جب ماں مصروف ہوئی تو تربیت کس کے ہاتھ آئی؟

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
ماں کی برین واشنگ کی گئی، اس کے مقام و مرتبے کو کم کرکے دکھایا گیا۔۔۔ اور پھر اس کی بنیادی ذمہ داریوں سے غافل کرنے کے لیے نت نئے پراجیکٹس، مختلف ایجنڈے اور رنگ برنگے آئیڈیاز متعارف کروائے گئے۔
کبھی جاب کے نام پر۔۔۔ کبھی بزنس کے نام پر۔۔۔ کبھی تعلیم و کیریئر کے نام پر۔۔۔
غرض، مختلف عنوانات کے ذریعے عورت کو اس قدر مصروف کردیا گیا کہ وہ اپنے گھر اور اپنی اولاد کی تربیت کے لیے مطلوب وقت اور توجہ ہی نہ دے سکے۔۔۔!
اور اگر عورت گھر سے باہر نہ بھی نکلی تو سوشل میڈیا نے اسے گھر بیٹھے مصروف رکھنے کے نت نئے راستے پیدا کردیے۔۔۔ اسے انفلوئنسر بننے، ہر لمحہ شیئر کرنے۔۔۔دکھانے۔۔۔ اور ایک مصنوعی مصروف زندگی گزارنے میں اس قدر الجھا دیا گیا کہ اب عمومًا ماں کے پاس اپنی اولاد کے دلوں میں جھانکنے تک کا وقت نہیں رہتا نہ ضرورت محسوس ہوتی ہے۔۔۔
سوال یہ ہے کہ پھر ہمارے بچوں کی تربیت کون کررہا ہے؟
وہی کردار جو ہماری نسلوں کے ذہنوں میں مسلسل اتارے جا رہے ہیں۔۔۔
کارٹون کریکٹرز، سپر ہیروز، ویڈیو گیمز کے کردار، ٹک ٹاکرز اور فسق و فجور سے لتھڑے ایسے انفلوئنسرز جن کے افکار و کردار ہماری دینی اقدار سے متصادم ہیں۔۔۔!
ہماری نسلوں میں بے دینی، فکری انتشار اور الحاد کا بڑھنا محض ایک اتفاق نہیں!
ہمارے بچوں کے ذہنوں اور دلوں کی تشکیل مسلسل مختلف ذرائع سے ہورہی ہے۔۔۔ یہ ایک فکری و نظریاتی چیلنج ہے، اور ہم میں سے بہت سے لوگ اس کی گہرائی کو ابھی پوری طرح محسوس نہیں کر رہے۔
عزیز بہنو!
میں یہ بات کسی الزام یا ملامت کے طور پر نہیں، بلکہ بہت دردِ دل کے ساتھ آپ کے سامنے رکھ رہی ہوں۔
آپ کی زندگی کے عظیم ترین مقاصد میں سے سب سے پہلی ترجیح پہ جو مقصد ہونا چاہیے وہ ہے آپ کی اپنی اولاد کی صالح تربیت۔۔۔
یہ دنیاوی آسائشیں، عیش و عشرت، شہرت اور چکاچوند آخر کب تک رہیں گی۔۔۔؟
آج ہمارے پاس وقت ہے۔۔۔ ہمارے بچے ہمارے پاس ہیں۔۔۔ ان کے دل ابھی تشکیل کے مرحلے میں ہیں۔۔۔
آئیے، اپنی توجہ اپنی نسلوں کو سنوارنے پر مرکوز کریں۔
ایسی نسل تیار کریں جو ہمارے بعد بھی خیر کا ذریعہ بنے۔۔۔
جو قرآن سے جڑی ہو۔۔۔
سنت سے وابستہ ہو۔۔۔
اپنے رب کو پہچانتی ہو۔۔۔
اور اپنے دین پر ثابت قدم ہو۔۔۔
ان شاءاللہ✨
کیونکہ اگر ہم اپنی اولاد کی صحیح تربیت کر گئے، تو ان کی نیکی، ان کا علم، ان کے صالح اعمال اور ان کی دعائیں ہمارے لیے ہمارے دنیا سے چلے جانے کے بعد بھی صدقۂ جاریہ بن سکتی ہیں۔
اور امید ہے کہ یہی صالح نسلیں قیامت کے دن بھی ہمارے لیے عزت و وقار کا سبب بنیں گی، ان شاء اللہ🌸
والله الموفق🤲🏻
🖋️ آمنہ چاہل
مزید تحریریں

عورتوں کا گھر سے باہر کام کرنا
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم Let's talk about your question now... We'll break it down in parts... Professional Lady... اسلام نے آپ کو جو حقوق دئیے ہیں ان میں یہ بھی شامل ہے کہ آپ کو رزق کمانے کے لیے دھکے نہ کھانے پڑیں…
مضمون پڑھیں →
علم بغیر عمل۔۔۔
بسم الله الرحمن الرحيم بارك الله فيك ✨ ایک بات سمجھیے کہ تبدیلی overnight نہیں آتی۔۔۔ البتہ ہمیں سیکھے گئے علم پر عمل کرنا ہے۔۔۔ کہ یہ علم روزِ قیامت ہمارے حق میں حجت بنے ، ہمارے خلاف حجت نہ بنے۔۔۔ اللہ تعالیٰ نے…
مضمون پڑھیں →
حکمتِ گفتگو کے پانچ "ک" (حصہ چہارم | تیسرا "ک" : کیا کہنا ہے؟)
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم اگر آپ نے صحیح شخص کا انتخاب بھی کر لیا۔۔ صحیح وقت کا انتظار بھی کر لیا۔۔۔ تب بھی ایک سوال باقی رہتا ہے: آخر کہنا کیا ہے؟ کیونکہ ہر وہ بات جو ہمارے دل میں آئے، زبان پر آنا ضروری نہیں۔۔۔ اور ہر…
مضمون پڑھیں →