ہمارے بچے، ڈیجیٹل بھیڑیوں کے چنگل میں باب دوم: بھیڑیوں کی شناخت قسط 3: انسان کے روپ میں شکاری

بسم الله الرحمن الرحيم
"ہر شکاری اپنے دانت نہیں دکھاتا، بعض شکاری صرف مسکراتے ہیں۔"
اللہ تعالیٰ کا فرمان مبارک ہے:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ ۚ وَمَن يَتَّبِعْ خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ فَإِنَّهُ يَأْمُرُ بِالْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ﴾
"اے ایمان والو! شیطان کے قدموں کی پیروی نہ کرو، اور جو شیطان کے قدموں کی پیروی کرے تو وہ یقیناً بے حیائی اور برائی ہی کا حکم دیتا ہے۔"
(سورۃ النور: 21)
پچھلی قسط میں ہم نے جانا تھا کہ ڈیجیٹل دنیا کے "بھیڑیے" صرف خوفناک چہروں والے انسان نہیں ہوتے، بلکہ بعض اوقات ایک ویڈیو، ایک گیم، ایک ایپ یا ایک الگورتھم بھی خاموشی سے بچوں کی شخصیت پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
لیکن ان سب کے درمیان ایک ایسا خطرہ بھی موجود ہے جو شاید سب سے زیادہ پیچیدہ اور سب سے زیادہ دھوکے سے بھرپور ہے۔
وہ ہے۔۔۔
انسان کے روپ میں شکاری:
یہ وہ لوگ ہیں جو طاقت کے ذریعے نہیں، بلکہ تعلق کے ذریعے بچوں تک پہنچتے ہیں۔
وہ دروازہ توڑ کر گھروں میں داخل نہیں ہوتے۔۔۔
بلکہ بچوں کے دلوں میں جگہ بنا کر ان کی زندگی میں داخل ہوتے ہیں۔
جنگل میں بھیڑیا کبھی اپنے شکار کے سامنے یہ اعلان نہیں کرتا کہ وہ اسے چیر پھاڑ دینے آیا ہے۔
اگر وہ ایسا کرے تو شکار فوراً بھاگ جائے۔
وہ پہلے دور سے مشاہدہ کرتا ہے۔۔۔
شکار کی کمزوری کو پہچانتا ہے۔۔۔
موقع کا انتظار کرتا ہے۔۔۔
اور پھر آہستہ آہستہ اس کے قریب آتا ہے، یہاں تک کہ شکار خود کو محفوظ سمجھنے لگتا ہے۔
اسی لمحے وہ حملہ کرتا ہے۔
ڈیجیٹل دنیا کے انسانی بھیڑیے بھی کچھ اسی حکمتِ عملی پر چلتے ہیں۔
فرق صرف اتنا ہے کہ وہ دانتوں سے پہلے الفاظ استعمال کرتے ہیں۔۔۔
دھاڑنے سے پہلے مسکراتے ہیں۔۔۔
اور طاقت سے پہلے اعتماد حاصل کرتے ہیں۔۔۔
اسی لیے بہت سے والدین کو خطرے کا احساس اس وقت ہوتا ہے جب نقصان ہو چکا ہوتا ہے۔
ذرا ایک منظر اپنے ذہن میں لائیے۔۔۔
اگر کوئی اجنبی شخص بازار میں آپ کے بچے کے پاس آئے، اس سے دوستی کرنے کی کوشش کرے، یا اسے اپنے ساتھ چلنے کی دعوت دے، تو شاید آپ فوراً متوجہ ہو جائیں گے۔
لیکن اگر وہی شخص موبائل کی اسکرین پر ایک مہذب، خوش اخلاق اور نرم لہجے والے فرد کے طور پر سامنے آئے۔۔۔
روزانہ سلام کرے۔۔۔
بچے کی تعریف کرے۔۔۔
اس کے شوق میں دلچسپی لے۔۔۔
اس کی باتیں توجہ سے سنے۔۔۔
