تعارفتحریریںغور و فکرسوال و جوابویڈیوزکتابیںآراءرابطہ

ہمارے بچے، ڈیجیٹل بھیڑیوں کے چنگل میں باب دوم: بھیڑیوں کی شناخت | قسط 2: ڈیجیٹل بھیڑیے کون ہیں؟

ہمارے بچے، ڈیجیٹل بھیڑیوں کے چنگل میں باب دوم: بھیڑیوں کی شناخت | قسط 2: ڈیجیٹل بھیڑیے کون ہیں؟

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

رسول اللہ ﷺ کا فرمان مبارک ہے:

«كُلُّكُمْ رَاعٍ، وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ»

"تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے، اور تم میں سے ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔"

"ہر بھیڑیا دانت دکھا کر حملہ نہیں کرتا۔"

پچھلی قسط میں ہم نے ایک ایسے جنگل کا ذکر کیا تھا جو ہمارے گھروں کے اندر آباد ہو چکا ہے۔

ایک ایسا جنگل جس میں ہمارے بچے روزانہ داخل ہوتے ہیں۔۔۔

اور اکثر ہم یہ سمجھتے ہی نہیں کہ اس جنگل میں کون کون گھات لگائے بیٹھا ہے۔

کسی بھی جنگل میں داخل ہونے سے پہلے سب سے اہم سوال یہی ہوتا ہے:

آخر اس جنگل میں خطرہ کس سے ہے؟

جب ہم "بھیڑیا" کہتے ہیں تو ذہن میں ایک درندہ آتا ہے۔

تیز دانت۔۔۔

خوفناک آنکھیں۔۔۔

اور حملہ آور مزاج۔۔۔

لیکن ڈیجیٹل دنیا کے بھیڑیے ایسے نہیں ہوتے۔

وہ ہمیشہ ڈراؤنے نہیں ہوتے۔۔۔

بلکہ اکثر خوبصورت ہوتے ہیں۔۔۔

دلکش ہوتے ہیں۔۔۔

دلچسپ معلوم ہوتے ہیں۔۔۔

اور بظاہر فائدہ مند بھی دکھائی دیتے ہیں۔۔۔

اسی لیے ان سے بچنا زیادہ مشکل ہو جاتا ہے۔

یہ بات سمجھنا بہت ضروری ہے کہ اس سیریز میں "ڈیجیٹل بھیڑیے" سے ہماری مراد کسی ایک شخص یا کسی ایک ایپ سے نہیں۔

بلکہ ہر وہ چیز، ہر وہ شخص، ہر وہ نظام اور ہر وہ نظریہ ہے جو آہستہ آہستہ ہمارے بچوں کے ایمان، کردار، حیا، وقت، ذہن یا مستقبل کو نقصان پہنچائے۔

کبھی وہ ایک انسان ہوتا ہے۔۔۔

کبھی ایک ویڈیو۔۔۔

کبھی ایک گیم۔۔۔

کبھی ایک سوشل میڈیا پلیٹ فارم۔۔۔

کبھی ایک مصنوعی ذہانت (AI) سے چلنے والا چیٹ بوٹ جو غلط استعمال یا غیر مناسب گفتگو کی صورت میں نقصان کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے ۔۔۔

اور کبھی صرف ایک ایسا الگورتھم، جو بچے کو ایک ویڈیو کے بعد دوسری، دوسری کے بعد تیسری، اور پھر مسلسل اسی قسم کے مواد کی طرف دھکیلتا رہتا ہے۔۔۔

یہی اس دور کی سب سے بڑی پیچیدگی ہے۔

پہلے والدین بچوں کو صرف برے دوستوں سے بچانے کی فکر کرتے تھے۔

آج ہمیں برے دوستوں کے ساتھ ساتھ برے مواد، برے نظریات، برے رجحانات اور برے ڈیجیٹل ماحول سے بھی بچانا ہے۔

کیونکہ اب صحبت صرف انسانوں کی نہیں رہی۔۔۔

اسکرین بھی صحبت بن چکی ہے۔۔۔

جو چیز ایک بچہ روزانہ دیکھتا ہے۔۔۔

جسے وہ بار بار سنتا ہے۔۔۔

جس پر وہ ہنستا ہے۔۔۔

جس کی نقل کرتا ہے۔۔۔

وہی آہستہ آہستہ اس کی شخصیت کا حصہ بننے لگتی ہے۔

اسی لیے سوال صرف یہ نہیں ہونا چاہیے کہ:

"میرا بچہ کس کے ساتھ بیٹھتا ہے؟"

بلکہ یہ بھی ہونا چاہیے:

"میرا بچہ اپنی اسکرین کے ساتھ کیا وقت گزار رہا ہے؟"

یہ بھی ضروری ہے کہ ہم ہر نئی ٹیکنالوجی کو دشمن نہ سمجھیں۔

انٹرنیٹ ایک نعمت بھی ہو سکتا ہے۔

اسی کے ذریعے قرآن سیکھا جا سکتا ہے۔۔۔

دنیا کے بہترین اساتذہ سے علم حاصل کیا جا سکتا ہے۔۔۔

نئی زبانیں سیکھی جا سکتی ہیں۔۔۔

کارآمد مہارتیں حاصل کی جا سکتی ہیں۔۔۔

دعوتِ دین کا کام کیا جا سکتا ہے۔۔۔

مسئلہ ٹیکنالوجی کے وجود میں نہیں۔۔۔

بلکہ اس کے استعمال میں ہے۔

جیسے ایک تیز دھار چھری سے پھل بھی کاٹے جا سکتے ہیں اور کسی کو زخمی بھی کیا جا سکتا ہے، ویسے ہی ڈیجیٹل دنیا بھی انسان کو بلندی تک لے جا سکتی ہے یا گمراہی کے راستے پر بھی ڈال سکتی ہے۔

