہے تو پھر بہت سے گھر بے سکونی کا شکار کیوں ہیں؟
اس کی چند بڑی وجوہات یہ ہیں:
- ہم اپنے حقوق یاد رکھتے ہیں، ذمہ داریاں بھول جاتے ہیں۔
- ہم سننے سے زیادہ جواب دینے کی تیاری کرتے ہیں۔
- ہم اصلاح سے پہلے تنقید کرتے ہیں۔
- ہم اپنے شریکِ حیات کا دوسروں سے موازنہ کرتے ہیں۔
- ہم سوشل میڈیا کی مصنوعی زندگی کو اپنی حقیقت پر ترجیح دیتے ہیں۔
- اور سب سے بڑھ کر، ہم اپنے گھروں سے اللہ تعالیٰ کی یاد کم کر دیتے ہیں۔
پھر سکون کی جگہ بے چینی آہستہ آہستہ گھر کر لیتی ہے۔
اسی حقیقت کی طرف رسول اللہ ﷺ نے بھی ہماری رہنمائی فرمائی:
«لَا يَفْرَكْ مُؤْمِنٌ مُؤْمِنَةً، إِنْ كَرِهَ مِنْهَا خُلُقًا، رَضِيَ مِنْهَا آخَرَ»
"کوئی مومن مرد کسی مومن عورت سے نفرت نہ کرے، اگر اس کی ایک عادت اسے ناپسند ہو تو دوسری عادت اسے پسند ہوگی۔"
(صحیح مسلم)
یہ حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ ازدواجی سکون کا تعلق بے عیب شریکِ حیات سے نہیں، بلکہ ایسی نگاہ سے ہے جو خامیوں کے ساتھ خوبیوں کو بھی دیکھنا جانتی ہو۔ اگرچہ اس حدیث میں خطاب مردوں سے ہے، لیکن اس کی تربیتی رہنمائی عورتوں کے لیے بھی اتنی ہی اہم ہے۔ ایک کامیاب ازدواجی زندگی اسی وقت پروان چڑھتی ہے جب میاں اور بیوی دونوں ایک دوسرے کی کمزوریوں کے ساتھ ساتھ خوبیوں کو بھی انصاف اور اعتدال کے ساتھ دیکھیں۔
❻ رسول اللہ ﷺ کی ذات مبارکہ۔۔۔ سکون کا بہترین نمونہ
رسول اللہ ﷺ کی گھریلو زندگی حسنِ معاشرت، نرمی اور رحمت کا عملی نمونہ تھی۔
- آپ ﷺ اپنی ازواجِ مطہرات کی بات سنتے۔۔۔
- ان کے جذبات کا خیال رکھتے۔۔۔
- ان سے مشورہ فرماتے۔۔۔
- اور ان کے ساتھ بہترین اخلاق سے پیش آتے۔۔۔
اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ، وَأَنَا خَيْرُكُمْ لِأَهْلِي»
"تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے سب سے بہتر ہو، اور میں اپنے گھر والوں کے لیے تم سب سے بہتر ہوں۔"
گھر کا سکون بڑی قربانیوں سے پہلے، چھوٹے چھوٹے امور میں حسنِ اخلاق سے پیدا ہوتا ہے۔
❼ انسانی فطرت اور سکون
- اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایسی فطرت پر پیدا فرمایا ہے کہ وہ ایک ایسی جگہ چاہتا ہے جہاں اسے عزت، خیرخواہی اور اطمینان ملے۔
- اسی لیے میاں بیوی ایک دوسرے کی بات توجہ سے سنیں، ایک دوسرے کی عزت کریں، ایک دوسرے کے جذبات کو سمجھنے کی کوشش کریں، اور ایسا ماحول بنائیں جہاں دونوں اپنے دل کی بات بلا خوف بیان کر سکیں۔
- جس گھر میں اعتماد، احترام اور خیرخواہی موجود ہو تو وہی گھر سکون کا گہوارہ بن جاتا ہے۔
- اور جب تحقیر، بے اعتنائی اور سخت لہجہ معمول بن جائیں تو ایک ہی چھت کے نیچے رہتے ہوئے بھی دل ایک دوسرے سے دور ہو جاتے ہیں۔
قرآن ہمیں کیا سکھاتا ہے؟
اللہ تعالیٰ نے نکاح کو صرف ایک ساتھ رہنے کے لیے نہیں، بلکہ ایک دوسرے کے لیے سکون بننے کے لیے قائم فرمایا ہے۔
❽ اپنا محاسبہ کیجیے:
اپنے آپ سے یہ سوال کیجیے:
- کیا میرے شریکِ حیات کو میری موجودگی میں سکون ملتا ہے؟
- کیا وہ بلا خوف اپنی بات مجھ سے کر سکتا/سکتی ہے؟
- کیا میرے الفاظ گھر میں سکون لاتے ہیں یا بے چینی؟
- کیا میرے گھر واپس آنے سے میرے شریکِ حیات کے دل میں اطمینان پیدا ہوتا ہے یا اضطراب؟
- کیا میرا گھر اللہ تعالیٰ کی رحمت اترنے کی جگہ بن رہا ہے؟
❾ عمل سے زندگی بنتی ہے۔۔
آج صرف ایک کام کیجیے۔
اپنے شریکِ حیات کے ساتھ دس منٹ گزاریں۔
کوئی شکایت نہیں۔۔۔
کوئی بحث نہیں۔۔۔
کوئی نصیحت نہیں۔۔۔