اور آہستہ آہستہ اس کا بہترین دوست بن جائے۔۔۔
تو کیا خطرہ اتنا ہی واضح محسوس ہوگا؟
افسوس کہ اکثر ایسا نہیں ہوتا۔
اسی لیے آج کے بہت سے شکاری طاقت سے نہیں، بلکہ اعتماد سے شکار کرتے ہیں۔
وہ بچوں کو یہ احساس دلاتے ہیں کہ:
"میں تمہیں سمجھتا ہوں۔۔۔"
"تم مجھ پر اعتماد کر سکتے ہو۔۔۔"
"یہ بات صرف ہمارے درمیان رہے گی۔۔۔"
اور یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں خطرے کی ابتدا ہو جاتی ہے۔
دنیا بھر میں بچوں کے تحفظ پر کام کرنے والے ادارے اس عمل کو Online Grooming کہتے ہیں۔
اس سے مراد یہ ہے کہ کوئی شخص جان بوجھ کر کسی بچے کا اعتماد حاصل کرے، اس کے جذبات سے کھیلے، اسے اپنے قریب کرے، تاکہ بعد میں اسے کسی نہ کسی صورت میں استحصال کا نشانہ بنا سکے۔
یہ استحصال صرف جنسی نوعیت کا نہیں ہوتا۔
کبھی یہ جذباتی ہوتا ہے۔۔۔
کبھی مالی۔۔۔
کبھی فکری۔۔۔
اور کبھی بچے کو ایسے راستوں پر ڈالنے کی صورت میں سامنے آتا ہے جو اس کے دین، کردار اور مستقبل کے لیے نقصان دہ ہوں۔
یہ ایک اچانک پیش آنے والا حادثہ نہیں۔۔۔
بلکہ ایک planned عمل ہوتا ہے، جو اکثر ہفتوں بلکہ مہینوں میں مکمل ہوتا ہے۔
اسی لیے اس کے ابتدائی مراحل کو پہچاننا والدین کے لیے نہایت ضروری ہے۔
نوٹ: Online Grooming ایک بین الاقوامی اصطلاح ہے جسے بچوں کے تحفظ پر کام کرنے والے ادارے بچوں کو درپیش بڑے آن لائن خطرات میں شمار کرتے ہیں۔
یہاں ایک بات واضح کرنا بھی ضروری ہے۔
اس تحریر کا مقصد ہر اجنبی انسان سے بدگمان کرنا نہیں۔
انٹرنیٹ پر بے شمار ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو قرآن و سنت کی تعلیم دیتے ہیں، علم پھیلاتے ہیں، خیر کی دعوت دیتے ہیں، دوسروں کی مدد کرتے ہیں اور معاشرے کے لیے مفید کردار ادا کر رہے ہیں۔
اسلام ہمیں حسنِ ظن بھی سکھاتا ہے اور احتیاط بھی۔
لہٰذا مسئلہ ہر اجنبی نہیں۔۔۔
مسئلہ وہ شخص ہے جو اعتماد کو استحصال کا ذریعہ بنا لے۔
اسی لیے والدین کو خوف نہیں۔۔۔
بلکہ بصیرت کی ضرورت ہے۔
صحبت اثر رکھتی ہے:
اسلام نے ہمیشہ انسان کی صحبت کو اس کی شخصیت سازی کا بنیادی ذریعہ قرار دیا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«المرء على دين خليله، فلينظر أحدكم من يخالل»
"آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے، لہٰذا ہر شخص کو دیکھنا چاہیے کہ وہ کس سے دوستی کرتا ہے۔"
(سنن أبي داود: 4833، حسن)
اگرچہ یہ حدیث روایتی صحبت کے بارے میں ہے، لیکن اس کا مفہوم آج پہلے سے کہیں زیادہ وسیع ہو چکا ہے۔
آج صحبت صرف وہ نہیں رہی جس کے ساتھ ہم بیٹھتے ہیں۔
