دنیا کے خوبصورت ترین رشتے | قسط اول: رشتۂ ازدواج | اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نشانی

دنیا کے خوبصورت ترین رشتے
قسط اول: رشتۂ ازدواج | اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نشانی
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
«"گھر صرف دو انسانوں کے اکٹھے رہنے سے ہی نہیں بنتا۔۔۔
بلکہ گھر تب آباد ہوتا ہے جب دو دل اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں ایک ہو جائیں۔۔۔
مودت اس کی زینت بنے۔۔۔
رحمت اس کی فضا ہو۔۔۔
اور سکینت اس کی پہچان بنے۔۔۔"»
والله الموفق✨
الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيدنا محمد، وعلى آله وصحبه أجمعين.
اللہ تعالیٰ نے انسان کو تنہا زندگی گزارنے کے لیے پیدا نہیں کیا، بلکہ اسے رشتوں کی ایک حسین دنیا عطا فرمائی۔ انسان کی پیدائش سے لے کر زندگی کے آخری لمحے تک ہر موڑ پر کوئی نہ کوئی رشتہ اس کے ساتھ چلتا ہے۔ کہیں ماں کی آغوش سکون دیتی ہے، کہیں باپ کا سایہ حوصلہ بخشتا ہے، کہیں بہن بھائی زندگی کی خوشیوں اور آزمائشوں میں شریک ہوتے ہیں، اور پھر ایک وقت ایسا آتا ہے جب دو اجنبی انسان اللہ تعالیٰ کے نام پر ایک ایسے بندھن میں بندھ جاتے ہیں جو صرف ان کی زندگی ہی نہیں، بلکہ آنے والی نسلوں کی تقدیر پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔
اسلام نے ہر رشتے کو عزت، مقام اور اس کے حقوق عطا کیے ہیں۔ والدین کے حقوق بیان کیے، اولاد کی ذمہ داریاں واضح کیں، صلہ رحمی کی ترغیب دی، پڑوسیوں کے حقوق سکھائے اور باہمی تعلقات کے بہترین آداب سکھائے۔ یہی رشتے ایک صالح فرد، مضبوط خاندان اور پاکیزہ معاشرے کی بنیاد بنتے ہیں۔
اسی حقیقت کو سامنے رکھتے ہوئے ہم**"دنیا کے خوبصورت ترین رشتے"** کے عنوان سے اس نئی سلسلۂ تحریر کا آغاز کر رہے ہیں۔ اس سیریز میں ہم قرآن و سنت کی روشنی میں ان رشتوں کا مطالعہ کریں گے جن پر انسانی زندگی کی خوشیاں، خاندانوں کا استحکام اور معاشرے کی اصلاح قائم ہے۔
لیکن شاید آپ کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو:
آخر اس پوری سیریز کا آغاز رشتۂ ازدواج ہی سے کیوں؟
اس کی ایک نہایت بامعنی وجہ ہے۔
یہ محض اتفاق نہیں کہ انسانی تاریخ کے پہلے خاندان کی بنیاد بھی نکاح پر رکھی گئی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا، پھر ان کے لیے حضرت حوا علیہا السلام کو پیدا کیا، اور یوں انسانی تاریخ کا پہلا ازدواجی رشتہ قائم ہوا۔ اسی مبارک تعلق سے خاندان وجود میں آئے، نسلیں آگے بڑھیں، اور پوری انسانیت کا سفر شروع ہوا۔
قرآن ہمیں یہ بھی بتاتا ہے کہ شیطان نے اپنی پہلی بڑی چال بھی اسی گھر کو نشانہ بنا کر چلی۔ اس نے حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوا علیہا السلام کو اللہ کے حکم سے غافل کرنے کی کوشش کی۔ اگرچہ دونوں نے توبہ کی اور اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی، لیکن یہ واقعہ ہمیں ایک اہم سبق دیتا ہے کہ شیطان ہمیشہ انسان کے ایمان کے ساتھ ساتھ اس کے گھر اور اس کے قریبی رشتوں کو بھی کمزور کرنا چاہتا ہے۔ کیونکہ جب گھر کمزور ہوتے ہیں تو ان کے اثرات نسلوں تک پہنچتے ہیں۔
اسی لیے یہ تعجب کی بات نہیں کہ آج بھی شیطان کی سب سے بڑی کامیابیوں میں سے ایک خاندانوں میں نفرت، اختلاف، بداعتمادی اور جدائی پیدا کرنا ہے، جبکہ اسلام گھروں کو سکون، محبت اور رحمت کا مرکز بنانا چاہتا ہے۔
رشتۂ ازدواج صرف دو افراد کے ساتھ رہنے کا نام نہیں، بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نشانی، ایک مضبوط عہد، ایک عبادت اور ایک ایسی امانت ہے جس پر ایک پورے معاشرے کی بنیاد قائم ہوتی ہے۔
اسی لیے اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں فرماتے ہیں:
﴿وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ﴾
"اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمھارے لیے تمھی سے بیویاں پیدا کیں، تاکہ تم ان کی طرف (جاکر) آرام پائو اور اس نے تمھارے درمیان دوستی اور مہربانی رکھ دی، بے شک اس میں ان لوگوں کے لیے یقینا بہت سی نشانیاں ہیں جو غور کرتے ہیں۔" (سورۃ الروم: 21)
غور کیجیے!اللہ تعالیٰ نے اس رشتے کی بنیاد مال، حسن، حسب و نسب یا دنیاوی مفادات پر نہیں رکھی، بلکہ سکینت، مودت اور رحمت پر رکھی ہے۔ یہی وہ تین نعمتیں ہیں جو ایک گھر کو صرف رہنے کی جگہ نہیں، بلکہ دلوں کی پناہ گاہ بنا دیتی ہیں۔
افسوس کہ آج نکاح کو اکثر ایک تقریب، ایک رسم یا محض قانونی معاہدہ سمجھ لیا گیا ہے۔ کہیں اسے صرف معاشی ذمہ داریوں تک محدود کر دیا گیا ہے، کہیں صرف جذبات کا نام دے دیا گیا ہے، اور کہیں سوشل میڈیا نے اس کے بارے میں ایسی غیر حقیقی توقعات پیدا کر دی ہیں کہ حقیقت کے ساتھ جینا مشکل محسوس ہونے لگا ہے۔
اس سیریز کا مقصد کسی ایک فریق کو قصوروار ٹھہرانا یا ایک خیالی ازدواجی زندگی کا نقشہ پیش کرنا نہیں ہے۔ ہمارا مقصد یہ ہے کہ ہم قرآن و سنت کے آئینے میں اپنے گھروں، اپنے رویّوں اور اپنے تعلقات کا جائزہ لیں۔ ہم جانیں کہ ایک صالح شوہر کون ہے، ایک صالحہ بیوی کی صفات کیا ہیں، گھر میں سکینت کیسے پیدا ہوتی ہے، اختلاف کو دشمنی بننے سے کیسے روکا جا سکتا ہے، اور کس طرح یہی رشتہ انسان کے لیے دنیا کی راحت اور آخرت کی کامیابی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
اس سفر میں ہم صرف احکام نہیں پڑھیں گے، بلکہ قرآن مجید کی آیات پر تدبر کریں گے، رسول اللہ ﷺ کی مبارک سیرت سے سیکھیں گے، صحابۂ کرام اور ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہم کی زندگیاں دیکھیں گے، اپنے دور کے مسائل کا جائزہ لیں گے اور ہر باب کے اختتام پر خود سے یہ سوال بھی کریں گے کہ کیا ہمارا گھر واقعی اس سکینت، مودت اور رحمت کا مظہر ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں فرمایا ہے؟
والله الموفق...
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اس معمولی سی کوشش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے، اسے ہمارے لیے، ہمارے گھروں کے لیے اور پوری امتِ مسلمہ کے لیے خیر و برکت کا ذریعہ بنائے، ہمارے دلوں میں محبت، ہمارے گھروں میں سکینت اور ہمارے تعلقات میں رحمت پیدا فرمائے، اور ہمیں ایسے اعمال کی توفیق عطا فرمائے جو دنیا میں بھی باعثِ خیر ہوں اور آخرت میں بھی نجات کا سبب بنیں۔
آمین...
والسلام
آمنہ چاہل
(Life Skills Trainer, Islamic Life Coach)
مزید تحریریں

ہمارے بچے، ڈیجیٹل بھیڑیوں کے چنگل میں باب دوم: بھیڑیوں کی شناخت | قسط 2: ڈیجیٹل بھیڑیے کون ہیں؟
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم رسول اللہ ﷺ کا فرمان مبارک ہے: «كُلُّكُمْ رَاعٍ، وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ» "تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے، اور تم میں سے ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔" "ہر…
مضمون پڑھیں →
ہمارے بچے ڈیجیٹل بھیڑیوں کے چنگل میں | جب محافظ آنکھیں بند کر لیں۔۔۔
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ڈیجیٹل دور میں مسلم والدین کے لیے ایک تربیتی سلسلہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان مبارک ہے: «كُلُّكُمْ رَاعٍ، وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ» "تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے، اور تم میں سے ہر ایک سے…
مضمون پڑھیں →
حکمتِ گفتگو کے پانچ "ک" | حصہ دوم: پہلا "ک" : کسے کہنا ہے؟
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ہم میں سے اکثر لوگ بولنے سے پہلے صرف یہ سوچتے ہیں کہ "مجھے کیا کہنا ہے؟" حالانکہ اس سے بھی پہلے ایک سوال پوچھنا چاہیے: "مجھے یہ بات کسے کہنی ہے؟" یہ سوال معمولی محسوس ہوتا ہے، مگر بہت سے…
مضمون پڑھیں →