تعارفتحریریںغور و فکرسوال و جوابویڈیوزکتابیںآراءرابطہ

قسط دوم | رشتۂ ازدواج: اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نشانی

قسط دوم | رشتۂ ازدواج: اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نشانی

بسم الله الرحمن الرحيم

دنیا کے خوبصورت ترین رشتے

قسط دوم

﴿وَمِنْ آيَاتِهِ﴾

رشتۂ ازدواج: اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نشانی

دنیا میں بے شمار چیزیں انسان کو اپنے رب کی یاد دلاتی ہیں۔ آسمان اس کی عظمت کی گواہی دیتے ہیں، سمندر اس کی قدرت کی، پہاڑ اس کی شان کی، اور رات و دن اس کی حکمت کی۔ مگر انہی نشانیوں میں ایک نشانی ایسی بھی ہے جو انسان ہر روز اپنے گھر میں دیکھتا ہے، لیکن اکثر اس کی عظمت پر غور نہیں کرتا۔۔۔وہ ہے رشتۂ ازدواج۔

الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على نبينا محمد، وعلى آله وصحبه أجمعين.

❶ گزشتہ سے پیوستہ

گزشتہ مضمون میں ہم نے جانا کہ انسانی تاریخ کا پہلا رشتہ، جسے اللہ تعالیٰ نے قائم فرمایا، رشتۂ ازدواج تھا۔ حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حواء علیہا السلام کے ذریعے نہ صرف انسانی نسل کا آغاز ہوا بلکہ خاندان کے سلسلے کی بنیاد بھی رکھی گئی۔

قرآنِ کریم اس رشتے کو محض ایک معاشرتی ضرورت یا دنیاوی معاہدہ قرار نہیں دیتا، بلکہ اسے اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں شمار کرتا ہے۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان مبارک ہے:

﴿وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا﴾

"اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمھارے لیے تمھی میں سے بیویاں پیدا کیں۔"

(سورۃ الروم: 21)

یہ آیت مبارکہ ہمیں دعوت فکر دیتی ہے کہ ہم نکاح کو صرف ایک سماجی تعلق کے طور پر نہیں، بلکہ اپنے رب کی ایک عظیم نشانی کے طور پر دیکھیں۔

❷ رشتۂ ازدواج... اللہ تعالیٰ کی قدرت، حکمت اور رحمت کی نشانی

اللہ تعالیٰ نے مرد اور عورت کو ایک دوسرے کے لیے پیدا فرمایا تاکہ وہ ایک دوسرے کے ذریعے سکون حاصل کریں۔

مفسرین نے وضاحت کی ہے کہ آیت میں ﴿لِتَسْكُنُوا إِلَيْهَا﴾ کے الفاظ صرف ایک ساتھ رہنے کی طرف اشارہ نہیں کرتے، بلکہ دل اور روح کے سکون کی طرف بھی رہنمائی کرتے ہیں۔

اسی لیے حضرت آدم علیہ السلام کو جنت جیسی نعمتوں کے باوجود مکمل سکون اس وقت حاصل ہوا جب اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے حضرت حواء علیہا السلام کو پیدا فرمایا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے انسانوں میں مرد اور عورت کو ایک دوسرے کا جوڑا بنایا، تاکہ وہ ایک دوسرے کے لیے سکون، تعاون اور زندگی کا سہارا بنیں۔

یہ سب اس بات کی روشن دلیل ہے کہ رشتۂ ازدواج اللہ تعالیٰ کی قدرت، حکمت اور اپنے بندوں پر رحمت کی ایک عظیم نشانی ہے۔

❸ ایک ایسی نشانی جسے ہم ہر روز دیکھتے ہیں

ذرا غور کیجیے۔۔۔

دو اجنبی۔۔۔

دو مختلف خاندان۔۔۔

دو الگ مزاج۔۔۔

دو مختلف عادتیں۔۔۔

پھر اللہ تعالیٰ ان دونوں کو ایک نکاح کے ذریعے ایسا جوڑ دیتے ہیں کہ وہ ایک دوسرے کے رازدار، غم بانٹنے والے، خوشیوں کے ساتھی اور نئی نسل کے معمار بن جاتے ہیں۔

یہ تعلق صرف انسانی منصوبہ بندی کا نتیجہ نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی فطرت اور اس کی حکمت کا مظہر ہے۔ الحمدللہ!