صحبت وہ بھی ہے جس سے ہم روزانہ گفتگو کرتے ہیں۔۔۔
جسے ہم مسلسل سنتے ہیں۔۔۔
جس کی رائے ہمارے فیصلوں پر اثر انداز ہوتی ہے۔۔۔
اور جس کے ساتھ ہم اپنے دل کی باتیں بانٹنے لگتے ہیں۔
اسکرین کے دوسری طرف بیٹھا ہوا ایک نامعلوم شخص بھی صحبت بن سکتا ہے۔
اور بعض اوقات اس کا اثر حقیقی زندگی کے دوستوں سے بھی زیادہ گہرا ہو جاتا ہے۔
اسی لیے والدین کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ ان کے بچے کس کے ساتھ جڑ رہے ہیں۔۔۔
شکاری جلدی نہیں کرتے:
بہت سے والدین کے ذہن میں یہ تصور ہوتا ہے کہ اگر کبھی کوئی غلط شخص ان کے بچے سے رابطہ کرے گا تو وہ پہلے ہی دن اپنی حقیقت ظاہر کر دے گا۔
حقیقت اس کے برعکس ہے۔
ایسے لوگ جانتے ہیں کہ اعتماد ایک دن میں حاصل نہیں ہوتا۔
اس لیے وہ جلدی نہیں کرتے۔
وہ بچوں کو خوفزدہ نہیں کرتے۔۔۔
بلکہ انہیں راحت کا احساس دلاتے ہیں۔
وہ حکم نہیں دیتے۔۔۔
بلکہ دوستی کرتے ہیں۔
وہ پہلے بچے کو بولنے دیتے ہیں۔۔۔
پھر خود اس کی دنیا کا حصہ بن جاتے ہیں۔
یہ ایک خاموش سفر ہوتا ہے۔
پہلے ایک سلام۔۔۔
پھر ایک تعریف۔۔۔
پھر روزانہ کی گفتگو۔۔۔
پھر مشترکہ دلچسپیاں۔۔۔
پھر ذاتی سوالات۔۔۔
پھر راز۔۔۔
اور آخرکار ایسا تعلق کہ بچہ انہیں اپنے والدین سے بھی زیادہ قابلِ اعتماد سمجھنے لگتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں "خطوات الشیطان" یعنی شیطان کے قدموں سے بچنے کا حکم دیا ہے۔
شیطان انسان کو عموماً ایک ہی قدم میں گناہ تک نہیں پہنچاتا، بلکہ آہستہ آہستہ اس کے دل کے گرد حفاظتی دیواریں گراتا ہے، یہاں تک کہ انسان خطرے کو خطرہ سمجھنا ہی چھوڑ دیتا ہے۔
ڈیجیٹل دنیا کے یہ انسانی بھیڑیے بھی اکثر اسی تدریجی طریقے پر عمل کرتے ہیں۔
شکاری کی پہلی نشانی کیا ہوتی ہے؟
اکثر والدین سمجھتے ہیں کہ شکاری کی پہلی نشانی نامناسب گفتگو یا غلط مطالبات ہوتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ ایسا عموماً نہیں ہوتا۔
پہلی نشانی یہ ہوتی ہے کہ وہ بچے کے دل میں اپنی جگہ بنانے کی کوشش کرتا ہے۔
وہ چاہتا ہے کہ بچہ اسے خاص سمجھے۔
اسے محسوس ہو کہ:
"یہ شخص مجھے دوسروں سے زیادہ سمجھتا ہے۔۔۔"
"میں اپنی ہر بات اس سے کہہ سکتا ہوں۔۔۔"
"یہ میرا سچا دوست ہے۔۔۔"
آہستہ آہستہ وہ بچے کو یہ باور کرانے کی کوشش کرتا ہے کہ ان کی دوستی دوسروں سے مختلف ہے۔
پھر وہ ایسی باتیں شروع کرتا ہے جو صرف ان دونوں کے درمیان رہیں۔
کبھی کہتا ہے:
"یہ بات اپنے امی ابو کو مت بتانا، وہ غلط سمجھیں گے۔"
کبھی کہتا ہے:
"صرف تم ہی ہو جس پر میں اعتماد کرتا ہوں۔"