اسی لیے دانشمندی یہ نہیں کہ ہم ہر نئی چیز سے ڈر جائیں اور اسے ترک کردیں ، بلکہ یہ ہے کہ ہم خیر اور شر میں فرق کرنا سیکھیں، اور اپنے بچوں کو بھی یہ فرق سکھائیں۔ تربیت کا مقصد دروازے بند کرنا نہیں، بلکہ صحیح دروازے پہچاننا ہے۔

اسی لیے آئندہ چند اقساط میں ہم ان شاء اللہ ایک ایک کرکے ان "ڈیجیٹل بھیڑیوں" کو پہچانیں گے۔

ہم جانیں گے کہ:

    • کون انسان کے روپ میں آتا ہے۔
    • کون کسی ایپ یا گیم کی صورت میں سامنے آتا ہے۔
    • کون بچے کے ذہن کو نشانہ بناتا ہے۔
    • اور کون خاموشی سے اس کی عمر، توجہ اور صلاحیتیں کھا جاتا ہے۔

دشمن کو پہچان لینا، آدھی جنگ جیت لینے کے برابر ہوتا ہے۔ الحمدللہ

اور والدین کے لیے بھی یہی پہلا قدم ہے۔

جب تک ہم یہ نہ جانیں کہ خطرہ کہاں سے آ رہا ہے، اس وقت تک ہم اپنے بچوں کی مؤثر حفاظت بھی نہیں کر سکتے۔ اور صرف دشمن کو پہچان لینا کافی نہیں، آئندہ اقساط میں ہم یہ بھی سیکھیں گے کہ اس سے محفوظ کیسے رہا جائے۔

لمحۂ فکریہ:

"ہر وہ چیز جو آپ کے بچے کی توجہ حاصل کرنا چاہتی ہے، ضروری نہیں کہ وہ اس کی بھلائی بھی چاہتی ہو۔"

آج اپنے آپ سے ایک سوال پوچھیے:

کیا میں جانتا ہوں کہ میرے بچے کی اسکرین پر سب سے زیادہ وقت کس چیز کو ملتا ہے؟

🔜 اگلی قسط:

انسان کے روپ میں شکاری

ہر شکاری بھیڑیا نہیں ہوتا۔۔

کچھ شکاری انسان ہوتے ہیں۔

وہ بچوں سے دوستی کرتے ہیں۔۔۔

ان کا اعتماد جیتتے ہیں۔۔۔

اور پھر خاموشی سے انہیں اپنے جال میں پھنسا لیتے ہیں۔

اگلی قسط میں ہم Online Grooming اور ڈیجیٹل دنیا میں موجود انسانی شکاریوں کے طریقوں کو سمجھیں گے، تاکہ والدین بروقت خطرے کو پہچان سکیں۔ ان شاءاللہ!

یاد رکھیے۔۔۔

ہم اپنے بچوں کو ہر وقت اپنی نظروں کے سامنے نہیں رکھ سکتے، لیکن ایسی تربیت ضرور دے سکتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی نگرانی کا احساس لے کر زندگی گزاریں۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں حق کو حق سمجھنے اور اس کی پیروی کرنے کی توفیق عطا فرمائے، باطل کو باطل سمجھنے اور اس سے بچنے کی بصیرت عطا فرمائے، ہماری اولاد کے ایمان، کردار، حیا اور عقل کی حفاظت فرمائے، اور ہمیں ان کی بہترین تربیت کرنے کی حکمت عطا فرمائے۔ آمین!

والسلام

آمنہ چاہل

(Life Skills Trainer, Islamic Life Coach)

تمام تحریریں

مزید تحریریں

ہمارے بچے ڈیجیٹل بھیڑیوں کے چنگل میں | جب محافظ آنکھیں بند کر لیں۔۔۔

ہمارے بچے ڈیجیٹل بھیڑیوں کے چنگل میں | جب محافظ آنکھیں بند کر لیں۔۔۔

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ڈیجیٹل دور میں مسلم والدین کے لیے ایک تربیتی سلسلہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان مبارک ہے: «كُلُّكُمْ رَاعٍ، وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ» "تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے، اور تم میں سے ہر ایک سے…

مضمون پڑھیں
حکمتِ گفتگو کے پانچ "ک" | حصہ دوم: پہلا "ک" :  کسے کہنا ہے؟

حکمتِ گفتگو کے پانچ "ک" | حصہ دوم: پہلا "ک" : کسے کہنا ہے؟

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ہم میں سے اکثر لوگ بولنے سے پہلے صرف یہ سوچتے ہیں کہ "مجھے کیا کہنا ہے؟" حالانکہ اس سے بھی پہلے ایک سوال پوچھنا چاہیے: "مجھے یہ بات کسے کہنی ہے؟" یہ سوال معمولی محسوس ہوتا ہے، مگر بہت سے…

مضمون پڑھیں
حکمتِ گفتگو کے پانچ "ک" : کسے، کب، کیا، کتنا، اور کیسے کہنا ہے؟ ( حصہ اول: زبان : نعمت بھی، آزمائش بھی)

حکمتِ گفتگو کے پانچ "ک" : کسے، کب، کیا، کتنا، اور کیسے کہنا ہے؟ ( حصہ اول: زبان : نعمت بھی، آزمائش بھی)

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم "میں نے تو صرف ایک بات ہی کہی تھی۔۔۔" یہ وہ جملہ ہے جو ہم اکثر اس وقت سنتے ہیں جب کوئی رشتہ ٹوٹ چکا ہوتا ہے، کوئی دل زخمی ہو چکا ہوتا ہے، یا برسوں کی محبت چند لمحوں میں نفرت میں بدل چکی ہوتی…

مضمون پڑھیں