اسی لیے اسلام نے نکاح کو انسانی فطرت کے مطابق قرار دیا ہے، جبکہ فطرت سے جنگ کرنے والے راستے انسان کو حقیقی سکون نہیں دے سکتے۔

❹ رسول اللہ ﷺ کی تعلیم

رسول اللہ ﷺ نے ازدواجی زندگی کی قدر و منزلت کو واضح کرتے ہوئے فرمایا:

«الدُّنْيَا مَتَاعٌ، وَخَيْرُ مَتَاعِ الدُّنْيَا الزَّوْجَةُ الصَّالِحَةُ»

"دنیا فائدہ اٹھانے کی چیز ہے، اور دنیا کی بہترین متاع نیک بیوی ہے۔" (صحیح مسلم)

اور آپ ﷺ کا ایک اور فرمان مبارک ہے:

«خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ، وَأَنَا خَيْرُكُمْ لِأَهْلِي»

"تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے سب سے بہتر ہو، اور میں اپنے گھر والوں کے لیے تم سب سے بہتر ہوں۔" (جامع الترمذی، صحیح)

اگرچہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے حسنِ معاشرت کو بطورِ مثال بیان فرمایا، لیکن اس حدیث کا اصول صرف شوہروں کے لیے نہیں، بلکہ ہر مسلمان مرد اور عورت کے لیے ہے۔

جس طرح شوہر اپنی بیوی کے ساتھ حسنِ اخلاق، نرمی، احترام اور خیر خواہی کا ذمہ دار ہے، اسی طرح بیوی بھی اپنے شوہر کے ساتھ حسنِ معاشرت، احترام اور خیر خواہی کی پابند ہے۔

کامیاب ازدواجی زندگی اس وقت وجود میں آتی ہے جب دونوں یہ سوچیں:

"میں اپنے شریکِ حیات سے بہترین سلوک کا مطالبہ کرنے سے پہلے، خود اس کے لیے بہترین انسان بننے کی کوشش کروں۔"

❺ جدید دور کا چیلنج

آج بہت سے لوگ شادی کو خوبصورت تقریب بنانے کی تیاری تو کرتے ہیں، مگر خوبصورت ازدواجی زندگی گزارنے کی تیاری نہیں کرتے۔

بعض اوقات شریکِ حیات کے انتخاب میں دین، تقویٰ اور حسنِ اخلاق سے زیادہ ظاہری حسن، مال یا معاشرتی حیثیت کو اہمیت دی جاتی ہے۔

اسی طرح کچھ لوگ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ نکاح کے بغیر بھی انسان مکمل سکون حاصل کر سکتا ہے، حالانکہ قرآن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سکون، مودت اور رحمت کا نظام نکاح کے پاکیزہ رشتے کے ساتھ وابستہ فرمایا ہے۔

جب انسان اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ راستے سے ہٹتا ہے تو وقتی خواہشات تو پوری ہو سکتی ہیں، لیکن وہ قلبی سکون نہیں ملتا جس کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے اس رشتے کے ساتھ فرمایا ہے۔

❻ اپنا محاسبہ کیجیے

آج اپنے دل سے چند سوالات پوچھیے:

  1. کیا میں اپنے نکاح کو اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نشانی سمجھتا/سمجھتی ہوں؟
  2. کیا میرا رویہ اس رشتے کی عظمت کے مطابق ہے؟
  3. کیا میں اپنے شریکِ حیات کے لیے وہی خیر چاہتا/چاہتی ہوں جس کی امید خود اپنے لیے رکھتا/رکھتی ہوں؟
  4. کیا میرے گھر کا ماحول اللہ تعالیٰ کی رحمت کو دعوت دیتا ہے؟

❼ آج کا عملی قدم

آج اپنے شریکِ حیات کے لیے دل سے دعا کیجیے۔

پھر ایسا ایک عمل کیجیے جس سے اسے محسوس ہو کہ آپ اس رشتے کو اللہ تعالیٰ کی نعمت اور امانت سمجھتے ہیں۔

شاید ایک مسکراہٹ۔۔۔

ایک شکریہ۔۔۔

ایک معذرت۔۔۔

یا چند لمحے پوری توجہ کے ساتھ اس کی بات سن لینا۔۔۔

یہی چھوٹے چھوٹے اعمال اللہ تعالیٰ کے حکم سے بڑے فاصلے ختم کر دیتے ہیں۔ الحمدللہ۔۔۔