یہ وہ لمحہ ہے جب والدین کو بہت سنجیدگی سے متوجہ ہونے کی ضرورت ہے۔
کیونکہ جس دن کوئی اجنبی آپ کے بچے کے لیے آپ سے زیادہ قابلِ اعتماد بن جائے، اسی دن خطرے کی گھنٹی بج چکی ہوتی ہے۔
شکاری کن بچوں کو آسان شکار سمجھتے ہیں؟
یہ لوگ ہر بچے کو نشانہ نہیں بناتے۔
وہ عموماً ان بچوں کی تلاش کرتے ہیں جنہیں اپنی کمزوریوں کا خود بھی احساس نہیں ہوتا۔
مثلاً ایسے بچے جو:
- جذباتی تنہائی محسوس کرتے ہوں۔
- والدین سے کھل کر بات نہ کرتے ہوں۔
- تعریف اور توجہ کے محتاج ہوں۔
- زیادہ وقت بغیر نگرانی کے آن لائن گزارتے ہوں۔
- جنہیں یہ سکھایا ہی نہ گیا ہو کہ انٹرنیٹ پر بھی اجنبی موجود ہوتے ہیں۔
لیکن یہاں ایک اہم بات سمجھنا ضروری ہے۔
اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ صرف خاموش یا تنہا بچے ہی خطرے میں ہوتے ہیں۔
بسا اوقات پراعتماد، ذہین اور خوش مزاج بچے بھی ایسے جال میں پھنس جاتے ہیں، کیونکہ شکاری بچوں کی معصومیت، تجسس اور اعتماد کو اپنے حق میں استعمال کرنا جانتے ہیں۔
اسی لیے یہ مسئلہ صرف بچوں کی شخصیت کا نہیں، بلکہ ان کی تربیت اور رہنمائی کا بھی ہے۔
یہ صرف بیٹیوں کا مسئلہ نہیں:
ایک اور غلط فہمی بھی دور کر لیجیے۔
بعض والدین سمجھتے ہیں کہ ایسے خطرات صرف بچیوں کے لیے ہوتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ بیٹے بھی اتنے ہی خطرے میں ہو سکتے ہیں۔
فرق صرف طریقۂ کار کا ہوتا ہے۔
کسی بچے تک گیمنگ کے ذریعے رسائی حاصل کی جاتی ہے۔۔۔
کسی تک کھیلوں یا مشترکہ دلچسپیوں کے نام پر۔۔۔
اور کسی تک دوستی یا رہنمائی کے بہانے۔۔۔۔
اس لیے احتیاط صرف بیٹیوں کے لیے نہیں، بلکہ ہر بچے کے لیے ضروری ہے۔
یہ صرف بچوں کا مسئلہ نہیں، والدین کا بھی امتحان ہے:
ہم اکثر بچوں سے کہتے ہیں:
"موبائل کم استعمال کرو۔۔۔"
"اسکرین سے دور رہو۔۔۔"
"ہر کسی سے بات نہ کیا کرو۔۔۔"
لیکن کیا ہم نے کبھی خود اپنا جائزہ لیا؟
اگر والدین ہر فارغ لمحے میں موبائل اٹھا لیتے ہوں۔۔۔
اگر کھانے کی میز پر بھی ہر شخص اپنی اسکرین میں گم ہو۔۔۔
اگر گھر میں گفتگو، مطالعہ اور مشترکہ وقت کم ہوتا جا رہا ہو۔۔۔
تو بچے بھی یہی طرزِ زندگی سیکھیں گے۔
بچے صرف ہماری نصیحتیں نہیں سنتے ۔۔
وہ ہماری عادتیں بھی سیکھتے ہیں۔
اسی لیے تربیت کا آغاز بچوں سے پہلے والدین سے ہوتا ہے۔
ایک لمحہ کے لئے سوچیے۔۔۔
ایک بچہ روزانہ اپنے کمرے میں بیٹھ کر گیم کھیلتا تھا۔
والدین مطمئن تھے کہ وہ گھر سے باہر نہیں جاتا۔۔۔
چند ماہ بعد معلوم ہوا کہ گیم کھیلتے کھیلتے اس کی دوستی ایک ایسے شخص سے ہو چکی تھی جسے اس کے اسکول کا نام بھی معلوم تھا، اس کے گھر کا شہر بھی، اور اس کی پسند و ناپسند بھی۔