صرف توجہ سے سنیں۔۔۔
بعض اوقات سکون دینے کے لیے الفاظ سے زیادہ اخلاص و توجہ سے سننے کی ضرورت ہوتی ہے۔
❿ خلاصہ کلام
سکون نہ تو خریدا جا سکتا ہے ۔۔۔
اور نہ ہی یہ کسی محل کی زینت ہے۔۔۔
سکون تو اللہ تعالیٰ کی وہ نعمت ہے جو ان دلوں میں اترتی ہے جو اس کی ہدایت کے مطابق ایک دوسرے کے لیے رحمت بننے کی کوشش کرتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان مبارک ہے:
﴿لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا﴾
پس اگر ہمارا گھر ہمارے دل کو اللہ تعالیٰ کی یاد دلائے، اگر ہماری موجودگی ایک دوسرے کے لیے اطمینان اور رحمت بن جائے، تو ہم اس مقصد کے قریب پہنچ رہے ہیں جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے رشتۂ ازدواج کو قائم فرمایا۔ الحمدللہ!
واللہ الموفق۔۔۔
اگلی قسط۔۔۔
﴿وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً﴾
- اللہ تعالیٰ نے محبت اور رحمت دونوں کا ذکر کیوں فرمایا؟
- کیا محبت ہمیشہ ایک جیسی رہتی ہے؟
- اور جب جذبات کمزور پڑ جائیں تو رحمت اس رشتے کو کیسے سنبھالتی ہے؟
- ان شاء اللہ، اگلی قسط میں اسی موضوع پر گفتگو کریں گے۔
مراجع:
- القرآن الكريم، سورة الروم، آیت 21۔
- تفسیر القرآن الکریم، مولانا عبد السلام بھٹوی، سورۃ الروم، آیت 21۔
- صحیح مسلم، حدیث: «لَا يَفْرَكْ مُؤْمِنٌ مُؤْمِنَةً...»
- جامع الترمذی، حدیث: «خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ...»
﴿رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا﴾
"اے ہمارے رب! ہمیں ہماری بیویوں اور ہماری اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما، اور ہمیں متقیوں کا پیشوا بنا دے۔" (سورۃ الفرقان: 74)
یا رب العالمین! ہمارے گھروں کو ایمان، سکون، مودّت اور رحمت سے بھر دے، ہمیں ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے اور تیری رضا کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرما، اور اس قرآنی دعا کو ہمارے حق میں قبول فرما۔ آمین!
والسلام
آمنہ چاہل
(Life Skills Trainer, Islamic Life Coach)
مزید تحریریں

ہمارے بچے، ڈیجیٹل بھیڑیوں کے چنگل میں باب دوم: بھیڑیوں کی شناخت | قسط 2: ڈیجیٹل بھیڑیے کون ہیں؟
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم رسول اللہ ﷺ کا فرمان مبارک ہے: «كُلُّكُمْ رَاعٍ، وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ» "تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے، اور تم میں سے ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔" "ہر…
مضمون پڑھیں →
ہمارے بچے ڈیجیٹل بھیڑیوں کے چنگل میں | جب محافظ آنکھیں بند کر لیں۔۔۔
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ڈیجیٹل دور میں مسلم والدین کے لیے ایک تربیتی سلسلہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان مبارک ہے: «كُلُّكُمْ رَاعٍ، وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ» "تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے، اور تم میں سے ہر ایک سے…
مضمون پڑھیں →
حکمتِ گفتگو کے پانچ "ک" | حصہ دوم: پہلا "ک" : کسے کہنا ہے؟
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ہم میں سے اکثر لوگ بولنے سے پہلے صرف یہ سوچتے ہیں کہ "مجھے کیا کہنا ہے؟" حالانکہ اس سے بھی پہلے ایک سوال پوچھنا چاہیے: "مجھے یہ بات کسے کہنی ہے؟" یہ سوال معمولی محسوس ہوتا ہے، مگر بہت سے…
مضمون پڑھیں →