واللہ الموفق۔۔۔

❽ خلاصہ کلام

  • جب اللہ تعالیٰ کسی چیز کو اپنی نشانی قرار دے دے تو ایک مومن اسے معمولی نہیں سمجھ سکتا۔
  • رشتۂ ازدواج بھی انہی عظیم نشانیوں میں سے ایک ہے۔۔۔
  • اس کی حفاظت صرف ایک گھر کی حفاظت نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ایک عظیم نعمت کی حفاظت ہے۔
  • اگر ہم اپنے نکاح کو اللہ تعالیٰ کی نشانی سمجھ کر نبھائیں تو ہمارا گھر صرف رہنے کی جگہ ہی نہیں رہے گا، بلکہ سکون، رحمت اور خیر کا مرکز بن جائے گا۔ ان شاءاللہ!

اگلی قسط میں۔۔۔

اللہ تعالیٰ نے اسی آیت میں ازدواجی زندگی کے پہلے مقصد کو بیان فرمایا: ﴿لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا﴾

"تاکہ تم ان کی طرف جا کر سکون حاصل کرو۔"

آخر اللہ تعالیٰ نے محبت سے پہلے سکون کا ذکر کیوں فرمایا؟

کیا سکون صرف ایک احساس ہے، یا ایک ذمہ داری بھی؟

اور ہم اپنے گھروں کو دوبارہ سکون کا گہوارہ کیسے بنا سکتے ہیں؟

ان شاء اللہ، اگلی قسط میں اسی موضوع پر گفتگو کریں گے۔۔۔

رشتے صرف نبھائے ہی نہیں جاتے، بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے انہیں سنوارا بھی جاتا ہے۔۔۔

مصادر:

  • القرآن الكريم، سورة الروم، آیت 21۔
  • تفسیر القرآن الکریم، مولانا عبد السلام بھٹوی، سورۃ الروم، آیت 21۔
  • صحیح مسلم، باب خير متاع الدنيا المرأة الصالحة۔
  • جامع الترمذی، حدیث: «خيركم خيركم لأهله...» (صححہ الألبانی)

والسلام

آمنہ چاہل

(Life Skills Trainer, Islamic Life Coach)

تمام تحریریں

مزید تحریریں

ہمارے بچے، ڈیجیٹل بھیڑیوں کے چنگل میں باب دوم: بھیڑیوں کی شناخت | قسط 2: ڈیجیٹل بھیڑیے کون ہیں؟

ہمارے بچے، ڈیجیٹل بھیڑیوں کے چنگل میں باب دوم: بھیڑیوں کی شناخت | قسط 2: ڈیجیٹل بھیڑیے کون ہیں؟

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم رسول اللہ ﷺ کا فرمان مبارک ہے: «كُلُّكُمْ رَاعٍ، وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ» "تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے، اور تم میں سے ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔" "ہر…

مضمون پڑھیں
ہمارے بچے ڈیجیٹل بھیڑیوں کے چنگل میں | جب محافظ آنکھیں بند کر لیں۔۔۔

ہمارے بچے ڈیجیٹل بھیڑیوں کے چنگل میں | جب محافظ آنکھیں بند کر لیں۔۔۔

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ڈیجیٹل دور میں مسلم والدین کے لیے ایک تربیتی سلسلہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان مبارک ہے: «كُلُّكُمْ رَاعٍ، وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ» "تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے، اور تم میں سے ہر ایک سے…

مضمون پڑھیں
حکمتِ گفتگو کے پانچ "ک" | حصہ دوم: پہلا "ک" :  کسے کہنا ہے؟

حکمتِ گفتگو کے پانچ "ک" | حصہ دوم: پہلا "ک" : کسے کہنا ہے؟

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ہم میں سے اکثر لوگ بولنے سے پہلے صرف یہ سوچتے ہیں کہ "مجھے کیا کہنا ہے؟" حالانکہ اس سے بھی پہلے ایک سوال پوچھنا چاہیے: "مجھے یہ بات کسے کہنی ہے؟" یہ سوال معمولی محسوس ہوتا ہے، مگر بہت سے…

مضمون پڑھیں