یہ کوئی فلمی کہانی نہیں۔۔۔
بلکہ دنیا بھر میں رپورٹ ہونے والے بے شمار واقعات کا ایک مشترکہ منظر ہے۔
اسی لیے آج یہ کہنا کافی نہیں کہ:
"میرا بچہ گھر میں ہے۔"
اصل سوال تو یہ ہے:
"اس کے ساتھ اسکرین کے دوسری طرف کون ہے؟"
والدین کن علامات پر توجہ دیں؟
ہر وہ بچہ جو زیادہ موبائل استعمال کرتا ہے، ضروری نہیں کہ کسی خطرے میں ہو۔
اسی طرح ہر تبدیلی بھی کسی جرم یا استحصال کی علامت نہیں ہوتی۔
لیکن بعض اوقات چند چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں اس بات کا اشارہ ہوتی ہیں کہ والدین کو محبت، حکمت اور تحمل کے ساتھ اپنے بچے کی دنیا کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔
اگر بچہ اچانک:
- موبائل چھپا کر استعمال کرنے لگے۔
- ہر وقت کسی مخصوص شخص کے پیغام کا انتظار کرے۔
- آپ کے قریب آتے ہی فوراً اسکرین بند کر دے۔
- گھر والوں سے بات چیت کم کر دے۔
- معمول سے زیادہ چڑچڑا، پریشان یا غیر معمولی خوش نظر آنے لگے۔
- رات گئے تک آن لائن رہنے لگے۔
- اپنے آن لائن دوستوں کے بارے میں بات کرنے سے کترانے لگے۔
تو فوراً بدگمانی نہ کیجیے۔۔۔
اور نہ ہی غصے میں آکر موبائل چھین لیجیے۔
بلکہ پہلے بچے کا اعتماد جیتنے کی کوشش کیجیے۔
یاد رکھیے۔۔۔
جس بچے کو یقین ہو کہ "اگر میں کسی مشکل میں پھنس گیا تو میرے والدین مجھے ڈانٹنے کے بجائے میری مدد کریں گے"، وہ خطرے کی صورت میں سب سے پہلے اپنے والدین ہی کے پاس آتا ہے۔
والدین آج ہی یہ چار قدم اٹھائیں:
خطرات سے آگاہ ہونا کافی نہیں۔۔۔
ان سے بچاؤ کا راستہ بھی اختیار کرنا ضروری ہے۔
آج ہی اپنے گھر میں یہ چار اقدامات شروع کیجیے:
① روزانہ اپنے بچوں سے صرف یہ نہ پوچھیے کہ آج اسکول میں کیا ہوا، بلکہ یہ بھی پوچھیے:
"آج آن لائن کس سے بات ہوئی؟"
"آج کون سی نئی چیز سیکھی؟"
"آج انٹرنیٹ پر کیا دیکھا؟"
جب یہ سوال روزمرہ گفتگو کا حصہ بن جائیں گے تو بچے بہت سی باتیں خود ہی بتانے لگیں گے۔
② گھر میں یہ اصول بنائیں کہ کوئی بھی آن لائن دوستی والدین سے پوشیدہ نہیں ہوگی:
اس کا مطلب نگرانی کے نام پر جاسوسی نہیں۔۔۔
بلکہ اعتماد پر مبنی تربیت ہے۔
بچے کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ وہ بلا خوف اپنے والدین سے ہر بات کر سکتا ہے۔
③ بچوں کو شروع ہی سے یہ سکھائیں کہ اپنی ذاتی معلومات، تصاویر، گھر کا پتہ، اسکول کا نام یا خاندان کی تفصیلات کسی اجنبی کے ساتھ شیئر نہیں کرنی چاہییں۔
بچوں کو یہ بھی بتائیں کہ اگر کوئی شخص انہیں ایسی بات چھپانے کا کہے جو والدین کو معلوم نہ ہو، تو یہی بات خطرے کی ایک بڑی علامت ہو سکتی ہے۔
④ ایسا ماحول بنائیں کہ اگر بچہ کبھی غلطی بھی کر بیٹھے تو سب سے پہلے آپ ہی کے پاس آئے۔
خوف سے قائم ہونے والی خاموشی، شکاریوں کے لیے آسانی پیدا کرتی ہے۔
اعتماد سے قائم ہونے والا تعلق، بچوں کی سب سے مضبوط حفاظت بنتا ہے۔
گھر کا ایک سنہری اصول: اسکرین ہماری خادم ہو، حاکم نہیں۔۔ ۔
اس قسط کے اختتام پر ہر والدین کے لیے ایک عملی مشورہ ہے کہ گھر میں موبائل فون اور انٹرنیٹ کے استعمال کے واضح اصول بنائیے۔
لیکن یاد رکھیے۔۔۔
یہ اصول صرف بچوں کے لیے نہ ہوں۔
والدین خود بھی ان پر عمل کریں۔
اگر والدین ہر فارغ لمحے میں موبائل اٹھا لیں۔۔۔
کھانے کی میز پر بھی ہر شخص اپنی اسکرین میں مصروف ہو۔۔۔
اور گھر میں گفتگو، مطالعہ اور باہمی تعلق کی جگہ اسکرینیں لے لیں۔۔۔
تو بچوں سے مختلف طرزِ عمل کی توقع کرنا حقیقت پسندانہ نہیں۔
اولاد کی تربیت صرف نصیحت سے نہیں ہوتی۔۔۔
وہ والدین کے طرزِ زندگی سے بھی سیکھتی ہے۔
اس لیے گھر کا ایک واضح اصول ہونا چاہیے کہ:
📖 موبائل فون اور انٹرنیٹ کا استعمال علم حاصل کرنے، تحقیق، دینی استفادے، مفید مہارتیں سیکھنے اور ضروری رابطوں کے لیے کیا جائے۔
⚽ بے مقصد اسکرین ٹائم کو کم سے کم رکھا جائے، جبکہ تفریح کے لیے جسمانی کھیل، ورزش، مطالعہ، خاندانی گفتگو، باغبانی، دستکاری، فطرت سے تعلق اور باہم وقت گزارنے کو ترجیح دی جائے۔
🍽️ کھانے کے دوران، خاندانی نشستوں میں اور سونے سے پہلے موبائل فون استعمال نہ کیا جائے۔
👨👩👧👦 گھر کے بڑے پہلے خود ان اصولوں پر عمل کریں، پھر محبت اور حکمت کے ساتھ بچوں کو بھی ان کا پابند بنائیں۔
ہمیں اپنے بچوں کو یہ نہیں سکھانا کہ:
"موبائل ہی تفریح ہے۔"
بلکہ یہ سکھانا ہے کہ:
"موبائل ایک آلہ ہے، زندگی نہیں۔"
اگر بچہ شروع ہی سے یہ سمجھ لے کہ اسکرین سیکھنے، فائدہ اٹھانے اور ضرورت پوری کرنے کا ذریعہ ہے، جبکہ خوشی، تعلق، کھیل، گفتگو اور زندگی کا اصل لطف حقیقی دنیا میں ہے، تو ان شاء اللہ وہ ڈیجیٹل دنیا کے بہت سے فتنوں سے خود بھی محفوظ رہ سکے گا۔
یاد رکھیے۔۔۔
جس گھر میں قرآن کی تلاوت ہوتی ہو، کتابیں پڑھی جاتی ہوں، خاندان مل کر کھانا کھاتا ہو، والدین بچوں کی باتیں سنتے ہوں، اور کھیل و گفتگو زندہ ہو، وہاں اسکرینیں اپنی حد سے آگے نہیں بڑھتیں۔
لیکن جہاں تعلقات کمزور پڑ جائیں، وہاں اسکرینیں خاموشی سے ان کی جگہ لینے لگتی ہیں۔
اسی لیے اپنے بچوں کی حفاظت صرف ان کے ہاتھ سے موبائل لے لینے میں نہیں۔۔۔
بلکہ ان کے دلوں میں اپنی محبت، اعتماد اور رفاقت کی جگہ مضبوط کرنے میں ہے۔
لمحۂ فکریہ
"شکاری کا پہلا ہتھیار طاقت نہیں، اعتماد ہوتا ہے۔ اور بچے کی پہلی ڈھال نگرانی نہیں، بلکہ والدین کے ساتھ مضبوط تعلق ہوتا ہے۔"
آج اپنے آپ سے ایک سوال کیجیے:
کیا میرے بچے کے دل کی پہلی پناہ گاہ میں ہوں۔۔۔ یا اس کی اسکرین کے دوسری طرف بیٹھا کوئی اجنبی شخص؟
🔜 اگلی قسط
خاموش بھیڑیے
ہر خطرہ کسی انسان کی شکل میں نہیں آتا۔۔۔
کبھی ایک ویڈیو۔۔۔
کبھی ایک الگورتھم۔۔۔
کبھی ایک گیم۔۔۔
اور کبھی صرف چند سیکنڈ کی مختصر ویڈیوز بھی خاموشی سے بچوں کی توجہ، سوچ، کردار اور وقت کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہیں۔
اگلی قسط میں، ان شاء اللہ، ہم ان "خاموش بھیڑیوں" کو پہچانیں گے، جو بولتے کم ہیں، مگر اثر بہت گہرا چھوڑتے ہیں۔
یا رب العالمین! ہماری اولاد کو ہر ایسے انسان، ہر ایسے تعلق، ہر ایسے فتنے اور ہر اس راستے سے محفوظ فرما جو انہیں تجھ سے دور لے جائے۔ ہمارے گھروں کو ایمان، محبت، حیا اور اعتماد کا گہوارہ بنا۔ ہمیں اپنی اولاد کی بہترین تربیت کرنے کی حکمت عطا فرما، اور انہیں دنیا و آخرت کی ہر خیر نصیب فرما۔ آمین!
والسلام
آمنہ چاہل
(Life Skills Trainer, Islamic Life Coach)
مزید تحریریں

ہمارے بچے، ڈیجیٹل بھیڑیوں کے چنگل میں باب دوم: بھیڑیوں کی شناخت | قسط 2: ڈیجیٹل بھیڑیے کون ہیں؟
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم رسول اللہ ﷺ کا فرمان مبارک ہے: «كُلُّكُمْ رَاعٍ، وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ» "تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے، اور تم میں سے ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔" "ہر…
مضمون پڑھیں →
ہمارے بچے ڈیجیٹل بھیڑیوں کے چنگل میں | جب محافظ آنکھیں بند کر لیں۔۔۔
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ڈیجیٹل دور میں مسلم والدین کے لیے ایک تربیتی سلسلہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان مبارک ہے: «كُلُّكُمْ رَاعٍ، وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ» "تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے، اور تم میں سے ہر ایک سے…
مضمون پڑھیں →
حکمتِ گفتگو کے پانچ "ک" | حصہ دوم: پہلا "ک" : کسے کہنا ہے؟
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ہم میں سے اکثر لوگ بولنے سے پہلے صرف یہ سوچتے ہیں کہ "مجھے کیا کہنا ہے؟" حالانکہ اس سے بھی پہلے ایک سوال پوچھنا چاہیے: "مجھے یہ بات کسے کہنی ہے؟" یہ سوال معمولی محسوس ہوتا ہے، مگر بہت سے…
مضمون پڑھیں →